پونی ٹیل دانشور

ہمیشہ کی طرح مملکت خداداد پاکستان تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہی ہے، پاکستان کی مرحلہ وار تباہی اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں کی طرف سفر کو لے کر موجودہ نئی بحث میں پہلی دفعہ کھل کر ”مقدس گائے“ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ یہ خدائی ریاست اس گائے کے سینگوں پر کھڑی ہے،
”استغفراللہ“ کیا زمانہ آ گیا ہے؟
حالانکہ کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ مقدس گائے نہیں بلکہ سرکاری سانڈ ہے، گائے بچاری تو دودھ، لسی اور مکھن مہیا کرتی ہے جبکہ سانڈ صرف چارے کا دشمن، اور جب ”ہیٹ“ پر آ جائے تو پھر اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا سوائے ایک چیز کے، اور پھر ساری قوم ہاتھ لگا لگا کر دیکھتی ہے۔
خیر بات یہ ہے کہ پاکستان کے اس مسلسل زوال کے ذمہ داران مولوی، سیاستدان، فوج، غدار بنگالی، بلوچی، لبرلز، لیفٹسٹس وغیرہ وغیرہ تو ہمیشہ بوقت ضرورت ٹھہرائے جاتے رہے ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اس سارے mess میں پاکستان کے مشہور دانشوروں کا کیا کردار رہا ہے؟
مشہور کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ انہی لوگوں کو زیادہ سنا، پڑھا اور دیکھا گیا (شہرت ان کی عظمت کی ضامن نہیں)، معاشرہ پڑھا لکھا ہو یا جاہل، یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی قوم کو بنانے سنوارنے اور صحیح سمت دکھانے میں دانشوروں، لکھاریوں اور اچھا بولنے والوں کا کردار انتہائی کلیدی ہوتا ہے، یہی لوگ رائے عامہ ہموار کرتے ہیں، یا بہت بڑے سانحے کو مزاح کے نام پر ہوا میں اڑانے اور عوام کو نیند کی گولی دینے، کہ سو جاؤ، سب اچھا ہے، روٹی کی فکر کرو، زندہ قومیں اپنے آپ پر ہنستی ہیں اور پھر سو جاتی ہیں،
اللہ اللہ خیر صلا
دعا فقیراں تے رحم اللہ
قدرت اللہ ولد حبیب اللہ
ایسا نہیں کہ یہ دھرتی بانجھ ہے،
گزشتہ 75 سالوں میں بے شمار سوچنے والے زورآور پیدا ہوئے، لیکن ریاست کو نہ تو ان کی سوچ کی ضرورت تھی اور نہ ہی اس سمت کی جس کی طرف وہ اشارہ کرتے رہے، لہذا انہیں ہر ذرائع سے ذرائع ابلاغ سے دور رکھا گیا۔ یہاں موقع ملا ان چالاک دانشوروں کو جو اس ریاست اور اس کے چلانے والوں کی سوچ کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے، ان لومڑیوں جیسے دانشوروں نے کھل کر کھیلا، نام اور پیسہ کمانے کے ساتھ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو اشرافیہ میں شامل کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ ان پر کبھی پابندیاں نہیں لگیں کیونکہ ان صاحبان نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جو زوال کے اس سفر میں ہلکی سی بھی رکاوٹ پیدا کرتی، اگر کوئی تنقید کی بھی تو مزاح کی صورت اس انداز میں کہ عوام کو جگانے کی بجائے ان کے ”کتھارسس“ کا سبب بنی،
” واہ بڑی بات کی فلاں نے فلاں کے منہ پر کہ دل خوش کر دیا، چلو اب سو جاؤ، مزا آ گیا۔
فوجی ڈکٹیٹروں کا زمانہ ان دانشوروں کے عروج کا زمانہ رہا ہے، اس دوران سرکاری ذرائع ابلاغ پر ان لوگوں کی اجارہ داری رہی، بدقسمتی سے یہ لوگ انتہائی ماہر لکھاری تھے، کچھ نے مذہبی عقائد کا سہارا لے کر عوام کو سوکھی دال روٹی کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے پر آمادہ کیا، لیکن ان میں سے ایک دانشور کی اپنی اولادیں کروڑ پتی نہیں بلکہ ”ارب پتی“ ہیں، وہ حضرت خود ساری عمر روحانیات (بلکہ رحونیت) کا درس دیتے رہے، سرکاری عہدوں پر فائز رہے، دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں سمیٹ کر یقیناً آج حوروں کے جمگھٹے میں کسی ایک ”زاویہ“ کو ڈسکس کر رہے ہوں گے۔
ایک صاحب آج کل پونی ٹیل رکھ کر کسی فرانسیسی انقلابی کے بھیس میں حالات و واقعات کے عین مطابق فقرے داغ کر داد وصول کر رہے ہیں، یہ حضرت آمروں کے پسندیدہ مزاح نگار رہے کیونکہ عوام کو ”کتھارسس“ کی گولی بھی تو دینی تھی، ساری عمر خوب جم کر کھیلے، حضرت مشرف تو خیر آمر ہونے کے ساتھ دہلوی بھی تھے، اس لئے ان کی تعریف مزاح سے ہٹ کر سنجیدگی میں بھی کرتے پائے گئے، اپنے پیٹ کا خیال بھی رکھا اور نام، محنت و تعلقات کی بنیاد پر اپنی نسل کو بد نسل ہونے سے بھی بچانے میں کامیاب رہے، یہ بات قابل تعریف ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ادبی کانفرنس میں حضرت نے پاکستان اور اس نظام کو ایک فلم قرار دیا اور سارا گند ہدایتکار پنجاب پر ڈال دیا، حضور آپ نے مزاح میں بہت اچھا چھکا مارا ہے، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی طرح پنجاب اور پنجابیوں کی مزاحمت کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اس پر بحث کسی اور وقت کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔
لیکن حضرت آپ نے ہمیشہ کی طرح بہت دیر کردی، جن باتوں کی طرف آپ آج اشارہ کر رہے ہیں، بہت سے پنجابی اور اردو بولنے والے ”اصلی عظیم“ دانشور یہ باتیں کرتے ہوئے اس وقت کوڑے اور جیلیں برداشت کر رہے تھے جب سرکاری چینل پر آپ کا طوطی بلوایا جاتا تھا، آپ راتوں رات کراچی سے پنڈی لینڈ کرتے تھے، طاقت کے ایوانوں میں آپ کی محفلیں سجائی جاتی تھیں۔
اس ناکام فلم میں 75 سال میں آئے ان سرکاری دانشوروں کا اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا ان لوگوں کا جن کی طرف یہ لوگ انگلی اٹھا رہے ہیں، جبکہ باقی تین انگلیاں ان کی طرف ہیں انگوٹھے سمیت۔

