پاکستان پیپلز پارٹی کی لاپرواہی


پاکستان پیپلز پارٹی ملکی حالات کے لئے سیریس لیکن اپنی پارٹی اور پارٹی قیادت کی عزت و احترام کے لئے اتنی لاپروا کیوں دکھائی دے رہی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے محترمہ شہید کے مجسمے کی تصویر جس کو کوئٹہ میں نصب کیا گیا ہے اس مجسمے کو لگانے کا مقصد محترمہ شہید کو عزت و احترام دینا تھا لیکن مجسمہ بنوانے والوں نے کسی اناڑی بندے سے مجسمہ بنوا کر جیالوں کے لئے باعث غصہ کا موقع بنا دیا۔ اس موقع پر جیالوں کے علاوہ پاکستان کا ہر عزت دار اور محترمہ کی شہادت کا درد رکھنے والا شہری سراپا احتجاج ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت سے لے کر صوبائی لیول تک کے عہدے دار بالکل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

جیسے ان سب کا حصول بڑے عہدے اور سرکاری پروٹوکول لینا ہی تھا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت و مقامی عہدے دار بہت ایسی باتوں کو اگنور کر چکے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا عوامی مینڈیٹ ختم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کرنے کی کوشش کے علاوہ جیالوں میں مکمل طور پر کامیابی سے تقسیم کا عمل بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود اعلی قیادت اور پارٹی ہر مسلط انکلز و بڑے عہدے دار اپنی ناکامی ماننے کو بالکل تیار نہیں اگر اب بھی پارٹی چیئرمین ایسی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیں گے اور عہدے داروں کو ان کی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے سختی سے نہیں کہیں گے اس وقت تک پاکستان پیپلز پارٹی والے جوڑ توڑ کی سیاست سے بھی چیئرمین کو وزیر اعظم بنوانے کا خواب چھوڑ دیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد کسی ڈرائنگ روم کی سیاست کو یا سوشلزم کو ختم کرنے کے لئے نہیں رکھی گئی اور آج پورے پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدے دار اس اصول کے برعکس چلتے ہوئے ڈرائنگ روم وڈیرہ شاہی کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے ہمدردی رکھنے والے جیالے آج بھی اپنی قیادت کے ساتھ کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر بی بی صاحبہ سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں اور سب کی ایک ہی آواز ہے کہ بلاول بھٹو اپنے نانا اور ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوامی سیاست کو ترجیح دیں اور عوامی رابطے کو جلد از جلد بحال کریں۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی کمان آصفہ بھٹو کو دیتے ہوئے ان کی سیاست کا آغاز اسلام آباد کی بجائے لاہور کی سڑکوں سے شروع کروائیں۔

جئے بلاول بھٹو بینظیر

Facebook Comments HS