قرآن، شعائر اسلام کا بنیادی درس اور ہم


ہم سب ہی قرآن اور اسلام کے درس پر زور دیتے ہیں، لیکن صرف زور دینے، سوشل میڈیا پر پوسٹیں شیئر کرنے کے علاوہ بھی کچھ ہو رہا ہے؟ ہم سب اس بات ہر متفق ہیں کہ حکومت اس کے لئے اقدامات کرے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں درجہ با درجہ اس کو نافذ کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔

کبھی کسی نے اس بات پر غور کیا ہے کہ ہم ذاتی طور پر اس میں کتنا حصہ ڈال رہے ہیں؟ اس کے لئے کوئی کاوش کر رہے ہیں؟

احباب گرامی قدر انتہائی افسوس کے ساتھ اس کا جواب ہے ”نہیں“ آج کے دور میں تو بالکل بھی نہیں۔ اب آج کے دور کا ذکر کرنے پر کچھ احباب ضرور شکوہ کناں ہوں گے ، آئیے کچھ ماضی کی بات ہو جائے، جو کہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے :

ہم نے بچپن میں جو کچھ دیکھا، اس میں قرآن کے درس کا آغاز گھر سے ہوتا تھا، جو کہ قرآنی قاعدہ پر مشتمل تھا۔ بنیادی اسلامی شعائر کا آغاز بھی اسی طرح ہوتا تھا جس میں درس قرآن کے بعد کلمے، نماز، ایمان مجمل و مفصل (آج کسی سے پوچھ لیں مجمل و مفصل کیا ہے؟ نہیں بتا پائے گا) وغیرہ شامل ہیں۔

اگر یہ سارے کام کسی گھر میں نہیں بھی تھے تو ہر محلے میں ایک یا دو گھر ایسے ضرور تھے جو بنیادی درس و شعائر کا فرض ادا کرتے تھے اور محلے کے تمام بچے اور بچیاں وہاں سے مکمل درس قرآن اور بنیادی شعائر سیکھ کر نکلتے تھے۔ اور یہ سب کچھ بلا معاوضہ ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ محلے کی مسجد کے امام بھی درس و تعلیمات کا فریضہ بخوبی انجام دیتے تھے۔

آج کل کے مادی دور میں چونکہ گھر والوں کے پاس مال و دولت کی فراوانی تو ہے لیکن ان چیزوں کے لئے وقت نہیں۔ پھر محلے کے وہ خاندان جو اس کارخیر کو ایک فرض سمجھ کر پورا کیا کرتے تھے وہ بھی اس سے ہاتھ کھینچ بیٹھے ہیں۔ اب ہم معاوضہ پر دینی اساتذہ کو گھر میں بلاتے ہیں اور بیشتر حضرات اپنا گھنٹہ پورا کر کے چلتے بنتے ہیں۔ اب دین گھنٹوں منٹوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ دین زندگی کا حصہ نہیں رہا۔

ایک بڑی عجیب سی مثال دوں گا جو کہ آج کے دور میں شاید بہت سے احباب کو بری لگے لیکن ماضی میں دین زندگی کا حصہ کیسے ہوتا تھا یہ اس کا احاطہ خوب کرتی ہے۔ ہمارے گاؤں بلکہ محلے کی مسجد کے امام صاحب مرحوم و مغفور (اللہ کریم انہیں اپنی خاص الخاص رحمتوں سے نوازے آمین) کبھی بھی، کسی بھی جگہ کسی بھی طالبعلم کو پوچھ لیا کرتے تھے، فلاں چیز سناؤ، فلاں دعا سناؤ وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ جو کچھ وہ سکھایا کرتے تھے اسی کا امتحان لیا کرتے تھے اور سب طلباء کو پتا ہوتا تھا کہ امام صاحب سے اگر سامنا ہوا تو ہو سکتا ہے وہ کچھ نہ کچھ پوچھ لیں۔ ان کا تھوڑا سا خوف، ڈھیر سارا ادب و احترام سب کو ملحوظ خاطر رہتا تھا۔

نہ وہ امام رہے، نہ وہ احترام رہا، نہ ہی وہ زماں رہا
ہم کیا تھے، کیا ہو گئے، کسی کو بھی نہ احساس زیاں رہا

اب دین کی پڑھائی ایک روٹین کا حصہ ہے، جو کچھ پڑھا جاتا ہے ہمارے گھروں میں کسی کے پاس نہ توفیق ہے اور نہ ٹائم کہ بچوں سے کچھ سن ہی لیں کہ کیا پڑھا۔ ہر قسم کی پڑھائی ٹیوشن ہو گئی ہے۔ دین بھی ٹیوشن پر ہے۔

ہم جب تک اس کا آغاز گھر سے یا محلے سے نہیں کریں گے، دین کے شعائر سے دوری بڑھتی رہے گی۔
ایک کالم میں کیا خوب جملہ پڑھا تھا:

”مذہب کے ساتھ سب سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ اسے اخلاق اور تزکیے سے الگ کر دیا گیا۔ اب وہ عصبیت ہے یا محض جذبات۔“

Facebook Comments HS