روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں


طاقت کے سامنے اختیار عاجز ہے اور ہاں اختیار کے بغیر طاقت تباہی ہے، فرانسیسی صحافی

پاکستان کے سابقہ آرمی چیف آف اسٹاف اور فور اسٹار جنرل قمر جاوید باجوہ تین سال کی توسیع کے بعد 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ انہیں 2016 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاک فوج کا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا تھا، سابق وزیر اعظم عمران خان نے انہیں توسیع بھی دی۔ آرمی چیف کے ریٹائر ہونے کے بعد کون عہدہ سنبھالے گا اس پر کئی مہینوں سے سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں قیاس آرائیاں اور افواہوں کا راج رہا۔ پاکستانی سیاست میں کئی اتار چڑھاؤ آئے حکومت اپوزیشن میں بیٹھ گئی اور اپوزیشن حکومت کا حصہ بن گئی مگر گزشتہ ایک سال سے سب سے بڑا مسئلہ اور سیاست کا محور صرف اور صرف آرمی چیف کی تعیناتی کی خواہش رہی یہ کہنا بھی بجا ہے کہ سارے اصول وہیں سے طے ہوئے ہیں جہاں سے ہمیشہ ہوتے آئے ہیں۔

اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستانی فوج ہمیشہ ملک کی سیاست میں ایک اہم سیاسی قوت رہی ہے اس کا اعتراف جنرل باجوہ نے اپنے آخری الوداعی خطاب میں بھی کیا اور آئینی طور پر فوجی مداخلت کو غلط قدم قرار دیا تاہم انہوں نے اصلاحات کی جانب بڑھنے والے قدموں میں سیاسی جماعتوں کو بھی برداشت اور میانہ روی اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اور اب آخرکار اہم عسکری تعیناتیوں کا فیصلہ ہو گیا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف تعینات کر دیا گیا ہے۔

اس تعیناتی پر سینئر امریکی اسکالر مارون وین بام نے کہا ہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ طے کر کے سمجھوتے کا معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی کونسل کے بین الاقوامی تعلقات کی طرف سے شائع کیے گئے مضمون میں ایک اور امریکی دانشور اینڈریو گورڈن نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی امداد میں اضافہ کرے۔ دوسری جانب سینیئر امریکی اسکالر مارون وین بام نے واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے لیے لکھا کہ نئے آرمی چیف کی زیر قیادت اس بات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کہ فوج ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ طے کرا کر سمجھوتے کا معاہدہ کرانے میں کامیاب ہو جائے۔

انڈریو گارڈن نے لکھا کہ پاکستان کی مدد میں اضافہ کرنے سے امریکا اپنے اسٹریٹیجک مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کی ذمہ داریاں پوری کر کے جنوبی ایشیائی ممالک کو بحران سے نکالنے میں مدد کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہوتا کیا ہے۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اپنے حالیہ ایک بیان میں کہنا تھا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے۔ آئندہ فوج سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اور اگر ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم اور پاکستان کے باضابطہ قیام کے بعد سے پاکستانی فوج نے ملک کے سیاسی عمل کی تشکیل اور تعین میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو بھی حکومت کی قیادت کرتا ہے اس نے پاکستانی فوج کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے میں پہل کی۔ پاکستانی فوج میں اعلی ترین قیادت کے عہدے کی حیثیت سے پاکستانی آرمی چیف آف اسٹاف کا پاکستانی سیاست میں ایک تصوراتی اثر و رسوخ ہے۔ سیاست پر فوج کے اثر و رسوخ کی روایت ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ سماجی و سیاسی نظریات کی تاریخ میں تقریباً کسی بھی محقق نے سیاست میں فوج کے کردار کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا اس سوال کا جواب ارسطو، افلاطون، ایف نطشے، کے مارکس، ایم ڈوورگر اور بہت سے دیگر ادوار کے مفکرین نے دیا۔

لیکن زیادہ تر محققین نے اتفاق کیا کہ سیاسی دائرے کو ہمیشہ فوج پر غلبہ ہونا چاہے۔ اب جہاں تک ملکی سیاست میں فوج کا کردار ہے تو بلاشبہ یہ کہوں گی کہ سیاستدانوں نے ہی فوج کو سیاست میں اتارا ہے۔ عمران خان دور حکومت میں جب جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، محسن داوڑ اور علی وزیر کے علاوہ سب نے ووٹ دیا۔ گویا 342 اراکین اسمبلی میں سے 18 کے سوا سب نے ووٹ دیا۔

لہذا ریٹائرمنٹ 60 سال سے بڑھ 64 سال کر دی گئی۔ نیپولین بوناپارٹ کے مطابق جہاں بھی پارلیمنٹ کمزور ہوگی وہاں فوج کا راج رہے گا۔ فرانسیسی صحافی جیکس مارٹن کہتے ہیں طاقت اور اختیار دو الگ چیزیں ہیں، طاقت کے سامنے اختیار عاجز ہے اور ہاں اختیار کے بغیر طاقت تباہی ہے۔ کسی مفکر کا قول ہے جہاں جہالت اور طاقت یکجا ہوں وہاں انصاف قائم نہیں ہو سکتا ۔ ایک اور سکالر کے مطابق کسی بھی منتشر قوم کا پہلا علاج کرنسی کی افراط زر ہے اور دوئم جنگ۔

تاہم دونوں عارضی خوشحالی پیدا کرتے ہیں اور مستقل تباہی کا سبب بنتے ہیں، البتہ فائدہ سیاسی و کاروباری افراد اٹھاتے ہیں۔ ملک کے موجودہ معاشی صورتحال کی بات کریں تو جہاں تمام سیکٹرز کو معمول سے کم بجٹ دیا گیا وہاں فوج کے بجٹ میں مجموعی طور پر گیارہ فیصد اضافہ ہوا اور گزشتہ سال فوج کے لئے 7.5 ارب ڈالرز یعنی 1523 ارب مختص کیے گئے۔ خیر اگر انڈیا کے ساتھ موازنہ کریں تو وہاں بھی 9 فیصد اضافے کے ساتھ 70 ارب ڈالرز مختص کیے گئے۔

یوں امریکی دفاعی بجٹ 722 ارب ڈالرز، چین 237 ارب ڈالرز، سعودی عرب 10 فیصد کمی کے ساتھ 45 ارب ڈالرز، روس دفاعی بجٹ 2020 میں 48 ارب ڈالرز تھا جو اب 26 ارب ڈالرز ہوا، یوکرین نے حالیہ جنگ کے سبب اپنا دفاعی بجٹ 72 فیصد بڑھایا اور 8.2 ارب ڈالرز رکھا۔ اس اعداد و شمار کا مقصد محض یہ ہے کہ پاکستانی فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر پچھلے 15 سالوں میں درجنوں آپریشن کا آغاز کیا۔ ان آپریشنز میں ردالفساد، راہ نجات، ضرب عضب، المیزان، شیر دل، راہ شہادت، آپریشن زلزلہ و دیگر شامل ہیں۔

یوں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں اسی ہزار خاندانوں کے 9 لاکھ سے زاہد افراد بے گھر ہوئے، آپریشن راہ نجات کے نتیجے میں ستر ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، آپریشن باجوڑ یا شیر دل میں سات ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ طامس سنکارا جو کہ مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو کے صدر تھے کہا کرتے تھے کہ حب الوطنی سے مشروط سیاسی بصیرت و تعلیم کے بغیر سپاہی محض ایک خطرناک مجرم ہے۔ امریکی نامور سیاسی مبصر اور مفکر نام چوم سکء کہتے ہیں کہ بیشتر لوگوں کو پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اس خاص معاملے کے حوالے سے کیا فیصلہ لیا جا رہا ہے اور یہی صورتحال ہمارے سیاسی قیادت کی بھی ہے۔

برازیل کے معروف ماہر تعلیم اور فلسفی پاولو فرئیر اپنی کتاب (پالیٹکس آف ایجوکیشن) میں لکھتے ہیں ظالم اور مظلوم کی لڑائی میں خود کو نیوٹرل کہنے والا درحقیقت ظالم کا ساتھی ہے۔ ہاں طامس ہابس کہا کرتے تھے فیصلے ذہانت نہیں بلکہ اختیارات کرتے ہیں۔ لہذا جہاں اختیارات غلط لوگوں کے پاس ہوں، جہاں قیادت میں احساس ذمہ داری کے بجائے مجرمانہ غفلت ہو، جہاں قابلیت اور حب الوطنی کے بجائے خوشامدیوں پر مہربانیاں ہوں وہاں معاشرے قاتلوں، ظالموں اور سرمایہ داروں کی پیروی میں نکل پڑتے ہیں۔ نتیجتا عوام کا اپنی رہبری پر اعتبار ختم ہو جاتا ہے اور عسکری ادارے اہم ملکی فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں۔

اب چونکہ آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو چکا ہے اور قمر جاوید باجوہ بھی اپنے الوداعی خطاب میں فوج کی سیاست میں عدم مداخلت کا عزم بھرپور طریقے سے دہرا چکے ہیں اس لیے اب امید کی جانی چاہیے اس یقین دہانی کے بعد اداروں پر سیاست میں مداخلت کے الزامات کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ اب اپنا تمام تر فوکس ملکی مسائل کو حل کرنے کی طرف رکھیں۔ اور اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کریں۔ اور صدر عارف علوی کا بلا رکاوٹ سمریوں پر دستخط کرنا ایک مثبت عمل تھا۔ وہ فیض احمد فیض کا ایک شعر ہے نا روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اب عمران خان معیشت کو سنبھالا دینے اور جمہوریت کے استحکام کے لیے کھلے دل و دماغ کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کریں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments