پچاس فیصد خوشی
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ نیکی اور بدی کی کشمکش جو قلب انسان میں شروع دن سے ہے، جو اسے ہر لحظہ بے چین رکھتی ہے کیا کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور انسان اپنے لیے ایک واضح نصب العین کا تعین کر کے ایک چین کی موت نہیں مر سکتا۔ ہر چند ضمیر اور نفس کی آواز اسے محو سفر رکھتی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے چند امثال سے رجوع کرتے ہیں۔ ایک نو جوان جو اپنے والدین کو مذہبی رجحان کی وجہ سے قدامت پسند سمجھتا ہے اور خود نئے نظریات کا قائل ہے، کسی جذباتی حادثے ( جیسے کسی عزیز کی ناگہانی موت) پر خود بھی مذہبی خیالات میں گوشہ عافیت ڈھونڈتا ہے، مگر اس کا دماغ منطق اور استدلال کا قائل ہونے کی وجہ سے بے چینی کا شکار رہتا ہے، آپ نے کالج میں جو میجر مضامین پڑھے ہیں، آپ ان کے علاوہ مضامین پڑھنا بھی پسند کرتے ہوں گے اور عین ممکن ہے آپ کو چند موضوعات میں مہارت بھی حاصل ہو۔
جیسے ایک انجینئر کا میڈیکل شعبہ اپنانا، یا ایک ڈاکٹر کا لٹریچر میں دلچسپی لینا۔ انسانی ذات کو کسی ایک خول میں بند کرنا، اس پر بہت گراں گزرتا ہے اور وہ یکسانیت سے بوریت محسوس کرتا ہے۔ اسی بات کو اگر مولیکیولر بائیولوجی کی نظر سے دیکھیں تو ڈوپامین نامی رطوبت جو خلیوں اور نیورانز میں پائی جاتی ہے انسان کو کسی نئے تجربے پر سرشاری کی کیفیت سے سرفراز کرتی ہے۔ اسے اکثر لالچ کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے جیسے شراب یا سگریٹ کی لت میں مبتلا شخص مطلوبہ کش لگانے کے بعد ذہنی خلفشار سے چند منٹ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے مگر اس کے ہارمون الگ ہیں، جیسے سیروٹونین، انڈارفین اور اسے کنزومیٹری (consumatory behaviour) بھی کہا جاتا ہے۔
اگر آپ اپنی خود کلامی کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ تمام انسان مجموعی طور پر یکساں سوچتے ہیں جیسے نقصان، ناکامی پر طعن و ملامت اور، پریشانی کے وقت دعا اور سرشاری کے وقت عیاشی ( ڈوپامین اور سیروٹونین کے کمالات) اور سیلیبریشن کا احساس۔ انسان اپنے محدود وقت، وسائل اور صلاحیت کے ساتھ تصویر کا ایک رخ ہی انجوائے کر سکتا ہے، دوسرے الفاظ میں آپ آدھے رس گلے کو کھا سکتے ہیں، آدھا وقت اگر خدا راضی کرنے میں لگ گیا تو بقیہ آدھا وقت اپنے ساتھ ادھورے جذبوں کی تشنگی بھی لائے گا۔
بات ثقیل ہے لیکن یہ زندگی کی آسان سی سچائی ہے، آپ ادب پرستی میں گھنٹوں صرف کر دیں لیکن آپ کو ہر روز اپنے بد مزا پیشے کی بوریت جھیلنا ہوگی۔ مانا کہ آپ اپنے ڈریم جاب میں ہیں لیکن ہمیشہ تو رادھا نہیں ناچے گی، ہمیشہ تو آپ کے کلینک میں ایکسائٹنگ کیس نہیں آئیں گے۔ اس لیے اگر آپ کو کسی تقریب میں اچانک سے احساس ہو کہ کیسی بے کیف زندگی گزارتے آئے ہیں اور آنکھیں میچ لیجیے اور گہرے سانس لیں، لمحاتی ہیجان چاہیے کتنا ہی سہانہ کیوں نہ ہو زندگی گزارنے کے لیے بد مزا چیزیں ہی ضروری ہیں۔ جیسے پرہیزی خوراک آپ کو بیماریوں سے بچاتی ہے، پرہیزگاری اپنے ساتھ سیاہ و سفید کا تضاد بھی لاتی ہے۔ نہ آپ سارا سال گاجر کا حلوہ کھا سکتے ہیں اور نہ صرف کدو کریلے پر اکتفا ممکن ہے۔ بار بار توبہ کریں اور ہر بار توبہ توڑیں آپ کی زندگی کا رس برقرار رہے گا۔
اگر آپ نے چند مشاغل اپنائے اور اپنا وقت غارت کیا تو آپ نے چس بھی تو بٹوری جسے فی الوقت آپ شمار نہیں کر رہے۔ جیسے مجھے وقت ملے تو میں اچھے کارٹون، ٹیڈ ٹالکس (Ted Talks) سے لطف اندوز ہوتا ہوں، ہلکی پھلکی تحریر بھی چل جاتی ہے اور اچھی فلم بھی دیکھنا پسند کرتا ہوں، ورزش اپنی جگہ لیکن میٹھے کی گنجائش نکل ہی آتی ہے، گیمز کھیلنا ایک لغو سرگرمی ہے، لیکن ریسنگ گیمز مجھے ہمیشہ سے پسند ہیں۔ چند دن بعد مولوی یاترا بھی کر لیتا ہوں، انگریزی کا دائرہ بہت وسیع ہے، کلیئر قرآن ( جو ایک انگریزی با محاورہ ترجمہ ہے ) اور انجیل پاکستان میں کتنے ہی کتب خانوں پر دستیاب ہے۔ انٹرنیٹ کی مدد سے آج ہر کتاب آپ کی پہنچ میں ہے۔
ہم انسان ایسے ہی ہیں جو چیز ہمیں پسند ہو ہم اسے حلال طیب ثابت کر کے چھوڑتے ہیں اور نہ پسندیدہ اشیاء کے لئے ضخیم بیاض تک کھنگال ڈالتے ہیں۔ یہاں ہر انسان اپنے محدود ٹائم میں پچاس فیصد ہی حاصل کر سکتا ہے، اور جو غیر معمولی کامیابی پاتے ہیں، اس کی بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو آزما کر دیکھ لیں۔


