سندھ کے سپوت شہید خالد محمود سومرو!


29 نومبر کو سندھ کے سپوت سابو سینیٹر علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قتل کو 8 برس مکمل اور 9 واں سال شروع ہو جائے گا۔ ممتاز عالم دین، ایم ایم اے کے سابق سینیٹر علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو سندھ دھرتی کا مقدمہ لڑنے اور اسلام کی خدمت کے جرم میں سکھر کے گلشن اقبال مسجد میں دوران فجر کی نماز میں فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ سندھ میں جہاں آپ مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل اور سابق سینیٹر تھے اور ساتھ ہی سندھ کے حقوق تحفظ کے ترجمان اور سندھ دشمن منصوبہ کے خلاف صف اول کے فائٹر تھے۔

کیا 8 سال گزرنے اور 9 واں سال شروع ہوتے ہی انصاف مل سکا ہے۔ سندھ میں جہاں حکمران جماعت 2008 ع سے برسر اقتدار ہے، ان کے ہوتے ہوئے کوئی پرندہ پر بھی نہیں ہلا سکتا۔ 18 ویں ترمیم کے بعد رینجرز اور پولیس سمیت تمام تر اختیارات ہوتے ہوئے یہ قتل کیسے ہوا اور اس قتل میں آج تک انصاف نہ ملنا اور کیس کا ٹرائل سست روی کا شکار ہونا سوالیہ نشان ہے۔ جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، مولانا ناصر محمود سومرو کی جانب سے اپنے شہید والد کے قاتلوں کو سزا دلوانے، قتل کیس ملٹری کورٹ بھیجنے اور انصاف میں رکاوٹ کے خلاف کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے، دھرنے دیے گئے۔ روڈ بلاک کیے گئے اور جلسے منعقد کیے گئے ہیں مگر ایک سیاسی جماعت کے رہنما، سینیٹر اور سیاسی لیڈر کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی عام شخص بھی محفوظ نہیں ہے۔

اگر دیکھا جائے تو سندھ دھرتی بزرگوں، ولیوں اور اللہ والوں کی دھرتی ہے، جہاں علم حلم صوفی ازم اللہ والوں کی آمد کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی تبلیغ اور اطاعت ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ قدرت والے نے سندھ کو باب الاسلام کا درجہ عطا کیا اور لاکھوں ہستیاں آج بھی آرامی ہیں جہاں روزانہ ہزاروں لوگ دعا کے لئے حاضری بھرتے ہیں، سندھ دھرتی کا بیٹا دھرتی کا عاشق ڈاکٹر خالد محمود سومرو بھی اسی دھرتی کی مٹی سے پیدا ہوئے تھے، سرزمین سندھ لاڑکانہ میں 7 مئی 1959 ع میں مولانا علی محمد حقانی کے گھر بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام خالد محمود سومرو رکھا گیا۔

آگے چل کر ممتاز عالم اور لیڈر بنا، چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے ایم بی بی ایس کیا، ڈاکٹر بنے۔ اور مصر کی قدیمی یونیورسٹی الازہر سے ڈگری حاصل کی، سینٹ آف پاکستان کے ممبر سینیٹر بنے۔ سندھ کے حقوق کے ساتھ ساتھ اسلام کی سربلندی کے لئے جدوجہد کی۔ ایسا شمع دیا روشن چراغ 29 نومبر 2014 ع کو 9 سال قبل بجہاد یا گیا، ایک کھلتا ہوا پھول مرجھایا گیا، بات ہو رہی تھی سندھ کے سپوت عظیم فلاسفر، عالم با عمل، محقق، تواریخ دان، بہادر انسان کی جو ہمیشہ کسی بھی بات پر ڈٹ جاتے تھے تو کوئی اسے اپنے مقصد منزل سے ہٹا نہیں سکتے تھے، شاید اسی لیے اسے وقت سے پہلے زیر زمین بھیج دیا گیا۔

شہید خالد محمود سومرو عالم اسکالر شاعر ادیب تاریخ دان ماہر طب تھے۔ واقعی زندگی موت کی امانت ہے۔ اور ہر ایک چیز کو فنا ہونا ہے، لیکن کچھ لوگ اپنی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر جاتے ہیں۔ خالد محمود سومرو ایک ایسے موسم کی طرح تھے جو دلکش اور عجیب و منفرد تھی۔ جو کسی محبوب کی طرح بدلنا نہیں چاہتے۔ جس کے لئے دل دھڑکتا ہے، آج بھی جب سندھ پورا اور پاکستان اپنے پیارے پیارا قائد کو الفاظ آنسو اور سسکیوں سے یاد کر رہا ہو گا۔

تو ہم بھی کم از کم ان الفاظ کے ساتھ یاد رکھیں گے کہ۔ اگر آپ موسم بہار کی طرح بدل جاتے ہیں تو، آپ ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے ہیں لیکن ہم آپ کے شہادت کے 9 سال بعد بھی آپ کی شفقت پیار اور محبت کو نہیں بھول پاتے، لہذا اب آپ کی جدائی کی وجہ سے سکون سے سو نہیں سکتے۔ الفاظ کے ساتھ کیا حد یہ دیں یا اپنی اداسی کو آنکھوں سے اتاریں۔ سندھ کے یگانے عاشق کو چاہنے والوں کی طرح آپ نے بھی سندھ سے پیار کی حد پار کردی اور اسی عشق میں خون دے کر امر ہو گئے۔

مسجد خون میں آلودہ ہو گئی۔ جسم سے خون بہنا شروع ہو گیا، اور آپ بیہوش ہو کر نماز کی حالت میں شدید زخمی تھے ہسپتال پہنچتے ہی شہادت نوش فرمائی۔ آپ کی شہادت کی خبر نے سندھ سمیت ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ سندھ میں کوئی ایسا فرد یا خاندان نہ ہو گا جو سوگ میں مبتلا نہ ہوا ہو۔ جنازہ نماز میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ لوگ اپنے محبوب لیڈر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے شریک ہوئے۔

سامراجی قوتوں اور ان کے ایجنٹوں نے جس مقصد کے لئے سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو قتل کیا گیا تھا اس سے زیادہ شہید درجہ کے بیٹے علامہ راشد محمود سومرو، علامہ ناصر محمود سومرو اپنے شہید والد کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ شہید والد کی طرح پاکستان میں اسلام کے نظام کے نفاذ اور غریب عوام کے حقوق کے لئے صف اول میں کھڑے ہیں۔ سندھ کے حقوق کے لئے میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ سندھ میں جزیروں پر قبضہ ہو یا سرکاری زمینوں کی نیلامی ہو۔

معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہو یا خواتین کا قتل ہو، تعلیمی اداروں میں نمرتا، نائلہ رند یا نوشین شاہ کی لاشیں ملنے کا مسئلہ ہو، ہر جگہ سے راشد محمود سومرو آواز میں آواز ملاتے ہوئے گرجتے نظر آتے ہیں۔ راشد محمود سومرو اپنے والد سے بھی دو قدم آگے نکل چکے ہیں۔ خالد محمود سومرو کی شہادت کے بعد وہ سندھ میں اپنی جماعت کو متبادل کے طور لا چکے ہیں۔ سندھ میں ہونے والے جلسوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں عوام کی شرکت جے یو آئی اور شہید خالد محمود سومرو کے بیٹے پر اعتماد کا اظہار ہے۔ سندھ میں تازہ بارشوں اور سیلاب متاثرین کی جس طرح آپ نے مدد کی امداد کی ہزاروں افراد کے تین وقت کھانا فراہم کیا، راشن دیا اور نقد رقم دی گئی آپ کا یہ عمل قابل تعریف ہے۔ سندھ میں جزیرے پر قبضہ ہو یا بحریہ ٹاؤن کا ایشو ہو، پانی کی قلت کا ہو یا مہنگائی کا ہو۔ راشد محمود سومرو آپ کو خاموش نہیں ملے گا۔ جس طرح علامہ خالد محمود سومرو نے سندھ اور سندھی عوام کے حقوق کی بات کی اور شہادت نوش کر امر ہو گئے۔ سندھ بھی اب وہ احسان منا رہی ہے۔ امید ہے شہید خالد محمود سومرو رحہ کے فرزندان اپنے شہید والد کی طرح مستقبل میں بھی دین کے ساتھ دنیا، اسلام کے ساتھ سندھ پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS