میرا شوہر جنسی تشدد کرتا ہے


کیا سیکس اور ریپ میں فرق ہوتا ہے؟
کیا جنسی تسکین کی خواہش صرف مرد کی ہوتی ہے عورت کی نہیں؟
کیا خاتون ہر وقت جنسی عمل میں سے گزرنے کے لیے تیار رہتی ہے؟
جنسی تشنگی کے اثرات مرد اور خاتون کی صحت پر مثبت پڑھتے ہیں یا منفی؟
مشرقی معاشروں میں شادی دو دلوں کا ملاپ ہوتی ہے یا خاندانوں کا ملاپ؟
کیا ریپ صرف آؤٹ آف میرج میں ہوتا ہے یا شادی شدہ زندگی میں بھی ہوتا ہے؟
کیا آرگیزم کے بغیر جنسی عمل کو فیئر کہا جا سکتا ہے؟
کیا فور پلے اور آ فٹر پلے ایک صحت مند زندگی کا لازمہ ہوتے ہیں؟

یہ وہ بنیادی سوال ہیں جو انسانی زندگی کا اہم ترین پیکج ہوتے ہیں جن پر گفتگو کرنے کے علاوہ انہیں نصاب کا ایک اہم ترین حصہ بنانا بھی ضروری ہے۔ وہی معاشرے آ گے بڑھتے ہیں جو ہر طرح کے انسانی معاملات پر اوپن ڈسکشن کرتے ہیں، اسی لیے کھلے معاشروں میں انسانی جسم ایک عام یا نارمل سا مظہر سمجھا جاتا ہے اور لوگ جس مرضی لباس میں گھومیں پھریں کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ اس طرف کوئی خاص توجہ بھی نہیں دیتے۔ جبکہ ہم جیسے معاشروں میں انسانی جسم سے جڑی ہوئی حقیقتوں کو زیر بحث لانے سے ہی اجتناب برتا جاتا ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ

ہمارے ہاں برقعے میں بھی خاتون محفوظ نہیں ہوتی۔

اسی وجہ سے ہم بظاہر باپردہ ہو کر بھی بے پردہ ہی رہتے ہیں جبکہ کھلے معاشرے بے پردہ ہونے کے باوجود بھی باپردہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ذہن وسیع ہوتا ہے اور ان کے ضمیر پر خواہ مخواہ کا بوجھ بھی نہیں ہوتا اسی لیے وہ اپنی اوریجنیلٹی پر نادم نہیں ہوتے اور نا ہی انہیں چھپنا پڑتا ہے۔ ہمارے سماجی بندوبست میں خاتون کو ایک ”شیڈوئی“ سا کردار یا فرد سمجھا جاتا ہے جس کی اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور بچپن سے اس کے ذہن میں ایک بات فکس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ”اس کی زندگی میں کوئی ایک“ مرد ”آئے گا جو اس کی خوشیوں کی تکمیل کا سبب بنے گا“

یعنی بطور فرد وہ خود اپنے طور پر اپنی خوشیوں کو حاصل نہیں کر سکتی بلکہ کوئی ایک مرد آئے گا پھر اسے سب کچھ مل جائے گا۔ اس کے علاوہ زندگی کے ہر موڑ پر اس کی ذہنی کنڈیشننگ اس حساب سے کر دی جاتی ہے کہ بلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اسے ذہنی طور پر اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کہ

”مرد اس کی زندگی کا لازمہ ہے اور بطور فرد ذاتی حیثیت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے“ جب بچیاں جوان ہو جاتی ہیں تو ”پرایا دھن“ کا جملہ ان کے ذہنوں میں راسخ ہو چکا ہوتا ہے اور جیسے ہی ان کے حسین و معصومانہ خوابوں کا شہزادہ ان کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو ان کے سارے حسین سپنے ایک ہی جھٹکے میں چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ شادی کی پہلی رات ان کے خوابوں کا شہزادہ دل کے راستے اس کی روح میں اترنے کی بجائے ٹانگوں کے بیچ اپنی ذاتی راحت و تسکین کے راستوں پر چل پڑتا ہے۔

کیونکہ وہ شہزادہ جنسی گھٹن کا مارا ہوا ہوتا ہے اس کے سامنے شادی کا صرف ایک ہی اینگل ہوتا ہے کہ اپنی بیوی پر جنسی برتری کیسے ثابت کرنی ہے؟ اسی ذہنی خمار میں بدمست ہو کر وہ جنسی تشدد کرتا ہے اور اگلی صبح دوستوں کو اپنے جسم فتح کرنے کے جھوٹے سچے قصے سناتا ہے اور پھر یہی روٹین چلتی رہتی ہے۔ خوابوں کا یہ کھوکھلا شہزادہ روح میں اتر کر مثالی رفاقت قائم کرنے کی بجائے ٹانگوں میں گھس کر اپنا مقصد حاصل کرتا رہتا ہے اور چلتا بنتا ہے اس میں شاید اس کا اتنا کردار نہ ہو جتنا معاشرہ اور اس کی کھوکھلی اقدار کا ہوتا ہے۔ جب ہم جنس کے نام پر دو جینڈرز کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اور ان کے درمیان علیحدگی کی ایک دیوار کھڑی کر دیتے ہیں تو یہ ایک طرح سے اجنبیت کے کلچر کو فروغ دینے کا سبب بنتا ہے اور وہ ایک عجیب سے فوبیا کا شکار ساری زندگی رہتے ہیں کہ شاید دونوں کے مل بیٹھنے، گپ شپ کرنے، ساتھ پڑھنے اور ہنسنے بولنے سے جو نتیجہ برآمد ہو گا اس کی تان سیکس پر ہی ٹوٹے گی یا کچھ ایسا ہو جائے گا جو معاشرے کو ناقابل قبول ہو گا۔

ہم ایک طرح سے اپنے تئیں دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انجانے میں یا کھوکھلی اور بے بنیاد اخلاقیات کا بھرم رکھنے کے لیے دو افراد کے درمیان مثبیت کی بجائے منفیت کو فروغ دینے کا سبب بن جاتے ہیں جو کسی بھی طرح سے خاص کر آج کے دور میں انسانی معاشروں کو مساویانہ بنیادوں پر آگے لے جانے میں ممد و معاون ثابت نہیں ہو سکتا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں نے مرد یا خاتون کو ایک فرد تسلیم کرتے ہوئے ان کے شعور کو اہمیت دی اور ان کے درمیان علیحدگی کے بیرئیر کو ہٹایا ہے وہ معاشرے ترقی کے لحاظ سے بہت آگے جا چکے ہیں۔

انسان روشن خیال کیسے بنتے ہیں اور ان کا دماغ اوپن کیسے ہوتا ہے جب وہ دوسروں سے ملتے ہیں اور مختلف چیزوں کا مشاہدہ کرنے لگتے ہیں تو وہ ایک با اعتماد فرد میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ مضمون لکھنے کا مقصد میرے مدنظر دو ایسے کیس ہیں جنہوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا اور میں نے ضروری سمجھا کہ اس سوچ کو سانجھا کیا جائے۔ ہمارے علاقہ میں دو خواتین نے اس وجہ سے طلاق لینے کا فیصلہ کیا کہ ان کا شوہر جنسی تشدد کرتا تھا دونوں کی کہانیاں مختلف ہو سکتی ہیں مگر ما حاصل ایک ہی ہے۔ سب سے حیران کن اور خوفناک بات یہ ہے کہ یہ شادیاں صرف چند ماہ ہی چل پائیں اور معاملہ ایک ہی ہے جنسی تشدد۔

ان کا کہنا تھا کہ شوہر کو گھر آتے ہی سیکس کے علاوہ کچھ اور سوجھتا ہی نہیں تھا اور اس عمل میں چھٹی کا تو تصور ہی نہیں تھا، وحشی جانوروں کی طرح ہتھوڑے برسائے، اپنی تفریح کے لیے جسم نوچا اور چلتے بنے۔ یہ جاننے کی کبھی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ آپ کے پارٹنر کو روز بروز کا یہ جنسی عمل تسکین بھی دیتا ہے یا فقط اذیت دیتا ہے؟ کیا وہ روزانہ کی بنیاد پر اس عمل سے گزرنے کے لیے بخوشی ذہنی طور پر تیار بھی ہوتی ہے یا نہیں؟

کبھی یہ تک پوچھنا گوارا نہیں کیا کہ کیا ہمیں بھی جنسی تسکین ملتی ہے یا نہیں؟ آئے، گھسیڑا، خود جنسی راحت لی اور چلتے بنے پلٹ کر پوچھنا تو دور کی بات ہے۔ یہ کیسی آگ ہے جو کہ بھجنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ حتیٰ کہ ماہواری جو انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے شوہر سرکار کو اپنی پڑی رہتی تھی۔ کیا زندگی صرف سیکس کا نام ہے اور ہم صرف سیکس مشین؟ مضمون کے شروع میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان پر غور کرنا بہت ضروری ہے معاشرتی سطح پر ان سوالوں کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے یا لایا جاتا ہے؟

زندگی کی حقیقتوں سے اتنا بھی کیا شرمانا؟ وجود اور اس کے تقاضوں پر ایک سیر حاصل گفتگو کے علاوہ اس کے متعلق شعور و آگہی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ زندگی کے پیکج میں ہر عمل کی انفرادی اہمیت ہوتی ہے اور شادی شدہ زندگی میں سیکس کے چند لمحات کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ کامیاب شادی شدہ پیکج میں زندگی کے باقی معاملات کے علاوہ پارٹنرز کے درمیان جنسی ترجیحات کا تعین ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے اگر دونوں کی ذہنی کیمسٹری ایک پیج پر ہو ورنہ تو پھر یہ حادثاتی رشتہ اپنی افادیت شروع میں ہی کھونے لگتا ہے۔

ویسے بھی بند معاشروں میں شادی ایک اسٹیج ڈرامے کی طرح ہوتی ہے جس میں دو گواہان اور درجنوں باراتیوں کے سامنے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر خلع کے حق کو کراس کر کے دو اجنبیوں سے کیمرے کے سامنے دستخط لیے جاتے ہیں جبکہ آشنائی کا عمل بعد میں شروع ہوتا ہے۔ ایک رات کے سہارے ٹکا ہوا یہ بندھن نا جانے کتنی اذیتوں اور کرب میں سے گزرنے کے بعد سنبھلتا ہے، سنبھل جائے تو غنیمت ہے ورنہ جو بھی ہو گا اسے ”مقدر ہیں یا نصیب“ سمجھ کر جیسے تیسے نبھانا مجبوری بن جاتا ہے۔

جس کے نتائج سب سے زیادہ خواتین کو متاثر کرتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرتی بندوبست کے حساب سے شادی کے بعد خاتون گھر کی زینت بن جاتی ہے اور اس کا کردار گھر داری تک محدود ہوجاتا ہے، جس میں مشترکہ فیملی کے تمام افراد کی خدمت بجا لانے کے علاوہ بچے پیدا کرنا اور ان کے بالغ ہونے تک اکیلے ہی تمام چیلنجز کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ مرد کا کردار ہمارے معاشرے میں اوپن ہوتا دوسرے لفظوں میں کہیں تو اس کے اوپر کسی بھی قسم کا چیک نہیں ہوتا۔

جہاں چاہے جائے، جس سے ملنا چاہے ملے، آؤٹ آف میرج ایکسٹرا ریلیشن بنانا چاہے بنا لے اس کی مردانہ ٹھاٹ باٹ پر کوئی حرف نہیں آئے گا کیونکہ وہ راشن کا بندوبست جو کرتا ہے اور اوپر سے ٹھہرا مرد۔ ٹانگوں کے بیچ اس کا ”مردانہ استحقاق“ ہوتا ہے جسے جہاں چاہے استعمال کرے کیا فرق پڑتا ہے؟ جتنے مرضی چکر چلا لے اور اگر کسی چکر کا راز فاش ہو بھی جائے تو اسے یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ”مرد تو بس ایسے ہی ہوتے ہیں، مرد ہے تو ایسا ہی کرے گا نہ وغیرہ وغیرہ“

اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ گمراہ ہونا یا بہکنا صرف مرد کا استحقاق ہوتا ہے اس کے باوجود وہ مرد ہی کہلائے گا جبکہ دوسری طرف خاتون بہک جائے تو وہ ٹھہری بازاری، طوائف، چالو یا رنڈی۔ مشرقی معاشروں میں حادثاتی یا اجنبیت میں ہونے والی شادیاں معاشرتی جبر کا شاخسانہ ہوتی ہیں اسی لئے میاں بیوی کا رشتہ آقا اور غلام کی طرح کا ہوتا ہے اور یہی رویہ یا نظام مراتب جنسی تعلقات میں بھی عیاں ہونے لگتا ہے، اس قسم کے رشتے میں مرد تو جنسی تسکین حاصل کرتا رہتا ہے مگر خاتون صرف ”استعمال“ ہوتی رہتی ہے اور یہی زبردستی جنسی تشدد میں ڈھل جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں اس قسم کی درجنوں مثالیں موجود ہیں جس کا نتیجہ تلخی یا طلاق کی صورت میں سامنے آتا ہے لیکن زیادہ تر رشتے مجبوری یا معاشرتی جبر کی وجہ سے جیسے تیسے چلتے رہتے ہیں مگر اس ٹاکسک ریلیشن کے خطرناک ترین اثرات سب سے زیادہ خواتین پر پڑتے ہیں مرد کو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ مردانہ استحقاق کی وجہ سے اس کے پاس کافی آؤٹ لیٹ یا سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ہمارا معاشرتی المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے کھوکھلے اقدار کے نام پر بہت سے موضوعات کو شجر ممنوعہ کا درجہ دے کر سائیڈ لائن کیا ہوا ہے، یقین مانیں اس معاشرے میں بہت سی کہانیاں موجود ہیں اور بیان کرنے والے بھی ہیں مگر پارساؤں کے معاشرے میں کوئی بے شرم اپنا ماسک کیسے اتارے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments