خمینی ڈاکٹرائن

1۔ جہان اسلام میں آیت اللہ خمینی وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان جمہوریت کی بات کی۔ آپ نے اسلامی جمہوریت کا نظریہ پیش بھی کیا اور کامیاب بھی۔ اس سے پہلے مسلمان علما، بادشاہوں اور ملوکیت کے لئے کتابیں لکھتے اور آمریت کو ہی دینی نظام کہتے تھے۔
بقول اقبالؒ:
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
امام خمینی ؒ نے دین اسلام کی روشنی میں آمروں اور بادشاہوں کی اطاعت کو حرام قرار دیا۔ اسی طرح آپ کے نزدیک تھیوکریسی بھی خلاف دین ٹھہری۔ آپ کے ہاں جس طرح بادشاہت و آمریت حرام ہے اسی طرح کسی دینی طبقے کا اسلحے اور طاقت کے بل بوتے پر برسر اقتدار آنا بھی غیر مشروع اور حرام ہے۔ آپ کے نزدیک دیندار لوگ بھی صرف اسی صورت میں حکومت کر سکتے ہیں کہ جب لوگوں میں انہیں مقبولیت حاصل ہو اور وہ عوام کی رائے سے منتخب ہو کر اقتدار میں آئیں۔
صرف حافظ قرآن، محدث یا فقیہ ہونے سے کوئی لائق اقتدار نہیں ہو جاتا۔ ایران میں جب عوام نے آپ کے نظریے کو قبول کیا تو اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت کا تختہ الٹ گیا۔ اس صورتحال نے ساری عرب ریاستوں اور بادشاہوں کو شکست و ریخت کے خوف میں مبتلا کر دیا۔ خوفزدہ بادشاہوں نے لوگوں کو اسلامی جمہوریت کے نظریے سے لاعلم رکھنے کی خاطر کافر کافر خمینی کافر کا نعرہ بلند کیا۔ ساتھ ہی اپنی اپنی بادشاہتوں کو بچانے کے لئے عراقی ڈکٹیٹر صدام سے ایران پر حملہ بھی کروا دیا تاکہ لوگ اسلامی جمہوریت کو سمجھنے کے بجائے شیعہ و سنی کے جھگڑے میں الجھ جائیں۔
بادشاہوں اور آمروں کی اس چالاکی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ایران تو ایک کامیاب اور با عزت اسلامی جمہوریت کا تجربہ کر رہا ہے جبکہ اس نظریے کو نہ سمجھنے والے آج بھی آمریت اور غلامی کے بدترین عہد سے گزر رہے ہیں۔ کہاں بادشاہت و آمریت اور تھیوکریسی کو عین اسلام کہنا اور کہاں بادشاہت و آمریت اور تھیوکریسی کو مسترد کر کے اسلامی جمہوریت کی بنیاد ڈالنا۔
2۔ آپ کا دوسرا اور نمایاں کارنامہ شیعہ و سنی کے اختلافات کو ختم کر کے متحد ہونے کی دعوت دینا تھا۔ آپ نے شیعہ و سنی مسلمانوں کے اتحاد کے لئے صرف زبانی کلامی دعوے نہیں کیے بلکہ اہل سنت اور شیعہ حضرات کے مفادات اور تحفظ کو بھی مساوی قرار دیا۔ چنانچہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر آپ کا موقف شیعہ و سنی فرقہ بندی سے بالاتر تھا۔ آپ نے ایک طرف تو یوم القدس منانے کا اعلان کیا اور دوسری طرف 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول تک مسلمانوں کے درمیان ہفتہ وحدت کو رائج کیا۔
اسی طرح مسلمانوں کو احترام باہمی کی ترغیب دی اور اہل تشیع کو اہل سنت کے مقدسات کا احترام کرنا سکھایا۔ آپ نے قلم و کتاب، محراب و منبر سے نفرت پر مبنی تحاریر و تقاریر، علاقائی و نسلی تعصبات سے مملو گالی گلوچ اور فرقہ وارانہ لعن طعن کے بجائے معقول انداز گفتگو کو متعارف کرایا۔ امام خمینی کے مقابلے میں فرقہ واریت کا مورچہ سنبھالنے والے تو آج استعمار کے نسل در نسل مقروض اور غلام ہیں لیکن امام خمینیؒ کا وطن ایران عزت و سربلندی کے ساتھ آج سارے شعبوں میں ترقی کر رہا ہے۔
3۔ امام خمینی کا تیسرا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے صدیوں سے مسلمانوں پر حاکم فرسودہ سوچ اور شکست خوردہ نظریات کا خاتمہ کیا۔ آپ سے پہلے مسلمانوں کے ہاں خصوصاً اہل تشیع کے ہاں یہ سوچ حاکم تھی کہ حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور سے پہلے اسلامی حکومت کے لئے قیام کرنا حرام ہے۔ آپ نے اس سوچ پر خط تنسیخ کھینچا۔ آپ نے اس کے بدلے میں یہ نظریہ دیا کہ اگر مسلمان ظالم بادشاہوں اور خائن حکمرانوں کے خلاف قیام نہیں کریں گے تو امام مہدیؑ کا ظہور بھی نہیں ہو گا۔ کہاں یہ سوچ کہ امام مہدی ؑ سے پہلے قیام کرنا گناہ اور حرام ہے اور کہاں یہ نظریہ کہ اگر قیام نہیں کیا تو امام مہدیؑ کا ظہور بھی نہیں ہو گا۔
مذکورہ بالا تین نکات﴿اسلامی جمہوریت، سنی و شیعہ اتحاد اور حرکت و فعالیت﴾ کو چھپانے کے لئے دنیا کی ساری طاقتوں نے اپنی طاقت امام خمینی کے نظریات کو روکنے کے لئے صرف کی۔
گزشتہ دنوں ایک روزنامہ نے ایک خبر کی یہ سرخی لگائی ”آذربائیجان اسرائیل میں سفارتخانہ کھولنے والا پہلا اہل تشیع ملک بن گیا“ ۔ اس سرخی میں سوچنے اور سمجھنے والوں کے لئے بہت کچھ ہے۔ یہ سرخی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی مخالفت شیعہ ہونے کی وجہ سے نہیں کی جا رہی۔ شیعہ تو آذربائیجان والے بھی ہیں، اور شیعہ تو شہنشاہ ایران بھی تھا۔ اگر ایران میں موجودہ اسلامی انقلاب ختم ہو جائے تو پھر اہل تشیع سے اسرائیل اور امریکہ کو کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔
پھر اپنی عددی اکثریت کی بنا پر ایسے شیعہ ایران میں برسر اقتدار آئیں گے جو موجودہ ایرانی حکومت سے بالکل مختلف سوچیں گے۔ مذکورہ روزنامہ کی مذکورہ سرخی بھی اس فرق کو آشکار کر رہی ہے۔ خمینی ڈاکٹرائن کے بغیر آپ اسلامی سیاست، فلسطین و کشمیر کی آزادی، اسلامی جمہوریت، اسلامی وحدت، اسلامی تہذیب و ثقافت، اسلامی بھائی چارے، اسلامی بینکاری، اسلامی فوج، اسلامی سوچ، اور حقیقی معنوں میں انسانی آزادی و رواداری کا خواب تک نہیں دیکھ سکتے۔ موجودہ صدی میں اس خواب کی تعبیر آپ کو صرف اور صرف خمینی ڈاکٹرائن میں ملے گی۔ کبھی وقت نکالے اور خمینی ڈاکٹرائن کا شیعہ و سنی سے ہٹ کر جائزہ لیجیے۔

