شیخ رشید احمد کا اپنی محسنہ بیگم نجمہ حمید کی وفات پر 35 سیکنڈ کا ”عجب پرسہ“

عارضی دنیا میں جو بھی آیا ہے ایک دن اس نے جانا ہے کوئی پہلے اور کوئی بعد اپنی اپنی باری پر ابدی دنیا کی طرف لوٹ جانا ہے بعض شخصیات گمنامی کی زندگی بسر کر کے چلی جاتی ہیں کچھ شخصیات اس دنیا سے جاتے وقت اپنے گہرے نقش چھوڑ جاتی ہیں جو سالہاسال قائم رہتے ہیں۔ کوئی میدان سیاست میں نام پیدا کرتا ہے اور فنون لطیفہ میں۔ کوئی عالم دین کی حیثیت سے لوگوں کو راہ راست پر لانے کا فریضہ انجام دیتا ہے اور کوئی درس و تدریس کے شعبہ میں ہزاروں طالبعلم اپنے ورثہ میں چھوڑ جاتا ہے جو اپنے استاد کا نام بلند کرتے ہیں۔
سینیٹر بیگم نجمہ حمید شمار بھی ان خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف سماجی اور سیاسی شعبہ میں اپنا نام پیدا کیا بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا ان کا تعلق جنوبی پنجاب ( ملتان) کے سید خاندان سے تھا بیگم نجمہ حمید 18 مارچ 1944 ء سید محمد شاہ کے گھر پیدا ہوئیں۔ سید محمد شاہ کا شمار جنوبی پنجاب کے ممتاز صنعت کاروں میں ہوتا تھا وہ جننگ فیکٹریوں کے مالک تھے قیام پاکستان سے قبل سید محمد شاہ ایک انگریز کی فیکٹری میں جنرل منیجر تھے۔
سید محمد شاہ کی سات بیٹیاں تھیں ایک بیٹی بچپن میں ہی وفات پا گئیں بیگم نجمہ حمید چوتھے نمبر پر تھیں جب کہ بیگم طاہرہ اورنگ زیب پانچویں نمبر ہیں اس وقت صرف بیگم طاہرہ اورنگ زیب اور بیگم ثریا بقید حیات ہیں۔ قسمت بیگم نجمہ حمید اور ان کی بہن بیگم طاہرہ اورنگ زیب کو پوٹھوہار لے آئی بیگم نجمہ حمید کی 1962 میں شادی کشمیری النسل عبد الحمید سے ہو گئی جب کہ کچھ عرصہ بعد بیگم طاہرہ اورنگ زیب کی شادی مری کے لینڈ لارڈ راجہ کالا خان جن کے نام سے راولپنڈی میں ڈھوک کالا خان آباد ہے کے صاحبزادے راجہ اورنگ زیب ہو گئی اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور دونوں بہنوں کی رہائش گاہیں ایف بلاک سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک دوسرے سے چند قدم کے فاصلے پر ہیں۔
دونوں بہنوں نے میدان سیاست اور سماجی بہبود کے کاموں میں خوب نام پیدا کیا ہے میونسپل کارپوریشن راولپنڈی سے کونسلر کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سیاست پر ان کا ستارہ چمکنے لگا بیگم نجمہ حمید پنجاب کونسل کی رکن بنیں پھر تین بار پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں صوبائی وزیر رہیں انہیں دوبارہ سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل ہوا جب کہ بیگم طاہرہ اورنگ زیب تیسری بار قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں بیگم نجمہ حمید پوٹھوہار کی قد آور مسلم لیگی لیڈر تھیں ان کا گھر ”ہاؤس آف مسلم لیگ“ کہلاتا تھا سیاسی موسم گرم سرد ہو بیگم نجمہ حمید کے دروازے سیاسی کارکنوں کے لئے کھلے رہتے تھے ان کے گھر میں ہر وقت رونقیں لگی رہتی تھیں۔ پچھلے دو سال سے بیگم نجمہ حمید ڈیمنشیا (dementia ) کے مرض میں کیا مبتلا ہوئیں سب کچھ بھلا بیٹھیں 78 سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئیں وہ خود تو اپنی یادداشت کھو بیٹھیں لیکن جب ان کا جنازہ اٹھا تو پورے شہر نے اس بہادر بزرگ خاتون کو یاد رکھا اور انہیں الوداع کہنے پہنچ گیا مسلم لیگی، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی سمیت زندگی ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی قد آور شخصیات نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
اس خاندان کی چشم و چراغ مریم اورنگ زیب جو کہ طاہرہ اورنگ زیب کی صاحبزادی ہیں خدا داد صلاحیتوں کے باعث ملکی سیاست میں نمایاں مقام پیدا کر لیا۔ ان کا شمار ملک کی صف اول کے مسلم لیگی لیڈروں میں ہو تا ہے نواز شریف کی جرات مند سپاہی کی حیثیت سے نہ صرف ان کی سوچ اور فکر کا پرچم بلند کر رکھا ہے بلکہ نواز شریف پر حملہ آور ہونے والے ”انصافیوں“ کو تلوار لے کر للکارتی رہتی ہیں اس وقت دونوں ماں بیٹی (طاہرہ اورنگ زیب اور مریم اورنگ زیب) قومی اسمبلی کی سٹنگ ممبر ہیں مریم اورنگ نے تو سیاسی میدان میں دھوم مچا رکھی ہے مسلم لیگ نون کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور وفاقی وزیر اطلاعات کا حق ادا کر دیا ہے۔
مسلم لیگ نون کی جانب سے انصافیوں کی یلغار کے سامنے ڈٹ جانے والی مریم اورنگ زیب سے پی ٹی آئی کی قیادت خوفزدہ رہتی ہے انہوں نے سیاست میں جارحانہ کردار کی وجہ سے پارٹی میں اپنا مقام پیدا کر لیا ہے۔ ان ہی صلاحیتوں کی وجہ سے وہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کا پارٹی کی ترجمان کے طور پر چوائس ہیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے حکومت کی بھرپور ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
بیگم نجمہ حمید کی تدفین کے بعد شام کو سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اپنی محسنہ بیگم نجمہ حمید کی وفات پر اظہار تعزیت کے لئے ان کی رہائش گاہ پر آئے تو تعزیت کے آئے ہوئے بیسیوں لوگوں نے عجب تماشا دیکھا۔
شیخ رشید احمد 35 سیکنڈ سے زائد نہ بیٹھے اور کھڑے کھڑے دعا مانگ کر ”یہ جا اور وہ جا“ ۔ کیا شیخ صاحب حاضری لگانے آئے تھے؟ لیکن تعزیت کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں روایات کے مطابق پرسہ دینے کے لئے آنے والا شخص کچھ دیر تو بیٹھتا ہے مرنے والے کا اچھے الفاظ میں ذکر کرتا ہے لیکن شیخ صاحب نے تو کمال ہی کر دیا بیگم نجمہ حمید نے نے شیخ رشید احمد کی ہمیشہ سرپرستی کی۔ جب بیگم نجمہ حمید کو میئر بنایا جا رہا تھا تو انہوں نے شیخ رشید احمد کے حق میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے کر ان پر احسان عظیم کیا تھا سیاست کا موسم سرد ہو یا گرم بیگم نجمہ حمید کا گھر شیخ رشید احمد کی پناہ گاہ رہا ہے مرحومہ کی وفات پر 35 سیکنڈ کی تعزیت دراصل تعزیت کی توہین ہے۔ وہ شاید عمران خان سے خوفزدہ تھے کہ ان کو خبر نہ ہو جائے کہ وہ کسی مسلم لیگی کی وفات پر تعزیت کے لئے گئے یا وہاں مسلم لیگیوں کی موجودگی میں ان کا دم گھٹ رہا تھا اس لئے وہ جس رفتار سے بیگم نجمہ حمید کے گھر آئے اسی رفتار سے واپس چلے گئے
نجمہ حمید کا شمار راولپنڈی و اسلام آباد کی سینئر مسلم لیگی رہنماؤں میں ہوتا تھا وہ راولپنڈی و اسلام آباد کی غیر متنازعہ شخصیت تھیں انہوں نے پوری زندگی مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم پر سیاست کی۔ انہوں نے ابتلا کے دور میں اپنے قائد میاں نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا جب نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو وہ شیخ رشید احمد کی بجائے بیگم نجمہ حمید کو میئر بنانا چاہتے تھے ان کو میئر کے لئے نامزد بھی کر دیا لیکن بیگم نجمہ حمید نے شیخ رشید احمد کی درخواست پر میئر بننے سے معذرت کر لی لیکن میاں نواز شریف نے چوہدری شجاعت حسین کے کیمپ میں ہونے کی وجہ سے شیخ رشید احمد کو میئر نہیں بنایا اور آغا عبدالرشید جیلانی کے نام قرہ فال نکلا
بیگم نجمہ حمید مجھ سے بے پناہ شفقت اور پیار کرتی تھیں پارلیمنٹ کا سیشن ہو یا کوئی اور مقام جب ملاقات ہوتی وہ میرا ہاتھ تھام لیتیں اور مجھ سے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح بڑی بہن کی طرح پیار کرتیں وہ برملا کہتیں ”نواز شریف میرا لیڈر ہے تو نواز رضا میرے لیڈر کا ہم نام۔ اس نام والا شخص مجھے اچھا لگتا ہے نواز رضا میرا بھائی ہے“ ۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب ملک میں مارشل لاء لگا تو بیگم کلثوم نواز کے لئے لال حویلی کے مکین نے دروازے بند کر دیے تو یہ سینیٹر چوہدری تنویر خان اور بیگم نجمہ حمید ہی تھیں جنہوں نے اپنے گھر کے دروازے بیگم کلثوم نواز کے لئے کھول دیے ابتلاء کے دور میں بیگم نجمہ حمید اور طاہرہ اورنگ زیب ان کے سایہ کی طرح رہیں۔ اس گھرانے کا آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں بڑا عمل دخل رہا ہے اس لحاظ سے تحریک آزادی کشمیر میں بھی اپنی بساط کے تحت حصہ ڈالا۔
بیگم نجمہ راولپنڈی میں پارٹی کی پہچان تھیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین کی صدر بھی رہیں۔ بیگم نجمہ حمید پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے انتہائی قریب تھیں۔ بیگم کلثوم نواز کی سیاسی جدوجہد بیگم نجمہ حمید نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ وہ پیدائشی مسلم لیگی تھیں وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم فیروز خان نون کے ساتھ مسلم لیگ کے لئے خدمات انجام دیتی رہیں۔ ان کی سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں واقع رہائش گاہ پر بیگم کلثوم نظربند رہیں۔ وہ باغ و بہار شخصیت کی مالک تھیں۔ چہرے پر مسکراہٹ ان کے حسن اخلاق ہونے کی گواہی دیتی تھی۔
12 اکتوبر 1999 کے بعد نواز شریف اٹک قلعے میں بند تھے ان کے خلاف ہائی جیکنگ کا مقدمہ چل رہا تھا جب تک چوہدری شجاعت حسین مسلم لیگ (ن) میں رہے اور مسلم لیگ (ق) نہیں بنائی بیگم کلثوم نواز چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر قیام کرتی رہیں لیکن جب چوہدری شجاعت حسین کے راستے جدا ہو گئے تو وہ نامور مسلم لیگی چوہدری جعفر اقبال کی رہائش گاہ پر بھی رہتی رہیں بیگم عشرت اشرف ان کی حتی المقدور خدمت کرتی رہیں۔ شیخ آفتاب میاں صاحب کی تاریخوں پر اٹک قلعہ جاتے تھے کلثوم نواز ہر تاریخ پر لاہور سے نہیں آتی تھیں وہ چوہدریوں کے گھر جاتی تھیں
مجھے یاد جس روز بیگم کلثوم نواز بن بلائے لال حویلی پہنچ گئیں تو شیخ رشید احمد کی حالت دیدنی تھی وہ اس بات سے خوفزدہ دکھائی دیتے تھے کہ بیگم کلثوم کی لال حویلی آمد پر وہ نہ دھر لئے جائیں بیگم کلثوم نواز کا راولپنڈی میں بیگم نجمہ حمید اور اسلام آباد میں چوہدری جعفر اقبال کا گھر ان کی قیام گاہ ہوتی تھے جہاں ان کے شایان شان خاطر تواضع کی جاتی تھی۔
سینئر صحافی سجاد اظہر نے اپنے کالم میں چوہدری جعفر اقبال کے گھرمیں چوہدری جعفر اقبال، بیگم عشرت اشرف، بیگم نجمہ حمید، طاہرہ اورنگ زیب اور کلثوم نواز کی ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دن کلثوم نواز میاں صاحب سے ملاقات کر کے آئیں تو روئے جا رہی تھیں، خواتین ان کا حوصلہ بندھاتی رہیں۔ کچھ دیر بعد وہ کہنی لگیں میاں صاحب کہتے ہیں کہ مسئلہ مشرف نہیں مسئلہ یہ ہے کہ اللہ ہم سے کسی بات پر ناراض ہو گیا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ مجھ سے کہاں ایسی غلطی ہوئی ہے کہ جس سے اللہ ناراض ہو گیا ہے، مجھے صرف ایک ہی واقعہ یاد ہے کہ بطور وزیراعظم میں فیصل آباد گیا تھا وہاں لوگوں نے کچھ افسران کے خلاف شکایتیں کیں، مجھے ان افسران کا موقف سننا چاہیے تھا لیکن میں نے نہ صرف انہیں صفائی کا موقع نہیں دیا بلکہ سرعام ان کے بے عزتی کی اور انہیں معطل کر دی۔ مجھے لگتا ہے ان کی بد دعاؤں سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ کلثوم نواز یہ بتاتے ہوئے رک گئیں اور کہتی ہیں کہ میاں صاحب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان افسران کے گھر جا کر معافی طلب کروں ”۔
بیگم نجمہ حمید اور بیگم طاہرہ اورنگ زیب شریف فیملی کا حصہ ہی تھے جب مریم اورنگ زیب سماجی بہبود کی ایک این جی او کی ملازمت چھوڑ کر میدان سیاست میں آئیں تو انہوں نے پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی جسے شرف قبولیت نہ بخشا گیا جس پر بیگم کلثوم نواز نے مریم اورنگ زیب کو میاں نواز شریف سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دلوا دیا بیگم کلثوم نواز“ ہیرا شناس ”خاتون تھیں جب مریم اورنگ زیب کو قومی اسمبلی میں کام کرنے کا موقع ملا تو وہ دنوں میں چھا گئیں بیگم نجمہ حمید زندہ دل خاتون تھیں وہ اپنے ساتھ ہی تمام رونقیں لے کر چلی گئی ہیں ان کا گھر کشمیری رہنماؤں کا مہمان خانہ بنا رہا ہے سابق صدر و وزیر اعظم سردار سکندر حیات اس گھر کے مستقل مہمان ہوا کرتے تھے مرحومہ نے سوگواران میں تین بیٹے عمر حمید، رضوان حمید اور علی رضا سوگوار چھوڑے ہیں۔
