تعلیم اور تربیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے


عام طور پر تعلیم و تربیت کا لفظ باہم مترادف سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ تعلیم اور تربیت دو الگ الگ معانی رکھنے والے الفاظ ہیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ضرور ہیں کیونکہ تعلیم، تربیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ لہذا تربیت کو تعلیم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

تربیت کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے جس کے معنی بچے کی پرورش کرنا، پالنا اور مہذب بنانا ہے۔ تربیت درحقیقت انسان سازی کا فن ہے۔ اس فن کی بدولت انسان کے اخلاق و عادات، مہارتیں، اعمال و کردار، اس کی سوچ اور اس کے مجموعی رویے اسے دنیا کی دیگر مخلوقات سے ممتاز کر دیتے ہیں۔ انسان کی اصل شناخت اس کے کرداری و اخلاقی وجود سے ہی ہوتی ہے۔ مشہور ماہر تعلیم عارفہ سیدہ زہرہ کے مطابق ”ہم نے احساس کی سطح، شعور کی سطح اور فکر کی سطح پر اتنی ترقی نہیں کی جتنی ہم نے ٹیکنالوجی میں کی ہیں اور تعلیم بہت ہے لیکن تعلیم کو علم بننے کے لیے جن دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کی کمی ہے پہلی چیز ماحول ہے جو آپ کے شعور اور احساس کی تربیت کرتا ہے اور دوسری چیز آپ کا اپنا شعور اور احساس ہے جو تعلیم کو اپنے اندر اتار کے علم بنانے میں مدد دیتا ہے“ ۔ لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ انسان کو اس کی اصل شناخت کے لیے اس کی تعلیم کو علم بنانے اور تربیت کی بہتری کے لیے کوشش کرنا ایک لازمی امر ہے اور اس حوالے سے والدین اور اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا بہت ضروری ہے۔

تربیت کے حوالے سے والدین کی ذمہ داری بچے کے پیدائش سے پہلے سے شروع ہوتی ہے یعنی کہ دوران حمل ماں کا ذہنی سکون، متوازن خوراک، مناسب ماحول اور ماں کی تمام سرگرمیاں بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر مثبت اثر ات مرتب کرتی ہیں جو بچے کی نشوونما اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پیدائش کے بعد گھر کے ماحول کو لیں تو بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے یعنی کہ سیکھنے کا عمل یہی سے شروع ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ اور گھر والوں کی باتوں، حرکات و سکنات، ان کے کام اور کردار سے ہی سب کچھ سیکھتے ہیں۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم والدین کی حیثیت سے یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمارے بچے ہمارے نقش قدم پر چلتے ہیں اور جہاں بھی جاتے ہیں ہماری عکاسی کرتے ہیں۔ ان کی تربیت میں کمی کو سمجھنے کے لیے والدین کی حیثیت سے ہمیں اپنے آپ کو جانچنا ہو گا۔ مثال کے طور پر ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ گھر کے اندر ہمارا رویہ کیسا ہے؟ کس حد تک اپنے بچوں کو سنتے ہیں؟ کتنی دفعہ دوسروں کی معاملات پر تبصرہ کرتے ہیں؟ دوسروں کی برائیاں کس طرح گنواتے ہیں؟

ہماری سوچ کتنی مثبت ہے اور کتنی منفی ہے؟ یہ سب کچھ کرتے ہوئے ہم کتنی دفعہ سوچتے ہیں کہ ان کا ہمارے بچوں پر کیا اثر ہو گا؟ یہ سب سوچنے کے بعد ہی ہم یہ سمجھ سکتے ہی کہ ہم اپنے بچوں کے لیے نمونہ ہیں ہم جو بھی کریں گے اس کا ہمارے بچوں پر واضح اثر ہو گا۔ لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم بحیثیت والدین بچوں کی تعلیم اور تربیت کے ذمہ دار اساتذہ کو ٹھیراتے ہیں۔ اور بچوں کو سکول بھیج کر اپنے آپ کو ان کی تربیت سے دستبردار کر دیتے ہیں جو کہ مناسب عمل نہیں ہے کیونکہ جب تک والدین اور اساتذہ ساتھ ساتھ نہیں ہوں گے بچوں کی صحیح تربیت ممکن نہیں ہو گی۔

اسکول اور اساتذہ کا کردار ہمارے تعلیمی نظام کے مرہون منت ہیں۔ دونوں کی بہتری کے لیے حتی الامکان کوشش کی جا رہی ہے۔ نصاب کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر کام جاری ہے۔ سکول کے عمارت کو بہتر بنا کر بنیادی سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ ان سب کے باوجود بھی بچوں کی تعلیم و تربیت میں توازن نہیں ہے۔ ان کی اس حساب سے تربیت نہیں ہوتی جس کا دور حاضر تقاضا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر بچوں کے اندر عزت دینے کی کمی، نظم و ضبط کا فقدان، قوت برداشت کا کم یا نہ ہونا، محنت سے جی چرانا، ہر کام کے لیے مختصر راستہ ڈھونڈنا، دوسروں کو قبول نہ کرنا یہ سب چیزیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں جس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہے۔

والدین کے بعد بچوں کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے ان کے اساتذہ ہوتے ہیں۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جو قوموں کے معمار ہوتے ہیں جس طرح ایک معمار کہیں سے مٹی لے آتا ہے اس کو چھانتا ہے پھٹکا ہے اور پھر گوندھ کر جو شکل دینا چاہے اس میں ڈھال دیتا ہے بالکل اسی طرح ایک استاد بھی اپنے طلبہ کو جو چاہے اس صورت میں ڈھال سکتا ہے۔ اچھے اساتذہ نہ صرف بچے کو نصابی کتب کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ وہ بچوں میں زندگی کی بنیادی مہارتیں بھی پیدا کرتے ہیں۔

وہ اس کی روحانی، نفسیاتی، اخلاقی، معاشرتی بلکہ ہمہ پہلو تربیت کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جن کی پیروی میں وہ صبر و تحمل، عزت کرنا، دوسروں کا خیال رکھنا اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا سیکھتے ہیں۔ اگر اساتذہ خود وقت کے پابند ہیں تو یقیناً بچے بھی ہوں گے۔ ان کی سوچ اگر مثبت ہے تو بچے بھی مثبت سوچ کے حامل ہوں گے۔ غرض اساتذہ کی شخصیت بچے کی پوری شخصیت کو بدل ڈالتی ہے۔ یہ سب تب ممکن ہے جب اساتذہ کے اپنے کردار اس چیز کا آئینہ دار ہو جس میں یہ تمام خوبیاں پائی جائیں۔ کردار کے بغیر علم فضول ہے اور عمل کی خوبیاں پیدا نہ ہوں تو علم کا درخت بے ثمر اور بے فیض ہے۔ لہذا تعلیم کو علم میں تبدیل کرنے کے لیے اساتذہ کو طلبہ کے لیے قابل تقلید نمونہ ہونا چاہیے۔ تبھی جا کے وہ طلبہ کی زندگی میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS