عمران خان نے ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے شکست نہیں کھائی


تحریک انصاف کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ نامی ریلی کے ’پر امن‘ اختتام پر ابھی ملک کے عوام نے سکھ کا سانس نہیں لیا تھا کہ اعظم سواتی کو متعدد متنازعہ اور ہتک آمیز ٹویٹ کرنے کے الزام میں دھر لیا گیا اور اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست پر تحریک انصاف کے ضعیف مگر شعلہ فشاں لیڈر کو دو روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اب عمران خان سمیت تحریک انصاف کے لیڈر پاکستانی عوام کو حقیقی آزادی دلوانے سے پہلے اعظم سواتی کی رہائی کے لئے سینہ ٹھونک کر میدان میں آ گئے ہیں۔

اپریل میں اقتدار سے نکالے جانے کے بعد سے 26 نومبر تک پھیلے ہوئے چھے سات ماہ کے طویل عرصے کے دوران عمران خان ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھے۔ انہوں نے مسلسل عوامی رابطہ مہم چلائی، پھر اکتوبر کے آخر میں لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا جسے دیرینہ وعدوں اور دعوؤں کے مطابق اسی وقت ختم ہونا تھا جب موجودہ ’سازشی اور کرپٹ‘ حکومت کا خاتمہ ہوجاتا اور ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کیا جاتا تاکہ عمران خان دو تہائی تو کیا تین چوتھائی اکثریت لے کر پارلیمنٹ میں واپس آتے۔ اور ملک میں صدارتی نظام کے نام پر شخصی آمریت کی راہ ہموار کرتے۔ البتہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اگر گزشتہ روز ختم ہونے والی عمران خان کی سیاسی مہم جوئی کے اس دور کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ہفتہ کو فیض آباد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اب تک کا سب سے ہوشمندانہ سیاسی فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان نے ایک طرف احتجاج کی موجودہ شکل یا موجودہ دور ختم کرنے کا بالواسطہ اعلان کیا، اسلام آباد ’فتح‘ کرنے کا منصوبہ تج دیا اور عوامی سونامی کی بنیاد پر انقلاب برپا کرنے کا عزم سرد خانے میں ڈال دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے موجودہ ’بدعنوان نظام‘ سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ البتہ اس معاملہ میں بھی یہ احتیاط برتی گئی کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں کہ موجودہ بوسیدہ نظام بہر صورت زمین بوس ہو جائے اور حکومت کو کسی بھی حالت میں انتخابات کا اعلان کرنا پڑے۔ یعنی تحریک انصاف نے موجودہ نظام میں انہی رولز آف گیم کے مطابق ’کھیلنے‘ پر اتفاق کیا ہے جن کی بنیاد پر موجودہ نظام کام کرتا ہے۔ البتہ اسے ایک دلیرانہ چہرہ دے کر اپنے حامیوں کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ ’کپتان ہار نہیں مانتا‘ ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو حقیقی سپورٹس مین اور اصلی سیاسی لیڈر کی پہچان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ جب ہارے تو اسے تسلیم کرے اور اگلے مرحلے میں کامیابی کے لئے جد و جہد کا آغاز کرے۔ البتہ عمران خان کی لغت میں باتوں کو ذرا مختلف ڈھنگ سے بیان کیا جاتا ہے۔

یعنی ایک بدعنوان نظام سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے اس میں کیسے خود کو برقرار رکھنا ہے، یہ جاننے کے لئے دوستوں دشمنوں کو یکساں طور سے عمران خان کی 26 نومبر کی تقریر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم اسلام آباد کی طرف جا کر تباہی پھیلانے کی بجائے اسمبلیوں سے نکل رہے ہیں۔ اب مونس الہیٰ ٹویٹ میں اور ان کے والد پرویز الہیٰ میڈیا ٹاک میں سینے پر ہاتھ رکھے تابعداری کا اعلان کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ کپتان کا جب حکم ہو گا اسمبلی توڑ دی جائے گی لیکن کپتان تکان اتارنے بنی گالہ روانہ ہو گئے اور ابھی طویل مشاورت کے وہ مراحل باقی ہیں جن سے گزر کر ایک ’حقیقی جمہوrی‘ پارٹی کے طور پر تحریک انصاف بالآخر یہ طے کرے گی کہ اسے کب استعفے دینے ہیں اور آیا یہ کام اسمبلیاں توڑ کر کیا جائے گا یا اس کے لئے وہی پرانی حکمت عملی اختیار کی جائے گی جس میں ارکان کو تنخواہیں اور سہولتیں بھی ملتی رہیں لیکن کام بھی نہ کرنا پڑے۔ اس دوران یہ امکان بھی موجود رہے گا کہ اپوزیشن یا پھر حکومتی حلقوں میں سے ہی کوئی گروہ اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دے تاکہ وزیر اعلیٰ کے لئے آئین کی شق 112 کے تحت اسمبلی توڑنا ممکن نہ رہے اور یہ معاملہ اس وقت تک گھسٹتا رہے جب تک اگست ستمبر میں انتخابات کا وقت نہ آ جائے۔

اس معاملہ کے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور خیبر پختون خوا میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے گورنر موجود ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ صدر عارف علوی نے بدھ کے روز ہی حاجی غلام علی کو گورنر کے پی کے متعین کرنے کی سمری پر دستخط کیے ہیں۔ اب اگر ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی اپنی پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ مل کر ’قانون و آئین‘ کی حدود میں رہتے ہوئے کھیلنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسمبلی توڑنے کے لئے وزیر اعلیٰ کی ’درخواست‘ کو پندرہ روز تک روکا جاسکتا ہے اور اس کے موثر ہونے سے پہلے کوئی اعتراض لگا کر واپس وزیر اعلیٰ کو بھیجا جاسکتا ہے۔ یوں اسمبلی توڑنے کا عمل شروع ہونے کے بعد کم از کم پچیس روز ضائع کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی سیاست میں تو پل بھر کی خبر نہیں ہوتی۔ ایسے میں کون کہہ سکتا ہے کہ ان تین چار ہفتوں میں کیا وقوعہ رونما ہو جائے یا عمران خان کسی نئی قلابازی کے شوق میں خود ہی کوئی نیا یوٹرن لے لیں۔ نئے انتخابات اور آرمی چیف کی تقرری میں اپنی شرائط تسلیم کروانے کے مطالبات پورے نہ ہونے کے بعد سیاسی طور سے عمران خان کو کئی حوالوں سے مشکلات کا سامنا ہو گا۔ پہلے تو انہیں اپنی مقبولیت کو سنبھالنا ہو گا جو ایک کے بعد دوسرے بیانیے کے غلط ثابت ہونے کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے۔ تحریک انصاف کو اچھی طرح علم ہے کہ انتخاب جیتنے کے لئے صرف ہارڈ کور حامی ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ کسی بھی پارٹی کو انتخابی حلقوں کی مقامی سیاسی حرکیات کے مطابق حکمت عملی تیار کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض مضبوط نعروں کے ذریعے عوام کی اس اکثریت کو ساتھ ملانا پڑتا ہے جو براہ راست کسی ایک پارٹی کا حلقہ اثر نہیں ہوتا لیکن کسی لیڈر کی باتوں کی وجہ سے، ایک خاص انتخاب میں وہ اس کی طرف رجوع کرنے لگتی ہے۔

عمران خان نے اپریل کے بعد جو سیاسی مہم چلائی تھی، اس میں ایک مرحلے پر ضرور یہ لگتا تھا کہ عمران خان کا اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹبلشمنٹ نعرہ، انہیں غیرمعمولی مقبولیت دلوا رہا ہے۔ تاہم ایک تو ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور سیلاب کی شدید تباہ کاری کے ماحول میں شدید انارکی کا ماحول پیدا کر کے اور دوسرے ایک کے بعد دوسرے نعرے سے دست برداری کے سبب عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ عمران خان کی نیت، صلاحیت اور اہمیت کے بارے میں شبہات کا شکار ہونے لگا ہے۔ حکمران سیاسی جماعتیں ملکی سیاست میں پھر سے اپنی جگہ بنانے کے لئے کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھیں۔ عمران خان نے خود یہ موقع انہیں فراہم کیا ہے۔

حکومتی ترجمان یہ اعلان کرتے ہوئے اپنی غیر معمولی خوشی چھپا نہیں پا رہے کہ ’عمران خان ہماری حکومت گرانے آئے تھے لیکن اپنی ہی دو حکومتیں گرا کر چلے گئے‘ ۔ یہ سرکاری موقف ابھی نعرے ہی کی حد تک درست ہے۔ عمران خان نے ابھی اسمبلیاں توڑنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اگر وہ یہ فیصلہ کر بھی لیں تو ضروری نہیں ہے کہ حکمران جماعتیں عمران خان کی ایسی سیاسی چال کو عدم اعتماد کی کسی تحریک کے ذریعے ناکام بنا سکیں گی۔ یوں جلد انتخابات کا راستہ بہر صورت ہموار ہو سکتا ہے۔

آئندہ چار ماہ کے اندر ہونے والے انتخابات میں اب بھی تحریک انصاف کا پلڑا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں بھاری رہے گا کیوں کہ عمران خان نے اسٹبلشمنٹ کو للکارنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ یہ ایک ایسی چابی ہے جو پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال میں کسی بھی مشکل سیاسی مسئلہ کو حل کرنے میں تیر بہدف نسخے کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔ کسی سیاسی مہم میں اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ کی خدمات کا اعتراف کرنے پر مامور ہوں اور عمران خان اسٹبلشمنٹ کی سیاسی شعبدہ بازیوں پر بات کریں تو وہ ضرور عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

احتجاج کی ناکام سیاست کے بعد عمران خان کے لئے بہتر تو یہی ہو گا کہ وہ اسمبلیوں سے نکلنے کی بجائے قومی اسمبلی میں بھی واپس جانے کا فیصلہ کریں۔ لیکن موجودہ حالات میں اس بات کا امکان کم ہے۔ اگر عمران خان اب ایک ایسے سیاسی لیڈر کے طور پر سامنے آ سکیں جو ہٹ دھرمی اور من مانی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ڈائیلاگ اور تعاون کا راستہ اختیار کرنے پر تیار ہو تو ملکی سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔ فوج کی طرف سے غیر سیاسی ہونے کے اشارے دیے جا رہے ہیں لیکن ملکی سیاست میں فوج کی طویل تاریخ کے پس منظر میں کسی کو بھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ اس موقع پر اگر سیاسی پارٹیوں نے اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیا اور ملکی معیشت کے حوالے سے کسی نہ کسی سطح پر تعاون کا راستہ ہموار نہ ہوا تو فوج بدستور سیاسی معاملات سے لاتعلق رہ سکے گی۔

ایسے میں وزیر اعظم شہباز شریف کا ’میثاق معیشت‘ کا منصوبہ قابل توجہ ہے لیکن اس منصوبہ کو زیادہ واضح انداز میں سامنے لانے اور تمام سیاسی گروہوں کے علاوہ اہم اداروں کو بھی ساتھ ملانے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ کام عمران خان کی ایک پسپائی کو اپنی مکمل فتح سمجھ لینے کی غلطی کرنے سے ممکن نہیں ہو سکے گا۔ بلکہ حکمران جماعتوں کو تحریک انصاف کو اہم سیاسی حقیقت مان کر حکمت عملی تیار کرنا پڑے گی۔

ایسے ماحول میں جب تحریک انصاف اور حکمران سیاسی جماعتوں کو کوئی مشترکہ پلیٹ فارم تلاش کرنے کی ضرورت تھی، اعظم سواتی کو دوبارہ گرفتار کر کے تعاون، مفاہمت اور کسی طویل المدت قومی منصوبہ کے مقصد کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کسی لیڈر کی ایک تقریر یا چند ٹویٹ کسی ادارے یا مملکت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن اس طرز عمل سے نمٹنے کے لئے ریاستی طاقت کا بے جا استعمال وسیع تر مفادات کے لئے زیادہ مہلک ہو سکتا ہے۔ اس وقت بیان بازی، الزام تراشی اور تصادم کی بجائے زخموں پر پھاہا رکھنے اور سیاسی قبولیت کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ شدید معاشی مشکلات کا شکار ملک کو سیاسی بحران اور باہمی چپقلش کی وجہ سے کسی بڑی مشکل کی طرف نہ دھکیل دیا جائے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ عمران خان نے ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے۔ اسے ان کی مکمل شکست سے تعبیر نہ کیا جائے۔ جان لیا جائے کہ گیم ابھی آن ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2379 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments