باجوہ ڈاکٹرائن، پراجیکٹ عمران اور ہائبرڈ رجیم کا المناک انجام۔ پارٹ 1۔

بظاہر 29 نومبر 2022 ء کا سورج طلوع ہوا تو پاکستان میں عسکری قیادت تبدیل ہو گئی لیکن اس کے ساتھ ہی سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ دوست اور دشمن بے نقاب ہو گئے دشمن میان سے تلواریں نکال کے سامنے آ گئے۔ اگرچہ 10 اپریل 2022 ء کو عدم اعتماد کے ووٹ نے ہائبرڈ رجیم کا خاتمہ کر دیا لیکن جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی جہاں باجوہ ڈاکٹرائن ختم ہو گئی وہاں پراجیکٹ عمران بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ یہ سیاسی اصطلاحات جنرل باجوہ کی 6 سالہ عسکری حکمرانی کے دوران رائج ہوئیں جبکہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے بعد پی ڈی ایم رجیم کو امپورٹڈ حکومت کا نام دینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
پچھلے 6 سال کے دوران کو عوام کا کوئی مسئلہ حل ہوا ہو یا نہیں لیکن سیاسی حلقوں میں ان نئی اصلاحات کا بڑی بے رحمی سے استعمال ہوا ہے۔ بظاہر کہیں فوج نظر نہیں آئی لیکن ہر جگہ باجوہ ڈاکٹرائن کا عمل دخل ہی نظر آیا ایسا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے ہائبرڈ رجیم ایک غیر مری قوت کے سائے میں چل رہا ہے۔ قدم قدم پر راولپنڈی سے عمران خان کی انگلی پکڑ کر چلانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی۔ پھر ایسا وقت بھی ایسا آیا کہ راولپنڈی والوں نے عمران خان سے مایوس ہو کر ہاتھ جھٹک دیا اور ان کو منتشر اپوزیشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ پھر اس کمزور لیکن دانا اپوزیشن نے دنوں میں عمران خان کی حکومت کو ہڑپ کر لیا۔ بعض لوگ اس تبدیلی کا کریڈٹ آصف علی زرداری کو دیتے ہیں لیکن میں عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ دیتا ہوں جنہوں نے جہاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو متحد کر دیا وہاں 2018 ء کو آر ٹی ایس بند ہونے کے نتیجے میں وجود میں آنے والے کم و بیش تمام چھوٹے چھوٹے گروپوں کو پی ڈی ایم کی جھولی میں ڈال دیا۔
عمران خان پچھلے 7 ماہ سے اقتدار کی واپسی کے لئے دیواروں سے ٹکریں مار رہے ہیں۔ بظاہر پورے ملک میں ان کی مقبولیت کا ڈھول بج رہا ہے۔ وہ مختلف سیاسی محاذوں پر شکست کے باوجود اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہی کے صاحبزادے مونس الہی نے باجوہ ڈاکٹرائن کو پول کھول دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل باجوہ نے نہ صرف پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا بلکہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے وقت مجھ سے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جائیں ان کے کہنے ہی پر ہم نے پی ٹی آئی کی حمایت کی اگر جنرل باجوہ عدم اعتماد کا حصہ ہوتے تو ہمیں کیوں اس طرف جانے جانے کا کہتے جنرل باجوہ نے پی ٹی آئی کی کے لئے بہت کچھ کیا اب وہ چلے گئے ہیں تو ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں جب تک وہ ان کو سپورٹ کرتا تھا تو ٹھیک ہے۔ اب وہ ٖ غدار بن گیا یہ بڑی زیادتی ہے۔ جنرل باجوہ تو عمران خان کے لئے دریاؤں کا رخ موڑ دیا تھا۔
مونس الہی کے بیان پر تبصرہ کی گنجائش نہیں گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا دی ہے۔ اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی لانگ مارچ عمران خان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو سرپرائز دینے کی بجائے اپنی دو صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی سزا دینے کا اعلان کر دیا سر دست دونوں صوبائی حکومتیں تحلیل کرنے کا فیصلہ کچھ دنوں کے لئے موخر کر دیا ہے۔ ہمارا سیاسی کلچر بن چکا ہے۔ جانے والے کو دشنام اور آنے والے کو سلام۔
تاحال عمران خان نے باجوہ ڈاکٹرائن جس نے ان کے مسند اقتدار پر بیٹھنا یقینی بنا یا ریٹائرمنٹ پر کوئی بیان نہیں جاری نہیں کیا تاہم ان کی بی ٹیم نے جنرل باجوہ پر طنز و تشنیع کی بارش کر دی ہے۔ عمران خان جلسے جلوسوں میں جنرل باجوہ کا نام لئے بغیر انہیں جن القابات سے انہیں نوازتے تھے۔ وہ اب ان کے حاشیہ بردار جنرل باجوہ کو القابات سے پکار رہے ہیں جب تک جنرل باجوہ کا اقتدار سوا نیزے پر تھا۔ کسی کو نام لے کر ان کو ملعون کرنے کی جرات نہیں ہوئی کل تک باجوہ کے گیت گانے والے آج ان کو اپنے اقتدار کے خاتمہ کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جب کہ مونس الہی نے پی ٹی آئی سے مختلف پوزیشن اختیار کر لی ہے۔
ہائبرڈ رجیم سے مراد ملک میں عملاً دو حکومتیں تھیں ایک حکومت اسلام آباد سے چلائی جا رہی تھی جب کہ دوسری راولپنڈی سے اسلام کی حکومت کو کنٹرول کر رہی تھی۔ پوری دنیا کو اس بات کا علم تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھے حکمران کے پاس کوئی بڑا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔ دنیا بھر سے فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے جنرل باجوہ بہ نفس نفیس خود دورے کرتے رہے۔ ویسے تو کافی عرصہ سے بیرون ملک سے آنے والے وفود راولپنڈی کا دورہ ضرور کرتے تھے لیکن جنرل باجوہ کے دور میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ اسلام آباد کی حکومت کی حیثیت ایک کھٹ پتلی سے زیادہ نہیں۔ عمران خان کے دور میں آزادی صحافت کا جس بے دردی سے گلہ گھونٹا گیا پوری دنیا اس سے بخوبی آگا ہے۔ اگر کسی صحافی کو قتل کر دیا جاتا یا اغوا ہو جاتا تو عمران خان اشارے کنائے میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ ان کو گرفتاری سے ان کا کچھ بھی لینا دینا نہیں راولپنڈی والوں سے پوچھیں۔
29 نومبر کو 2022 ء کو پاکستان آرمی کی کمان میں تبدیلی کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے سوشل میڈیا پر جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل کے ذمہ دار جنرل باجوہ ہیں۔ کم و بیش عمران خان جنرل باجوہ کو باس اور وہ ان کو باس کہہ کر پکارتے۔ شہر یار آفریدی نے تو ایک موقع پر جنرل باجوہ کو قوم کا باپ قرار دے دیا تھا لیکن پی ٹی آئی والے آج باجماعت اسی باپ کو گالیاں دے رہے ہیں۔
دونوں پارٹنر اور ایک ہی پیج کے الفاظ بکثرت استعمال کرتے تھے لیکن دونوں نے پیج کو اپنے پاؤں تلے روند کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ باجوہ ڈاکٹرائن ایک متنازعہ فلسفہ حکمرانی تھا جس کا مقصد مارشل لا لگائے بغیر پورے جمہوری نظام کو اپنی گرفت میں رکھنا تھا۔ بظاہر آئین اور جمہوریت کی حکمرانی کا ڈھنڈورا پیٹا جا تا رہا لیکن فسطائیت کا سانپ ریاست کے تمام اداروں کو ڈستا رہا جب کاٹھ کے وزیر اعظم نے وزیر اعظم بننے کی کوشش کی تو اس کی بیساکھیاں کھینچ لی گئیں عمران خان کو سیاسی مخالفین سے نمٹنے کے لئے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے اور وہ کوئی واردات کروا کر ہائبرڈ رجیم کے خالق کو ذمہ دار قرار دلوا دیتے 2018 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) مائنس ون کے فارمولے کو قبول کر لیتی تو پھر عمران خان کے سر پر وزارت عظمیٰ کا تاج نہ سجتا بلکہ عمران خان کی جگہ شہباز شریف نے لے لینی تھی لیکن شہباز شریف نے نواز شریف سے بے وفائی کر کے اقتدار حاصل کرنے کی بجائے قید و بند کی صعوبتوں کو قبول کر لیا۔
میں یہ بات دھڑلے سے کہہ رہا ہوں عمران خان جنرل باجوہ کی کبھی چوائس نہیں رہے۔ عمران خان کو اقتدار کے منصب پر بٹھانے کے لئے ہر جائز ناجائز حربہ اس لئے استعمال کیا گیا کہ نواز شریف اپنی جگہ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اگر نواز شریف مان جاتے تو پی ٹی آئی کی بجائے مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی۔ جب نواز شریف مان گئے تو دنوں میں شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ 2018 ء کے انتخابی نتائج مرتب کرنے والوں کو بھی داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ انہوں نے پارلیمان کی ایسی ہیئت ترکیبی بنائی کہ جب عمران خان اپنے آپ کو حقیقی وزیر اعظم سمجھنے لگیں تو ان کے پاؤں سے قالین کھینچ لیا گیا۔ وہ اپنی مرضی کا آرمی چیف بنواتے بنواتے خود بھی اقتدار سے محروم ہو گئے اور اسے بھی مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا (جاری ہے۔ )
