غلام علی: کم ووٹوں سے زیادہ نشستیں جیتنے کے ماہر اور مولانا فضل الرحمن کے سمدھی خیبرپختونخوا کے نئے گورنر


غلام علی
جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں پشاور شہر کے ایک چھوٹے سے مضافاتی حلقے سے کونسلر منتخب ہونے والے حاجی غلام علی خیبرپختونخوا کے نئے گورنر بن گئے ہیں اور یوں مرکز میں پی ڈی ایم کی حکومت بننے کے بعد سے جاری اس بحث کا آخر کار خاتمہ ہو گیا کہ حقدار ہونے کے باوجود حکومتی اتحاد صوبے میں گورنر کیوں نامزد نہیں کر رہی۔

اپنی نامزدگی کے فوراً بعد پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے حاجی غلام علی نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ آئین اور قانون کے مطابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھیں اور صوبے میں گورنر راج کی نوبت نہ آئے۔

حاجی غلام علی کا کہنا ہے کہ وہ خود کو پارٹی کے ساتھ ساتھ وفاق اور صوبے کے عوام کا بھی نمائندہ سمجھتے ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید نے بدھ کی شام حاجی غلام علی سے ان کے نئے عہدے کا حلف لیا۔

مولانا فضل الرحمن کے سمدھی

اسی کی دہائی ہی میں حاجی غلام علی قصہ خوانی بازار میں رسیوں کی ایک دکان کے مالک تھے اور بعد ازاں ایک ہوٹل کے بھی مالک بنے۔

سنہ 1986 ہی میں منتخب کونسلر کے طور پر جمعیت علمائے اسلام میں شامل ہوئے اور ابھی تک اس کا ہی کا حصہ ہیں۔
سب سے پہلے وہ پشاور میں پارٹی کی ضلعی تنظیم کا حصہ بنے اور جے یو آئی کی سٹی ڈسٹرکٹ کونسل کے جنرل سیکریٹری رہے۔

حاجی غلام علی کے بیٹے فیاض علی، مولانا فضل الرحمن کے داماد ہیں اور یوں حاجی غلام علی اور مولانا فضل الرحمن سمدھی ہیں۔

حاجی غلام علی کے ایک بیٹے زبیر علی پشاور کے میئر بھی ہیں، جنھیں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام نے اپنا امیدوار چنا تھا اور وہ اکثریت کی حامل تحریک انصاف جیسی مضبوط جماعت کو پچھاڑ کر میئر بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔

غلام علی

زبیر علی کی جیت کو لوگ ان سے زیادہ ان کے والد غلام علی کی انتخابات کے لیے ’اچھی حکمت عملی‘ بنانے کا نتیجہ کہتے ہیں جو خود بھی سنہ 2005 میں اے این پی سے تعلق رکھنے والے مخالف امیدوار ہارون بلور کی واضح اکثریت ہونے کے باوجود انھیں ہرا کر ضلع ناظم بنے تھے۔

دونوں بار ان کے مخالفین نے الزام لگایا کہ حاجی غلام علی نے پیسے کا بے دریغ استعمال کر کے مخالفین کو ہرایا تاہم وہ ہمیشہ اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت ضلعی نظامت کے لیے اے این پی رہنما بشیر احمد بلور مرحوم کے بیٹے ہارون بلور مرحوم کی نامزدگی اور جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد کی بدولت بھی اے این پی کے ووٹ پارٹی کو نہیں پڑے تھے، جس کا فائدہ حاجی غلام علی نے اٹھایا تھا۔

گذشتہ 36 سال سے حاجی غلام علی کے ساتھ قریبی رفاقت رکھنے والے پشاور کے سینیئر صحافی اشرف ڈار نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور شہر میں حاجی غلام علی سیاسی کارکن کے طور پر بہت فعال تھے۔

اشرف ڈار کہتے ہیں کہ حاجی غلام علی کو کم تعداد میں ووٹوں کے باوجود الیکشن جیتنے کا فن آتا ہے اور وہ اس کے لیے درکار تمام کام کرتے ہیں۔

’وہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر ہیں۔ نہ صرف سیاسی پارٹیوں بلکہ برادریوں اور عمائدین کو ساتھ ملا کر اپنا کام نکالنا ان کو خوب آتا ہے۔ ٹھنڈے دماغ کے مالک ہیں اس لیے کونسلر سے لے کر ضلعی ناظم اعلیٰ اور سینیٹر ہر پوزیشن میں کامیاب رہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ حاجی غلام علی کے ایک نوبیاہتا بیٹے کا ڈیرہ اسماعیل خان جاتے ہوئے ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔

اشرف ڈار کے مطابق کافی عرصے بعد پشاور شہر سے گورنر آیا ہے جو یہاں کے لوگوں کے لیے بہت خوش آئند ہے۔

غلام علی

’اپنے مخالفین سے کام نکلوانا حاجی غلام علی کا خاصہ ہے‘

صدر پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح حاجی غلام علی بھی نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور پشاور میں ایم پی ایز ہاسٹل کی موجودہ عمارت میں قائم سب جیل میں قید رہے، جہاں انھوں نے صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور دیگر کے ساتھ وقت گزار کر ان کے دلوں میں جگہ بنائی اور یہ دوستیاں اب بھی قائم ہیں۔

پشاور میں سینیئر صحافی کاشف الدین بھی حاجی غلام علی کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جمعیت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وہ مختلف مخالف سیاسی جماعتوں کی قیادت کے قریب بھی رہے ہیں۔

کاشف الدین سید کے مطابق نئے گورنر ہر پارٹی میں ہی دوست رکھتے ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں جبکہ سابق صدر زرداری کے تو یہ قریبی دوست ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سیاست کے میدان میں مولانا فضل الرحمن کے معتمد ساتھی ہونے کی وجہ سے بے نظیر کے دور حکومت میں ان پر الزامات لگے کہ وہ ڈیزل اور سٹیٹ بینک آف پاکستان سے نئے نوٹوں کے پرمٹ لینے کے سکینڈلز میں سب سے زیادہ نمایاں رہے۔

پارٹی مخالفین نے انھیں ہمیشہ مولانا فضل الرحمن کی رشتے داری اور ان دو سکینڈلز میں نام آنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

حاجی غلام علی کے بطور گورنر انتخاب کو بھی لوگ مولانا فضل الرحمن کے خلاف اس الزام کے طور دہراتے ہیں کہ وہ سب کچھ اپنے گھر اور رشتے داروں میں ہی بانٹتے ہیں۔ حاجی غلام علی اوران کے میئر بیٹے زبیرعلی کے علاوہ اس وقت مولانا فضل الرحمن کے ایک بھائی مولانا عطاالرحمن سینیٹر، ایک بھائی لطف الرحمن رکن خیبرپختونخوا اسمبلی، بیٹا مولانا اسعد محمود وفاقی وزیرمواصلات اور سالی ریحانہ اسماعیل رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔

حاجی غلام علی سنہ 2002 میں بی اے کی ڈگری کی شرط کی زد میں آئے اور پارلیمان سے باہر رہے پھر سنہ 2006 میں انھوں نے بی اے کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔

حاجی غلام علی کو صرف سیاست کے ہی داؤ پیچ نہیں آتے بلکہ وہ تاجروں و صنعتکاروں کی بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سیاست میں بھی کامیاب رہے ہیں۔

وہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے صدر رہے اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی چیمبر آف کامرس کے بھی مرکزی عہدیدار ہیں۔

حاجی غلام علی کا شمار اس وقت پشاور کے متمول افراد میں ہوتا ہے اور شہر میں لوگ کاروبار میں پیسے کمانے کے لیے ان کے نام کو استعارے کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26873 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments