مرد مجاہد کا پہلا قصیدہ


آج یا کل اسلام کے اس بطل جلیل کا نام سامنے آ جائے گا جس کی قیادت میں پاکستان ایک ایسی عالمی طاقت بن کر ابھرے گا جس سے پوچھ کر دنیا کے معاملات طے کیے جائیں گے۔ یوکرین اس سے مدد مانگے گا کہ روسیوں سے ہمیں بچاؤ۔ روسی اس سے درخواست کریں گے کہ نیٹو کو یوکرین سے دور رکھنے میں ہماری مدد کرو۔ امریکہ اس کی منت خوشامد کرے گا کہ چین سے کہو کہ ہم پر رحم کرے، یوں ساری تجارت ہڑپ مت کرے، ہم بھوکے مر جائیں گے۔ چین اسے کہے گا کہ امریکہ کو سمجھا دو کہ تائیوان سے دور رہے۔ بھارت پیر پڑے گا کہ کشمیر کیا جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن بھی لے لو مگر ہمیں معاف کر دو۔

انہوں نے موسیقی میں صرف پکے راگ سنے ہیں اس لیے انڈین فلمی گیت سننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ استاد گلوکاروں میں سے بھی وہ استاد بڑے غلام علی خان صاحب کے صرف وہی گانے سنتے ہیں جو انہیں بھارت بھیجنے سے قبل ریڈیو پاکستان نے نشر کیے تھے۔ ورنہ وہ صرف اسی کو مہان کلاسیکی گائیک مانتے ہیں جو پاکستان کا محب وطن شہری ہو۔

وہ انتہا کے کفایت شعار ہیں۔ گھی کی ایک کلو کی تھیلی میں پورا سال نکال لیتے ہیں۔ تھیلی کو ڈائننگ روم کے شو کیس میں تھیلی رکھ دیتے ہیں اور سب گھر والے اسے دیکھ دیکھ کر روٹی کھاتے ہیں۔ غیر ضروری درآمدی اشیا کے خلاف ہیں۔ اسی سبب چائے نہیں پیتے۔ دسمبر کے کڑکتے جاڑے میں بھی ٹھنڈی لسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک بھینس پال رکھی ہے جس کی سیاہ چمڑی ایسے چمکتی ہے جیسے اس پر خوب محنت سے پالش کی گئی ہو۔ مہنگی سبزی خریدنے کی بجائے تازہ توڑا ہوا ساگ پسند کرتے ہیں۔ ساگ بھی وہ خریدتے نہیں، بلکہ جس وقت وہ لنچ بریک میں اپنی بھینس چرانے کی خاطر چراگاہ میں لے جاتے ہیں تو راستے میں مالکان سے اجازت لے کر کھلیانوں سے توڑ لیتے ہیں۔

ان کو وراثت میں دو ایکڑ زمین ملی تھی۔ ایک ایکڑ پر وہ کنک اگا لیتے ہیں اور دوسرے پر چاول۔ سال میں دو بکریاں بھی پال لیتے ہیں۔ ایک کو عید پر قربان کرتے ہیں اور دوسری کو بقیہ سال گوشت کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یوں سال بھر کی روٹی، لسی، مکھن، اور ابلے ہوئے چاولوں کا گھر سے ہی بندوبست ہو جاتا ہے۔ ان کے گھر میں گوشت صرف عید پر اور گھر آئے مہمان کی تواضع کے لیے پکتا ہے۔ اپنے لیے تو وہ بغیر تڑکے کی پتلی دال اور ابلے چاول پسند کرتے ہیں۔ وہ ایک بہترین ٹریکٹر ڈرائیور ہیں۔ زراعت کے ماہر ہیں۔ اس وجہ سے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں فی ایکڑ دس گنا زیادہ پیداوار حاصل کر لیتے ہیں۔

وہ خود سے بڑوں کو بڑھ کر سلام کرتے ہیں۔ ہمکاروں کو گلے سے لگاتے ہیں۔ چھوٹوں پر شفقت کی نگاہ ڈالتے ہیں۔ انکساری اور عاجزی ایسی کہ لوگ مثال دیں۔ ان کے ادنیٰ ماتحت بھی بیان کرتے ہیں کہ ہم ان کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے سے ہی سیلوٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ مبادا ہم کمرے میں داخل ہوں تو وہ سبقت لے جائیں۔

انہیں سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ یک گونہ سی نفرت ہے۔ ان کے ایک جاننے والے کے جاننے والے کی خالہ کے ہمسائے بتاتے ہیں کہ وہ سیاست دانوں کا نام سنتے ہی ابکائی لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمارا کام آئین قانون پر چلنا ہے۔ سیاست صرف وہی کر سکتے ہیں جنہیں عوام نے اس کا مینڈیٹ دیا ہے۔

ہم اپنے پڑھنے والوں کو یہ یاد دلاتے چلیں کہ نہ ہمیں روحانیت میں دخل ہے، نہ کسی ولی اللہ سے واقفیت رکھتے ہیں، نہ ہی ہمیں افسران قضا و قدر سے معلومات ملتی ہیں۔ ہم نے تو بس اپنے خوابوں خیالوں کے مرد مجاہد کا نقشہ کھینچا ہے۔ بس یہ خیال رہے کہ تعیناتی کے بعد کے قصائد کہنے والے تو بہت ہوتے ہیں لیکن ہم نے تعیناتی سے پہلے قصیدہ کہا ہے۔ تعیناتی کے بعد قصیدہ کہنے والوں کی دیگ کے چند دانے حاضر ہیں۔

ہمارے قلم میں ایسی طاقت اور علم میں ایسی گہرائی تو نہیں کہ امیر حمزہ صاحب کی مانند لسان العرب سے حوالہ دے کر بتائیں ”الرحیل اسے کہتے ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک کے بعد دوسرا قدم اٹھانے میں اور چلنے میں بڑا مضبوط ہو۔ میں جب جنرل راحیل شریف کو دیکھتا ہوں تو انہی خوبیوں کا حامل پاتا ہوں جو ان کے نام کے معنوں اور مطالب میں موجود ہیں۔“

یا پھر قوم کو مطلع کریں کہ ”ہمارے نئے آرمی چیف کا نام قمر جاوید ہے۔ قمر عربی میں چاند کو کہتے ہیں۔ جس طرح چاند کے آنے سے پہلے اس کے طلوع کا انتظار ہوتا ہے، جنرل صاحب کی آمد سے پہلے بھی یونہی انتظار تھا اور ہر کان اسی خبر کی طرف لگا ہوا تھا۔ پھر جیسے چاند کے آنے پر عید ہو جاتی ہے، ان کے آنے پر ہمیں عید کی خوشی ملی۔ جاوید فارسی کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیشہ رہنے والا۔ جنرل صاحب اس عام چاند کی طرح نہیں جو ہر چند دن بعد پہلے چھوٹا ہوتا ہے پھر غائب ہو جاتا ہے بلکہ آپ ہمیشہ رہنے والے چاند ہیں۔“

ہم نہ تو دلوں کا حال جانتے ہیں اور نہ ہی جوتوں کا کہ یہ لکھ سکیں ”جنرل باجوہ جب راولپنڈی کی دسویں کور کے کمانڈر تھے تو ایک بار جب وہ جمعہ کی نماز سے پہلے وضو کر کے آ رہے تھے تو ان کے جوان کیا دیکھتے ہیں کہ جنرل صاحب اپنے بوٹ اٹھائے مسجد کے صحن میں چل رہے ہیں۔ جوان جوتے پکڑنے کو دوڑے مگر جنرل باجوہ نے جوتے نہ دیے اور جوانوں سے کہا، یہ میرا بوجھ ہے میں ہی اٹھاؤں گا۔ اصرار کے باوجود جوتے نہ دیے“

ہماری اولیا اللہ سے بھی سلام دعا نہیں اس لیے حضرت اوریا مقبول جان کی طرح ایسے خواب کی گواہی دینے سے بھی قاصر ہیں جو سچا ہو۔ ”انہوں نے وہاں اپنا ایک خواب سنایا کہ میں نے خواب میں رسول اکرم ﷺ کی محفل دیکھی جس میں حضرت عمرؓ فوج کے کسی ’باجوہ‘ جرنیل کو ساتھ لے کر آئے اور بیٹھ گئے، رسول اکرم ﷺ نے اسے کچھ عطا کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو جرنیل نے بائیں ہاتھ سے اسے لینا چاہا، جس پر حضرت عمرؓ نے بایاں ہاتھ پیچھے کر کے دایاں ہاتھ آگے کروایا اور رسول اکرم ﷺ جو کچھ عطا کرنا چاہتے تھے وہ دے دیا گیا۔ کیا عطا کیا گیا اس کے بارے میں صاحب خواب کو کچھ علم نہیں“۔

بعد میں انہوں نے بتایا تھا کہ فائل کی صورت میں حکم نامہ عنایت کیا گیا تھا۔ بعد میں خیر وہ کچھ بھی بتایا گیا تھا جو جگہ کی قلت اور خوف کی شدت کے سبب ہم یہاں لکھنا مناسب نہیں سمجھتے۔

اوریا مقبول جان: وہ خواب جو پہلے پکا مسلمان اور پھر گستاخ ہونے کی گواہی بنایا گیا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments