مجھے ڈبل کراس کیا گیا


”کسی نے شتر مرغ سے پوچھا : تم کیا ہو، شتریا پھر مرغ؟ اس نے جواب دیا : میں شتر (اونٹ) ہوں۔ پوچھنے والے نے پوچھا : تو پھر بوجھ کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس نے جواب دیا: کیونکہ میں مرغ (پرندہ) ہوں۔ پوچھنے والا بھی بڑا کائیاں تھا۔ اس نے پوچھا:اچھا! لیکن اگر تم مرغ ہو تو پھر اڑتے کیوں نہیں؟ اس نے جواب دیا: کیونکہ میں شتر ہوں۔ شتر مرغ کیونکہ نہ اڑ سکتا ہے اور نہ ہی وزن اٹھا سکتا ہے، لہذا اگر کبھی وزن اٹھانے کا وقت آن پہنچے تو وہ شتر کی بجائے مرغ، اور اگر اڑنے کی بات کی جائے تو وہ مرغ کی بجائے شتر بن جاتا ہے۔ یعنی نام بڑے بڑے لیکن کام دھیلے کا بھی نہیں لہذا شتر سے مرغ اور مرغ سے شتر تک کی اس گردان تادم مرگ جاری رہتی ہے“ ۔

ہاشو شکاری کی بات مکمل ہو چکی تھی۔ میں نے پوچھا : اس مثال کا مطلب؟ اس نے جواب دیا : کل اپنے خان صاحب کا ”ڈبل کراس“ والا بیان سنا تو مجھے فارسی ادب کی یہ کہاوت یاد آئی۔ میں نے کہا : یہ مثال دینا غلط ہے کیونکہ شتر مرغ قدرت کا ایک عظیم شاہ کار ہے، انسان کے جسم میں ایک چھوٹی سی پتھری بن جائے تو درد سے چیخیں نکل جاتی ہے لیکن یہ شتر مرغ ہی ہے جس کے معدے میں بیک وقت ایک کلو تک پتھر ہوتے ہیں، مانا کہ شتر مرغ اڑ نہیں سکتا لیکن ایک چیتے کی مانند تیز دوڑ تو سکتا ہے، اس ایک حوالے سے تو وہ تمام جانداروں سے منفرد ہے کہ اس کے تین معدے ہوتے ہیں، وہ باقی پرندوں کی طرح پیشاب اور بیٹ اکٹھے نہیں بلکہ الگ کرتا ہے، وہ خوراک چباتا نہیں بلکہ نگلتا ہے اور معدے میں موجود پتھروں کے ساتھ رگڑ رگڑ وہ اس خوراک کو پیستا ہے اور یوں اسے ہاضمے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، زیبروں کی شتر مرغ کے ساتھ بڑی دوستی ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ زیبروں کی نظر کمزور ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف ایک تو شتر مرغ کا قد اونچا ہوتا ہے او دوسرا، اس کی بصارت کمال کی ہوتی ہے، لہذا وہ بڑی دور تک دیکھتا ہے، جونہی کوئی شیر یا چیتا وغیرہ اپنی طرف آتا دکھائی دے وہ زیبروں کو بتا دیتا ہے اور یوں وہ اپنی جان بچا لیتے ہیں۔

میں سانس لینے کے لیے رکا تو ہاشو شکاری نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے مزید بات کرنے سے روکا اور بولا:مثال غلط کیسے ہو گئی؟ جب تمھارا کپتان سنگھاسن پر بیٹھا تھا تو اس کا کہنا تھا کہ سب کچھ میری مرضی سے ہو رہا ہے لیکن اب کہہ رہا ہے کہ مجھے ڈبل کراس کیا گیا، اس وقت کہتا تھا کہ ہمارا پیج سیم ہے لیکن اب اس نے پیج کو ”پیچ“ اور سیم کو ”شیم“ بنا دیا ہے، تب کہتا تھا کہ توسیع پاکستان کے وسیع تر مفادات کے لیے ضروری تھی اور اب کہتا ہے کہ توسیع دینا غلطی تھی، جو توسیع پاکستان کے مفاد میں ہو وہ کپتان کے لیے غلط کیسے ہو سکتی ہے؟

خدا نخواستہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کپتان اور پاکستان کے مفادات الگ الگ ہوں؟ اس وقت کہتا تھا کہ میرے پاس ایک ایسی ٹیم ہے جو پاکستان کو ترقی کے میدان میں اتنا تیز دوڑائے گی کہ پاکستان سب سے آگے نکل جائے گا اور عزت کی بلندیوں پر پرواز کرے گا لیکن اب سوال کیا جائے تو اس کا رویہ شتر مرغ کے جیسا ہے، پوچھا جائے کہ پاکستان دوڑا کیوں نہیں تووہ کہتا ہے کہ میں نے تو اڑانے کی بات کی تھی اور اگر یہ پوچھ لیا جائے کہ پھر اڑا کیوں نہیں تو کہتا کہ میں نے تو دوڑنے کی بات کی تھی، شتر مرغ کی طرح اس نے بھی سیاسی مخالفین کو زبان سے جواب کی بجائے پتھروں سے پیسنا پسند کیا، بات قرضوں کی ہو یا کرپشن کے سکینڈلز کی، اس میدان میں بھی اس نے شتر مرغ کی طرح سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے یعنی چبایا نہیں بلکہ نگلا ہے، پاکستانی معاشرے میں جو رواداری، شرم و حیا اور اخلاقیات کا ایک باب تھا اسے بھی نگل لیا اور ایسا نگلا کہ ڈکارا بھی نہیں۔

ہاشو شکار ابھی مزید کرنا چاہ رہا تھا لیکن میں نے اسے ٹوک دیا اور پوچھا:اس کا مطلب ہے کہ میری مثال غلط تھی؟ اس نے جواب دیا :ہاں لیکن دو حوالوں سے ٹھیک ہے، ایک ؛ مقتدرہ کپتان کو شتر مرغ سمجھ رہی تھی لیکن کپتان نے اس کی شتر مرغ جیسی دور رس نظروں کو استعمال کیا اور جب موقع آیا تو انھیں آنکھوں کو زمانے میں آنکھ ملانے ”جوگا“ بھی نہیں چھوڑا اور دوسرا ؛ مودی نے کشمیر ہڑپ لیا، عوام مہنگائی میں پستی رہی، دوا، آٹا، بجلی، گیس، ڈیزل، پٹرول اور نہ جانے کیا کیا ہوا لیکن کپتان شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دیے چین ہی لکھتا رہا۔ آخر میں ایک نئی غزل کے چند اشعار:

دل تھا خالی کسی نے بسنا تھا
خانہ خالی تھا کب سے، بھرنا تھا
اشک سارے وہ پی گیا تکیہ
تیرے شانے پہ جن کو بہنا تھا
یونہی لوگوں نے عید کر ڈالی
چاند کب تھا وہ تیرا گہنا تھا

ساری محفل ہوئی ہمہ تن گوش
گفتگو تھی یا کوئی جھرنا تھا
موت نے بھی وفا نہ کی ہم سے
مر نہ پائے جہاں پہ مرنا تھا
یوں تو آنکھوں نے کیا نہیں دیکھا
دیکھ پائیں نہ جن کو تکنا تھا
سب بلاؤں نے مل کے آنا تھا
اور کوثر نے تنہا لڑنا تھا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments