سویلین بالادستی قائم کرنے کا موقع؟


حال ہی میں ریٹائر ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے عسکری اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کے اعترافات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ملک کو ایک زبردستی کے سیاسی تجربے سے گزارا گیا اور قانون اور آئین کی پامالی کرتے ہوئے ایک ہائبرڈ نظام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور اس ادارہ جاتی خطا کے ارتکاب میں آئینی اور قانونی حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار بنایا گیا۔

پاکستان نے اس لغزش کی بھاری معاشی قیمت ادا کی مگر مداخلت کاروں نے اس ملکی نقصان کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ اس غیر آئینی اور غیر قانونی مداخلت کے ارتکاب میں حکومتوں کے حق حکمرانی کو ادارہ جاتی سطح پر تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور ادارے کے ترجمانوں کے ذریعے قانونی اور آئینی احکامات یا فیصلوں کو مسترد کرنے کے اعلانات بھی کیے گئے۔

اس سیاسی تجربے کو کامیاب کرنے کے لیے عدلیہ کے بازو مروڑ کر من مانے فیصلے حاصل کیے گئے۔ جسٹس شوکت صدیقی اور جج ارشد ملک کے بیانات اس عدالتی انجینیئرنگ کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔ اب تو عمران خان بھی اعتراف کرنے لگے ہیں کہ نیب پر ان کا اختیار نہیں تھا اور عسکری قیادت ہی اس بارے میں فیصلے کر رہی تھی۔ صحافیوں کو مرضی کے حقائق پر مبنی فائلیں دکھا کر کچھ سیاسی رہنماؤں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا ہاؤسز میں اپنے من پسند صحافیوں کے لیے زور زبردستی سے جگہیں بنوائی گئی اور ان کی مدد سے مرضی کا بیانیہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ آزاد صحافیوں کو اغوا کیا گیا، ان پر گولیاں برسائی گئیں، ان کے گھروں میں گھس کر ان پر حملے کیے گئے اور کچھ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

ان تمام کوششوں اور غیر آئینی کارروائیوں کے باوجود ہائبرڈ نظام نہیں چل سکا۔ معیشت زمین بوس ہوئی اور روپے کی قدر میں بے مثال گراوٹ آئی۔ عسکری اداروں اور ان کی منتخب سیاسی قیادت نے دس سال مل کر ملک پر حکمرانی کی باتیں کیں۔ ’ایک صفحہ‘ کی گردان نے سیاسی اداروں کی وقعت ختم کرتے ہوئے انہیں تقریباً مفلوج کر دیا۔ قانون سازی اور قانون ساز اداروں پر عسکری چھاپ اس قدر کھلم کھلا تھی کہ اسے چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی اور ان الزامات کی بھی کوئی تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ ایک عسکری افسر قومی اسمبلی کو چلا رہا تھا۔

اب تو عمران خان نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ ان کی حکومت اور پارلیمان عسکری ادارے اور ایجنسیاں چلا رہے تھے۔ وہی ارکان اسمبلی کو ایوان میں لاتے اور انہی کی مدد سے قانون سازی ہو رہی تھی۔

مگر جیسے ہمیشہ اس طرح کے انتظامات میں ہوتا ہے، بالآخر سیاسی قیادت اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی نازک طبیعت پر گراں گزرتی ہے اور اس طرح ان کے راستے جدا ہو جاتے ہیں۔ مگر اس دفعہ کی جدائی عسکری اداروں کے لیے زیادہ بھاری اور نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ عسکری اداروں نے کامیابی سے اب پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں سے محبت اور طلاق کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے اور اس دفعہ جس قدر بدنامی ان کے ہاتھ لگی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

کبھی عسکری رہنماؤں کے نام اس طرح عوام میں بے توقیر نہیں ہوئے جیسے اس دفعہ ہائبرڈ نظام کے ایک فریق نے انہیں رسوا کیا ہے۔ عوام میں عسکری قیادت کے خلاف نعرے بازی اور غصے کا اظہار کبھی اس طرح دیکھنے میں نہیں آیا۔ سوشل میڈیا میں تو طوفان بدتمیزی ہر قسم کی حدود پھلانگ چکا ہے۔ عسکری اداروں نے جوابی کارروائی کی کوشش تو کی اور پہلی دفعہ ڈی جی آئی ایس آئی کو اپنے ادارے کے دفاع میں پریس کانفرنس کرنی پڑی مگر عوامی اور سیاسی تنقید کی شدت میں کمی نہیں دیکھنے میں آئی۔

اس بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت اور عوامی مخاصمت کو دیکھتے ہوئے ایک اچھی حکمت عملی کے طور پر فوجی سربراہ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ فوج اب سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی اور اپنی سرگرمیاں آئینی حدود و قیود کے اندر رکھے گی۔ فوج کی ماضی کی سیاسی دلچسپی دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ قدم سیاست سے لاتعلقی کی بجائے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے طور پر اٹھایا گیا ہے جس کا مقصد عام عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنا ہے۔

اس قدم سے اس ارادے کے آثار نہیں دکھائی دیتے کہ یہ پسپائی مستقل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عوامی غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد سیاسی برتری جاری رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

سیاسی مداخلت کی غلطی کا اعتراف دیر سے سہی لیکن ایک اچھی ابتدا ہو سکتا ہے اور تمام سیاسی رہنماؤں کو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سویلین اداروں کی مضبوطی اور برتری کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اس وقت ایک کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور یہ سنہری موقع آئین کی بالادستی قائم کرنے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ عسکری قیادت بھی اگر اپنے ان اعترافات میں مخلص ہے تو اسے چاہیے کہ وہ سیاسی قیادت کو کسی دباؤ اور مداخلت کے بغیر کام کرنے کا موقع دے۔

پارلیمان اور دیگر سویلین ادارے اسی وقت کام کر سکتے ہیں اگر سول معاملات میں مداخلت مکمل طور پر بند کر دی جائے۔ ہم نے نے پچھلے مہینوں میں دیکھا ہے کہ صرف ایک عسکری ادارے کے سربراہ کے تقرر نے پورے ملک میں ایک ہیجان کی صورت پیدا کی۔ صرف ایک تقرری کی جنگ نے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی، بیرونی سرمایہ کاری نے ملک سے فرار اختیار کیا اور ملک ایک شدید قسم کے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار رہا۔

ہماری قومی سلامتی کے لیے اب ہمیں سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کو ایک معمول کے جمہوری معاشرے کے طور پر پنپنے کا موقع دیا جائے۔ سیاسی معاملات سیاسی قیادت کو دیکھنے چاہئیں اور عسکری قیادت صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری ادا کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عسکری اداروں میں موجود سیاسی سیل بند کر دیے جائیں اور سیاسی معاملات میں دراندازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ عسکری اداروں کو ذرائع ابلاغ عامہ کو قابو میں رکھنے کی ضرورت نہیں اور اس کام کے لیے وزارت اطلاعات کی مہارت میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن موجودہ سیاسی محاذ آرائی کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اس عسکری پسپائی کے باوجود سیاسی حالات میں بہتری کے امکانات دھندلے ہیں کیونکہ عمران خان اس بات پر مصر رہیں گے کہ اقتدار پر صرف ان کا حق ہے اور وہ کسی صورت باقی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھ کر سویلین بالادستی کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ موجودہ بحرانی صورت حال جاری رہے گی اور ہم سویلین بالادستی قائم کرنے کا یہ سنہری موقع بھی گنوا بیٹھیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments