ایتلاف: اردو نثری نظم میں خوبصورت اضافہ


آج جمعہ کا دن ہے۔ خوب چمک رہی دھوپ نے دسمبر کی ان اولین صبحوں کو خوشگوار بنا رکھا ہے۔ کچھ دیر پہلے دھوپ میں بیٹھے بیٹھے ”ایتلاف“ کو مکمل کیا ہے۔ اس قدر خوبصورت کتاب بہت کم پڑھنے کو ملی ہیں خاص کر جب بات نثری نظم کی ہو۔

اس کتاب کے مصنف ہمارے چکوال سے تعلق رکھنے والے ملک کاشف اعوان ہیں۔ کاشف اعوان کی لکھی گئی نثر رومانوی، تاریخی اور قدرت کی منظر کشی کے ساتھ ساتھ محبت سے لبریز ہوتی ہیں۔ یہ ان کا خاص انداز ہے اور اسی خاص انداز سے انھوں نے اپنی نثری نظمیں بھی لکھی ہیں۔ یہ ایک بے مثال کوشش ہے اور اس سے اردو زبان کی نثری نظموں کی دنیا میں ایک خوبصورت کتاب کا اضافہ ہوا ہے۔

میں کاشف اعوان کی تحاریر کافی عرصے سے سوشل میڈیا پر پڑھ رہا ہوں۔ میں سمجھتا تھا کہ کاشف اعوان کا تعلق تو چکوال سے ہے ہی لیکن وہ رہتے شاید کسی اور شہر میں ہیں لیکن پچھلے ہفتے ان کے آفس میں ہی ملاقات ہوگی وہ تو چکوال ہی رہتے ہیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔

ان کی نثری نظموں کی یہ نئی کتاب شاعری اور خاص کر نثری شاعری پڑھنے والوں کے لیے عمدہ مطالعہ ثابت ہو گی۔ مجھے اس کا یقین ہے اور یہ یقین مجھے اس میں بے شمار خوبصورت نظمیں پڑھ کر ہوا۔ ایتلاف نئے اور اچھوتے موضوعات اور خیالات پر مشتمل ہے۔ اس میں تاریخ بھی ہے، ثقافت بھی، رومان بھی اور سوچ کے نئے زاویے بھی۔

ایک بات اور ہے وہ یہ کہ میں مختلف شعرا غزل اور نظم پر مشتمل کافی کتابیں پڑھ رکھی ہیں لیکن ایتلاف میں کوئی اردو کے ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ جنہیں پڑھنا مجھے تو مشکل لگا۔ جس شعر کو ایک بار پڑھا اسے دوبارہ پڑھا تو اس کا الگ ہی مزہ تھا۔

کاشف اعوان نثر نگار تو بہت خوب ہیں ہی کہ ان کی تحریر میں ایسی جکڑ ہوتی کہ قاری خود کو اسی جگہ پاتا ہے کہ جہاں کاشف ملک اسے لے جانا چاہتے ہیں۔ عمدہ نثر کے بعد اب انھوں نے

اپنی خوبصورت نثری نظموں سے بھی قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔
اردو ادب کے قاری ”ایتلاف“ کو ضرور پڑھیں گے۔ ایک مختصر نظم پیش کر رہا ہوں۔
بدھا کا سٹوپا
سنو!
مجھے تم سے محبت ہے! ،
اتنا کہتے ہوئے
تمہیں صدیوں کی مہلت کیوں چاہیے؟
میں تمہارے لبوں کی جنبش کے انتظار میں
کٹاکشا کے مندر کی آخری چٹان پہ بیٹھا بیٹھا
بدھا کا سٹوپا ہو گیا ہوں۔

Facebook Comments HS