لسانی تنوع اور ثقافتی تبادلہ
پاکستان اللہ کی طرف سے دیا ہوا مختلف لسانی برادریوں اور ثقافتوں کا مشترک وطن ہے۔ کیونکہ یہ دیس ایک کثیر السانی اور کثیر الثقافتی ہے، اس میں تقریباً 69 سے زائد رنگ و نسل اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں۔ تاریخ پاکستان میں ان مختلف لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ہر ایک کمیونٹی کا اپنا ایک کردار ہے۔ ان لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے پاکستان بنانے کی سرگرمیوں میں شامل ہو کر دل و جان سے پاکستانیت کو قبول کر لیے ہیں اور اب ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں۔
پاکستان میں جتنے بھی زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں، ان کی یہ زبانیں اور ثقافتی میراث، پاکستان بننے سے بہت پرانی ہیں۔ یہ لوگ دنیا کے سامنے پاکستانی ہونے کے ساتھ اپنی ایک الک لسانی، ثقافتی اور علاقائی شناخت بھی رکھتے ہیں۔ ان کا اپنے اس شناخت کے ساتھ وابستگی صدیوں پرانی ہیں۔ وہ جتنی اپنی پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں اتنا ہی فخر وہ اپنے لسانی، علاقائی اور تاریخی شناخت پر بھی کرتے ہیں۔
اس طرح وہ اپنی روزانہ کی زندگی میں اپنی روایات اور ثقافتوں پر عمل بھی کرتے ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ریاست اور حکومتی سطح پر ان ثقافتوں اور زبانوں کی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود ان کی بنیادیں عوام میں اتنی گہری ہے، کہ یہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ کمیونٹی کے لوگ ان قومی ورثوں کو زندہ رکھنے اور اگلے نسل تک پہنچانے کے لیے اپنی سی کوشش بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں، معاشرے میں موجود گونا گونی کو قدرت کی طرف سے ایک تحفہ گردانا جاتا ہے ۔ اس تنوع کو برقرار رکھنے، معاشرے میں ان لسانی برادریوں کے درمیاں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مختلف قسم کے پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔ علاقائی، لسانی اور ثقافتی تہذیبوں کو اہمیت دی جاتی ہے، اس طرح یہ تنوع، ملک اور قوم کی مضبوطی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
پاکستان ایک کثیر السانی اور کثیرالثقافتی ملک ہونے کے باوجود یہاں پر رہنے والے، ان لسانی برادریوں کو آپس کی ثقافتوں اور لسانی کمیونٹیوں سے روشناس کرانے کے لیے کوئی پروگرام موجود نہیں ہے۔ ٹی وی سے لے کر ریڈیو تک، اخبارات سے لے کر یوٹیوب تک جانے انجانے میں کچھ مخصوص لوگ یک رنگی معاشرے کو اگے بڑھا رہے ہیں جو کہ قنوطیت اور لسانی گونا گونی کی ضد ہے۔ ملک میں یک رنگی پروگرام ترتیب دے کر ہمارے ارباب بست و کشاد سمجھ رہے ہیں کہ وہ پاکستانیت کو فروغ دے رہے ہیں، حالانکہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔
ان کے ان رویوں کی وجہ سے یہاں پر مختلف لسانی، کمیونٹی کے لوگ ایک دوسرے کی تحقیر کر رہے ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے پاکستان میں رہنے والے لوگ لسانی و ثقافتی طور پر ایک دوسرے سے واقف نہیں ہیں۔ ورنہ اگر کلچر ریلٹویزم ( (Culture relativism کے نظریے کو سامنے رکھ کر پاکستان کو دیکھیں، تو قنوطیت سے بھر پور یہ معاشرہ قدرت کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ ملک کے اندر یہ تنوع ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ اور اہمیت کے قابل ہیں۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے سے مختلف ثقافت کو اپنی نظر کی عینک سے دیکھیں گے تو یقینی طور پر وہ ہمیں عجیب لگے گا، لیکن اگر ہم اپنے سے مختلف ثقافت کو ان ہی کی ثقافت کی نظر سے اور ان ہی کی ثقافت کے نقط نظر سے جاننے کی کوشش کریں گے تب وہ اچھے طریقے سے سمجھ آئے گی اور پیارا بھی لگے گا۔
دنیا اب اس بحث سے اگے نکل چکی ہے، کہ کون سے زبان و ثقافت سے تعلق رکھنے والے مہذب اور کون غیر مہذب ہیں۔ بلکہ دنیا کو یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ان ثقافتوں کا مختلف ہونا قابل شرم نہیں بلکہ عظمت کی نشانی ہے، اور انسانوں کی زبان اور ثقافت ہونے کی حیثیت سے سب باعث افتخار ہیں اور کلچر ریلیٹویزم کا اصل مقصد بھی یہیں ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے سب لسانی برادریوں کو ساتھ ملا کر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے لیے کام کیا جائے۔ یہاں پر موجود ہر ایک لسانی کمیونٹی خواہ وہ تعداد کے حساب سے چھوٹی ہوں یا بڑی سب کو یکساں اہمیت دی جائے، اور ان کمیونٹیوں کو ایک دوسرے کی ثقافتوں سے روشناس کرایا جائیں، یہ ایک دوسرے کی ثقافتوں کے بارے میں جان سکیں تاکہ اس ثقافتی اور لسانی ہم آہنگی کو ملک کی استحکام کے لیے استعمال کیا جاسکیں۔ پھر پاکستان میں موجود ان ثقافتوں کو مثبت انداز میں دنیا کے سامنے لاکر اس ثقافتی رنگا رنگی کو استعمال کر کے لوگوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ٹورازم اور سیاحت کا فروغ ہوں۔ پاکستان میں حکومتی سطح پر یہ اقدامات اٹھا کر لسانی ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ جو درجہ زیل ہیں۔
پاکستان میں لسانی گونا گونی کو اہمیت دینے اور برداشت کی کلچر کو عام کرنے کے لیے یونیورسٹی سطح پر پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ پاکستان کے اندر رہنے والی مختلف لسانی اور ثقافتی گروہ ایک دوسرے کے بارے میں جان سکیں اور مختلف کمیونٹیز کے درمیاں ایک دوسرے کے لیے احترام پیدا ہوں۔ یونیورسٹی پروگرام میں کم از کم آخری سال کے طالب علموں کو ایک سمیسٹر اپنے سے مختلف علاقوں کے یونیورسٹیوں میں پڑھنے کا انتظام ہوں۔
مثال کے طور پر ایک طالب علم کراچی میں پڑھتا ہے تو اس کے لیے لازمی ہو کہ وہ ایک سمیسٹر خیبرپختونخوا کے کسی یونیورسٹی میں مکمل کر لیں، خیبر پختونخوا یونیورسٹی کے ایک طالب کے لیے یہ موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنے تعلیم کا آخری سال کا ایک سمیسٹر کراچی کے یونیورسٹی سے مکمل کریں۔ اس سے یہ ہو گا کہ یونیورسٹی کے طالب علم کے لیے مختلف ماحول میں رہ کر کچھ سیکھنے، اپنے سے مختلف ثقافتوں کو دیکھنے، اور مختلف لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا موقع میسر آئے گا۔ اس طرح سے پاکستان کے طالب علموں کو پاکستان میں موجود لسانی گونا گونی اور ثقافتی تنوع سے واقف ہو کر ایک دوسرے کی ثقافت کے لیے احترام کا رشتہ قائم ہو گا۔
پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک، ریڈیو پاکستان، ان جیسے قومی اداروں کو چاہیے کہ ان زبانوں اور ثقافتوں کے اوپر اردو میں پروگرام پیش کریں تاکہ لوگوں کو ان لسانی برادریوں اور ثقافتوں کے بارے میں اگاہی ہوں۔ پاکستان میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کے گائیک اور ان کے ادیب ہفتہ وار پاکستان کے قومی ٹی وی میں اکر اپنی زبان، لٹریچر اور ثقافتی ویلیوز کے بارے میں دوسروں کو آگاہ کریں۔ ان کی اپنی زبان میں ڈاکومینٹری اور مختصر دورانیہ کا پروگرام ہو، تاکہ ان زبانوں کو بھی پاکستان کے مین میڈیا میں نمائندگی مل سکیں۔ ان چھوٹی لسانی برادریوں کو یہ احساس ہو کہ وہ بھی پاکستانی ہیں۔
اکیڈمی ادبیات، لوک ورثہ جیسے اداروں کو بھی اسلام آباد کے پر آسائش دفتروں سے نکل کر چھوٹی کمیونٹیز سے رابطے کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ یہ ثقافت بھی ڈاکومنٹری اور تحریری شکل میں لوگوں کے سامنے آ سکیں۔ ان زبانوں میں اردو کے ساتھ ان کی اپنی زبانوں میں کتابیں اور رسالے شائع ہو، اور دیکھنے کے لیے ڈاکومنٹری موجود ہوں۔ تاکہ ان کمیونٹی والوں کو ان کی اپنی زبان میں پڑھنے اور دیکھنے کے لیے مواد موجود ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ ادارے اپنے سرگرمیوں کو بڑھائے اور اپنے اداروں میں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے نمائندوں کو شامل کریں۔
جو مختلف زبانوں اور ثقافتوں کی ترویج کے لیے پروگرام تشکیل دے۔ اس طرح پاکستان کے مختلف علاقوں کے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کی ثقافتوں اور زبانوں سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ ایک دوسرے کی ثقافتوں کا احترام بھی کریں۔ اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے مختلف لسانی اور ثقافتی برادری ایک دوسرے کی ثقافتی ویلیوز کا خیال رکھیں۔ Unity in diversity کے فارمولے کے تحت سب مل کر مملکت خداداد کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنی شناخت کے ساتھ اگے بڑھ سکیں۔


