باجوہ ڈاکٹرائن: ہر خواہش پہ دم نکلے


ایک وقت تھا جب عمران خان اس ملک کے وزیراعظم اور جنرل فیض ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ پاکستانی تاریخ میں عمران خان واحد سیاستدان ہیں فوج نے جن کی بائیس برس تک گرومنگ کی۔ آئی ایس آئی کے چار سابق ڈی جیز جنرل حمید گل ’جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل فیض حمید نے انہیں پاکستان کا تیسرا بڑا لیڈر بنا کر ملک سے زرداری اور شریف خاندان کی سیاست پر اجارہ داری کا خاتمہ مقصود تھا، اسی لیے عمران خان کی کھل کر حمایت کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کے بارے میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ وہ دوسری پارٹیوں کے بندے توڑ کر عمران خان کے حوالے کرتے رہے۔

عمران خان کی قسمت کا ستارہ اس وقت چمکا جب جنرل باجوہ نے اپنے پسندیدہ کرکٹر کے سر پر دست شفقت رکھا اور انہیں وزیراعظم کی کرسی تک پہنچایا۔ جنرل باجوہ نے عمران کے لیے چھڑی لہرائی، اور ریاست و سیاست کو اپنے سحر میں گرفتار رکھا۔ نواز شریف کو سیاست سے باہر کیا، عدالتوں کے بازو مروڑے، میڈیا کا ٹیٹوا دبایا، مثبت رپورٹنگ کرائی، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے سرکش راہ نماؤں کو نیب کے شکنجے میں جکڑا، اور عمران پروجیکٹ کو آگے بڑھایا، پھر یہ باور کرایا کہ ”باجوہ ڈاکٹرائن“ کے تحت یہ ہائی برڈ نظام اب کم از کم پندرہ سال تک چلے گا، باجوہ صاحب کے بعد فیض حمید، عمران کی کشتی کے ملاح ہوں گے اور ملک میں عملی طور پر یک جماعتی نظام رائج ہو گا۔ کہتے ہیں ”تدبیر کند بندہ تقدیر زندخندہ“ بندہ تدبیر کر رہا ہوتا ہے اور تقدیر ہنس رہی ہوتی ہے۔ عمران خان نے فوج کی تعیناتیوں میں مداخلت شروع کی تو فوج نے سیاست سے دست کش ہونے کا اصولی فیصلہ کیا عدم اعتماد نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ چھوڑ نا پڑی۔

باجوہ ڈاکٹرائن کا سود و زیاں کا احوال جنرل باجوہ کے اس اعتراف کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، کہ 70 برس فوج سیاست میں غیر آئینی مداخلت کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہی۔ یہ ایک برہنہ حقیقت ہے، البتہ باجوہ صاحب کی یہ بات تاریخی تناظر میں تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ سقوط ڈھاکہ ایک سیاسی غلطی تھی۔ کیوں کہ 1958 سے 1971 تک ملک میں فوجی ڈکٹیٹرز کے ون یونٹ، بی ڈی سسٹم اور صدارتی نظام تلے کسی سیاسی جماعت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا۔ اس دور میں حسین شہید سہروردی کو اپنے محب وطن ہونے کی دہائیاں دینی پڑیں، قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو غدار گردانا گیا۔ عوامی لیگ کو الیکشن جیتنے کے باوجود بھی حکومت نہیں دی گئی۔ یحیی خان نے مشرقی پاکستان میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کا اعلان کیا۔

بہر حال جنرل باجوہ کا تاریخ پاکستان میں یہ منفرد ریکارڈ رہے گا کہ انہوں نے چھ سال میں پانچ وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا، جن میں سے چار منتخب اور ایک نگران وزیر اعظم تھے۔ یوں اوسطاً ایک وزیراعظم کو سوا سال ملا، اس کا ایک ہی سبب فوج کی مداخلت تھی۔ فواد چودھری کا یہ بیان اگر فوج کے ساتھ معاملات خراب نہ ہوتے تو ہم اقتدار میں ہوتے اس کا ثبوت ہے۔ پاکستان میں اب تک وزرائے اعظم اور سیاست دان جرنیلوں کے ذریعے ہی اقتدار میں آتے اور جاتے رہے۔ عمران خان ایک پیج پر تھے لیکن آج وہ بھی اقتدار سے محروم وزرائے اعظم کی صف میں کھڑے ہیں۔

جنرل ضیاء ’جنرل اسلم بیگ‘ جنرل پرویز مشرف ’جنرل کیانی‘ جنرل راحیل اور جنرل باجوہ سب کے ساتھ وزرائے اعظم کے ایشوز ہوئے جو ان کی حکومتوں کی برطرفی پر منتج ہوئے۔ بینظیر بھٹو 1990 ء میں آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل سے اختلاف کی بنیاد پر گھر گئیں۔ نواز شریف ایک بار جنرل اسلم بیگ اور غلام اسحاق خان کی ڈکٹیشن لینے سے انکار پر گھر بھیجے گئے۔ بعد میں جنرل مشرف نے انہیں اٹک قلعہ پہنچایا اور سیاسی میدان سے دس سال کے لیے باہر نکال دیا۔ یوسف رضا گیلانی نے میمو گیٹ اور ایبٹ آباد آپریشن پر آرمی چیف جنرل کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا سے اختلافات پر سزا بھگتی۔

2017 ء میں نواز شریف کی عدالتی برطرفی اور جیل، آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ ڈان لیکس سے شروع ہونے والی چپقلش کا نتیجہ تھی جسے جنرل باجوہ نے آگے بڑھایا۔ پانامہ پر جی آئی ٹی بنی اور اقامہ پر نواز شریف وزارت عظمیٰ سے محروم ہوئے اور تا حیات نا اہل بھی قرار پائے۔ نواز شریف اور مریم نواز جنرل باجوہ اور جنرل فیض کا نام لے کر تنقید اسی لیے کرتے رہے کہ ان کو سزائیں دلوانے میں انہی کا کردار تھا۔ عمران خان ان دنوں جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں کا ہر جگہ دفاع کیا کرتے تھے۔

تحریک عدم اعتماد کے بعد وقت یوں بدلا کہ عمران خان نے ”سائفر“ لہرایا اور جنرل باجوہ کو میر جعفر کا خطاب دے ڈالا، اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداری پر کہا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں۔ اس پر جنرل باجوہ اور اسٹیبلشمنٹ زبان حال سے یہی کہہ سکی!

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
وہ بولنے لگے تو ہم ہی پر برس پڑے

عمران خان نے ایک طرف جنرل باجوہ پر میر جعفر کی پھبتیاں کسیں اور دوسری جانب وہ اسی میر جعفر کو چھ ماہ توسیع دے کر نئے الیکشن سے دوبارہ وزیراعظم بننے کے خواہش مند تھے۔ اب وہ اس نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے یہی مطالبہ کر رہے ہیں جنہیں عمران نے اس لیے ہٹایا کہ انہوں نے ان کی فیملی کے مشکوک معاملات پر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا تھا۔ عمران خان کی یہ خواہش پوری ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

اسے کیا کہا جائے کہ جنرل باجوہ اس حال میں رخصت ہوئے کہ آدھا ملک پہلے ہی ان سے ناخوش تھا، باقی آدھا بھی ناراض ہو گیا، نواز شریف، آصف زرداری کے حامی تو باجوہ صاحب سے اپنی ناراضی کا اظہار کسی قاعدے سے کرتے تھے، مگر عمران خان اور ان کے ساتھی تو باقاعدہ گالیوں پر اتر آئے، ان کی ریٹائرمنٹ والے دن بھی پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر دشنام آمیز ٹرینڈز چلائے۔

بلاشبہ صرف فوج ہی پاکستان کو اس نہج پر پہنچانے کی ذمہ دار نہیں ہے، وہ سیاست دان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جو جنرل سکندر مرزا کے ساتھ سازشوں میں شریک رہے اور فوج کو نیوٹرل، میر جعفر اور جانور کہہ کر سیاست میں زبردستی گھسیٹتے رہے۔ اسی طرح سول سوسائٹی اور نام نہاد سیاسی شعور کے دعوے دار بھی ذمہ دار ہیں جو جنرل سرفراز جیسے شہداء، وزیرستان اور مشرقی و مغربی بارڈرز کی تاریک راہوں میں جانوں کا نذرانہ دینے والوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ آخر ہماری اشرافیہ کب تک اناؤں کے گنبد میں مقید رہے گی اور اپنی غلطیوں کو ہنر گردانتی رہے گی۔ فوجی قیادت نے غلطیوں کا اعتراف کر کے ہمیں بھی راہ دکھائی ہے کہ سیاست دان اور عوام سب مل کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ماضی کی غلطیوں کا کفارہ پاکستان کو پہنچائے گئے زخموں پر مرہم رکھ کر ادا کریں۔

Facebook Comments HS