اپنے بچوں کی مارکیٹ ویلیو خود کم نہ کریں


گزشتہ دنوں مجھے اپنے ایک عزیز کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ رسمی گفتگو کے بعد ان کے بچوں کے بارے میں بات ہونے لگی، والدین اپنے بچوں کے سکول کی کارکردگی اور رزلٹ کے بارے میں بتانے لگے۔ میں نے بچوں سے بات شروع کی تو ایک بچے نے میرے کسی سوال کا نہ جواب دیا اور نہ ہی میرے پاس آیا، اس پر بچے کی والدہ نے فوراً بچے کے متعلق پنجابی زبان میں منفی جملہ کہہ کر بتایا کہ یہ تو ہے ہی ایسا۔ بچوں کے ماں اور باپ دونوں موجود تھے۔

میں نے موقع کو مناسب جانا اور اپنے اندر کے ٹرینر کو قابو میں نہ رکھ سکا۔ میں نے بات کا یوں آغاز کیا کہ مجھے یہ بتائیں کہ جب آپ مارکیٹ میں کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں تو کیا کسی بھی سیل مین نے اس چیز کو آپ کو دکھاتے وقت یہ کہا ہے، یہ چیز بہت بری ہے آپ اسے کیوں خرید رہے ہیں؟ یا اس چیز میں موجود کسی نقص کے متعلق آگاہ کیا ہے؟

اس پر ماں اور باپ دونوں نے جواب دیا جی بلکہ نہیں بلکہ وہ تو خراب چیز کو بھی اس طرح بتا کر دیتے ہیں کہ جیسے اس جیسی کوئی چیز ہی نہیں۔

میں پھر پوچھا کیا وہ چیز سیل مین نے خود بنائی ہوتی ہے یا اس کی اپنی ہوتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ وہ صرف اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہوتا ہے۔ میں نے دونوں کو شاباش دی اور کہا کہ آپ نے بالکل صحیح کہا۔ دنیا بھر میں کوئی بھی سیل پرسن اپنی چیز کی خود مارکیٹ ویلیو کم کرنے کے لئے ان کی سر عام یا دوسروں کے سامنے برائی نہیں کرتا۔ لیکن دوسری طرف بہت سارے ایسے سیل پرسن ہیں جو اپنی ہی پیدا کی ہوئی اور پرورش (بنائی) کی ہوئی پروڈکٹ کی مارکیٹ ویلیو خود خراب کرتے ہیں بلکہ اس بھر پور منفی تشہیر کرتے ہیں۔ میں ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ صرف اپنی بات کو سمجھانے کے لئے کر رہا ہوں۔

بچے ہم والدین کی پروڈکٹ ہوتے ہیں۔ جی ہاں، بالکل یہ ہماری معاشرتی، معاشی، سماجی، مذہبی، روحانی اور نفسیاتی میراث ہوتے ہیں۔ یہ ہماری دنیا میں یادوں، باتوں، کاموں اور نسل کو زندہ رکھتے ہیں۔ آج کے تیز رفتار دور میں اولاد والدین کی سب سے بڑی، قیمتی اور نایاب دولت ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اس وقت نہ صرف ہمارا بلکہ دنیا بھر کا سب سے اہم اور مشکل کام ہے۔ بچوں کی تربیت میں سب سے اہم اور مرکزی کردار والدین کا ہے، اس لئے والدین بچوں کو اپنے سیلف امیج کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں۔

والدین کے اپنے بچوں کے بارے میں کہے گئے الفاظ بچوں کی شخصیت سازی کے لئے اہم پل کا کردار ادا کرتے ہیں اس لئے والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں بہت احساس ہونا چاہیے خاص طور پر جب وہ اپنے بچوں کے بارے میں دوسروں کو بتاتے ہیں یا دوسروں کے سامنے اپنے بچوں کے بارے میں بات کرتے ہیں، انہیں اپنے احساسات، جذبات اور الفاظ کا بہت سوچ سمجھ کر انتخاب اور استعمال کرنا چاہیے۔

اس کا ہر گز مطلب نہیں کہ آپ اپنے بچوں کے بارے میں بلاوجہ تعریفوں کے پل باندھ دیں بلکہ ان کے بارے میں منفی باتیں، ان کی کمزوریوں اور بری عادتوں کو ہر کسی کے سامنے مت شیئر کریں، بچے اس عمل کو بہت سنجیدہ لیتے ہیں اور اپنی ذات کے بارے میں منفی سوچتے ہیں۔ بچوں میں اگر کسی قسم کے منفی رویوں، بری عادتیں اور سوچیں پائی بھی جاتی ہیں تو انہیں کسی مناسب انداز، مناسب انسان کے ساتھ بات کریں اور ان کے حل پر زیادہ توجہ دیں۔

جب آپ یہ کام سب کے سامنے سر عام کرتے ہیں تو دوسرے لوگ بچوں کے بارے میں یہ تصویر بنا لیتے ہیں اور ان کی شخصیت کے ساتھ ساری زندگی یہ واقعات منسوب کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر گھروں میں ”پیار“ سے پکارے جانے والے نام جب باہر لوگوں کو پتہ چلتے ہیں تو وہ خود بچوں کے لئے شرمندگی کا باعث ہوتے ہیں۔ بچے آپ کی پہچان اور شان ہوتے ہیں اس لئے سب سے پہلے خود ان کی قدر کرنا سیکھیں، ان کی شخصیت کو سمجھیں اور ان کی رائے کا احترام کریں۔

آج اگر آپ اپنے بچوں کی قدر نہیں کریں گے تو کل کو آپ ان سے اپنی عزت کی توقع مت رکھیں۔ کیونکہ یہ دنیا میری اور آپ کی خواہشات پر نہیں معاشی اصولوں پر چلتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں آپ کے بچوں کی کامیابی ہی آپ کی اصل کامیابی ہے اور یہ کامیابی ہر کسی سے اتنی جلدی ہضم بھی نہیں ہوتی۔ اس لئے اپنے بچوں کی ناکامیوں اور کامیابیوں کو بھی دوسروں سے شیئر کرنے میں احتیاط سے کام لیں باقی کرنی تو آپ نے اپنی ہی مرضی ہے۔

Facebook Comments HS