نگر نگر پھرے بنجارہ
فرخ سہیل گوئندی کا شمار پاکستان کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کاغذ اور قلم سے رشتہ استوار کیا۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ وہ بہ یک وقت ادیب، سفر نامہ نگار، کالم نگار، اینکر اور تجزیہ نگار ہیں۔ ہر فیلڈ میں وہ منفرد مقام کے مالک ہیں۔ سرگودھا کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی اس نامور شخصیت نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ڈگری حاصل کی۔ ان کے دو عشق بہت مشہور ہیں، سیاست اور سیاحت۔ حیران کن طور پر یہ دونوں عشق کل وقتی ہیں۔ فیض صاحب کی نظم ”دو عشق“ سے چند مصرعے۔
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
فرخ سہیل گوئندی نے کسی عشق کو ادھورا نہیں چھوڑا۔ انہوں نے سیاست اور سیاحت کو ساتھ ساتھ نبھایا۔ ان کی سیاسی حیثیت سب کے سامنے ہے۔ میں اس پر بات نہیں کروں گی۔ میں تو ان کے دوسرے عشق سیاحت پر بات کروں گی، وہ بھی ”میں ہوں جہاں گرد“ ۔ خود کو جہاں گرد کہنے والے فرخ سہیل گوئندی کل وقتی سیاح ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موقع ملا اور سیر کر لی، کچھ شہر اور کچھ ملک دیکھ لیے، ایسا نہیں ہے، سیاحت ان کا جنون ہے۔ انہیں دنیا کو دیکھنا اور نئی سے نئی ثقافتوں کو جاننے کا جنون ہے۔
اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ محدود تر وسائل اور جنون کی حد تک جذبے کے سہارے وہ دنیاؤں کو کھوجنے نکلتے ہیں۔ ہوائی جہاز میں بیٹھے اور دوسرے ملک پہنچ گئے۔ اچھے سے اچھے ہوٹل میں قیام کیا۔ موسم کی مناسبت سے لباس خرید لیا۔ بن ٹھن کے فوٹو شوٹو بنوا کے واپس آ گئے۔ ایسا بالکل نہیں۔ انہوں نے محدود تر وسائل میں سیاحت کی۔ ایک ایک وقت کے کھانے کے لیے سستا ہوٹل، سستی رہائش کی تلاش۔ ٹریول گائیڈ بک خریدنے کی عیاشی تک دستیاب نہیں۔
ہر ہر موڑ پر سیاحوں کی رہنمائی والے کاؤنٹر سے مدد۔ مقامی لوگوں سے پوچھ گچھ کر کے اپنے سفر کو خوبصورت، فائدہ مند اس طرح بنانا کہ ہر قابل ذکر جگہ کی سیر بھی ہو جائے، یہ ان کا کمال ہے۔ سیاحت سے اگلا مرحلہ سفر نامہ لکھنا ہوتا ہے۔ سفر نامہ کو اردو ادب میں ایک باقاعدہ پاپولر صنف نثر سمجھا جاتا ہے۔ جہاں مستنصر حسین تارڑ، بیگم اختر ریاض الدین، ابن انشاء جیسے سفرنامہ نگار موجود ہیں، وہاں فرخ سہیل گوئندی ایک نئے انداز میں سفر نامہ لکھ رہے ہیں اور اس طرح اپنی ایک منفرد پہچان بھی رکھتے ہیں۔
سفر نامہ یا Travelogue میں دو تین چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ سفر کرنا اور منظر کو اپنی نظر سے دیکھنا اور اس منظر کو دوسروں کو دکھانا۔ منظر کو جتنی باریکی سے دیکھا جائے گا، اتنا ہی اچھے سے دکھایا جا سکے گا۔ فرخ سہیل گوئندی کا مشاہدہ بہت زیادہ ہے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی جزئیات کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور اتنی ہی مہارت سے بیان کرتے ہیں۔ جس ملک، خطے، شہر یا قصبے سے گزرتے ہیں، اس کے بارے میں باریک بینی سے بیان کرتے ہیں، اس لیے کہ ان کا ایک پسندیدہ موضوع سماج بھی ہے جو ان کے سفرنامے میں نمایاں طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔
سفر نامہ معلومات فراہم کرتا ہے، جس ملک یا قوم کا سفر کیا جائے، اس کی سیاسی، سماجی اور خاص طور پر تہذیبی صورت حال کو بھی سامنے لایا جاتا ہے۔ فرخ سہیل گوئندی نے اپنے اس سفر نامے میں ایران، ترکی، روس، اور یورپ کے نہ صرف آپس کے اشتراکات بتائے ہیں بلکہ تنازعات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ تہذیبوں کے درمیان تقابل بھی کرتے ہیں۔ یہاں ”میں ہوں جہاں گرد“ سے ایک مختصر سا اقتباس پیش خدمت ہے :
”ان دنوں ترکی میں جنرل کنعان ایوران کا خوفناک مارشل لاء نافذ تھا۔ دوغبایزیت اور یہ سارا خطہ کرد علیحدگی پسندوں کا گڑھ تھا۔ یہ ترقی کے قدیم روایتی دشمن روس کا سرحدی علاقہ بھی ہے۔ ترکوں اور روسیوں کے اختلافات کی تاریخ پانچ سو سال پر محیط ہے۔ روس میں اشتراکی نظام کے بعد اس اختلاف میں مزید شدت آ گئی، کیوں کہ ترکی سرد جنگ میں خطے میں امریکا کا سب سے بڑا اتحادی اور ناٹو میں فوجی تعداد کے لحاظ سے دوسرا بڑا رکن ہے۔ سرد جنگ میں اس مملکت ترکیہ کی سرحدیں، اشتراکی روس کے ساتھ ملتی تھیں اور اوپر سے کرد علیحدگی پسندوں کی تحریک کا نیا آغاز، جس کی قیادت علیحدگی پسندوں سٹالنسٹ مارکسٹ عبدااللہ اوجلان کرتا ہے، جسے سوویت یونین اور حافظ الاسد کے شام کی حمایت حاصل ہے، مسلح جد و جہد۔ یہ خطہ علیحدگی پسندوں کا گڑھ ہے۔“
ان کا سفرنامہ ”میں ہوں جہاں گرد“ اس طرح کی سیاسی، سماجی، تہذیبی اور تاریخی معلومات سے بھرا ہوا ہے، لیکن مجال ہے جو کہیں بھی یہ معلومات پڑھنے والے پر بوجھ بنتی ہوں یا اسے بوریت کا شکار کرتی ہوں۔
ترکی کا ذکر آیا ہے تو بتاتی چلوں کہ گوئندی صاحب کے پہلے عشق سیاحت کا ایک ذیلی عشق ترکی سے محبت ہے۔ ترک قوم کے بڑے لیڈروں کے ساتھ ان کے ذاتی نوعیت کے گہرے مراسم سے سب آگاہ ہیں۔ انہیں ترکی اور ترک قوم کا انسائیکلوپیڈیا بھی کہا جا سکتا ہے۔ سب باتیں اپنی جگہ، میرے لیے کسی بھی شخص کا لکھا ہوا سفر نامہ پڑھنے کا ایک ہی جواز ہے، وہ ہے اس کا دلچسپ بیان۔ پورا سفرنامہ پڑھ جائیے، کہیں بھی بوریت یا اکتاہٹ کا ذرا بھر بھی احساس نہیں ہوتا۔ اردو سفرنامہ نگاری کو انہوں نے ایک نئی جہت دی ہے۔ ان کی سفرنامہ نگاری تخلیق و تحقیق کا حسین امتزاج ہے اور ان کی مشاہدے کی آنکھ اس تخلیقی و تحقیقی کام کو منظر عام پر لانے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ میں اتنی شان دار کتاب پیش کرنے پر فرخ سہیل گوئندی صاحب کی شکر گزار ہوں۔



