سماجی انحطاط اور سطحیت
سوچا جائے کہ ہمارے سماجی انحطاط کی چند بڑی وجوہات کیا ہیں اور یہ سوال کسی عوامی جگہ پوچھا جائے تو معلوم ہوتا ہے یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے ؛ خواص سے پوچھیے تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہ دین سے (غیر ضروری) قربت کا نتیجہ ہے ؛ اسی حوالہ سے ایک ماہر عمرانیات سے بات چلی، مدعا تھا کہ دیگر اقوام کے مسائل اور ہمارے مسائل میں فرق کیوں ہیں، اور اگر ایسا ہے تو پھر ہم باہر کے حل درآمد بھی نہیں کر سکتے یعنی اپنا تجزیہ کرنا ہو گا اور اپنے زمینی حقائق کے مطابق حل تلاش کرنا ہوں گے، مگر وہ اس بات سے متفق نہ تھے کہ ہمارے مسائل باقی دنیا سے الگ ہیں۔
ایک دو مسائل کا نام لے کر پوچھا تو وہ اسباب کا تعین نہ کر پائے سوائے یہ کہ ہم جدیدیت سے ہم آہنگ نہیں، مذہب کو ہر جگہ شامل کر دیتے ہیں جیسا کہ کرکٹ، ان سے عرض کی کہ کرکٹ سے تمام تبلیغی نکال دیں تب بھی یہ اسی طرح ڈر کے کھیلیں گے، یعنی یہ سبب یا علت نہیں ہے، یہ کسی اور علت کا معلول یا ایفیکٹ ہے۔ خیر بحث نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی۔
ان کے بعد اک ماہر نفسیات سے استفسار کیا، جن کے طویل جواب میں بہت سی رٹی رٹائی باتیں ایک ساتھ میسر آئیں، نتیجہ دین سے دوری نکلا، مایوسی کا اظہار کیا تو طنزیہ جواب ملا کہ پیچیدہ اصطلاحات آپ کی سمجھ سے باہر ہیں اس لیے آسان فہم لکھا ہے۔ لاحول پڑھ کر جان بخشی کرائی اور سوچا سوشل میڈیا سے مدد لی جائے، ایک ماہر نفسیات نظر آئیں مگر ان کی تحریریں اور ان سے بڑھ کر وڈیوز دیکھ کر ان پر ماہر نفسیاتی مریض کا گمان ہونے لگا۔
ان احباب سے بات چیت میں بہرحال مذہب سے قربت یا دوری کے علاوہ بھی چند مسائل کا نام ملا؛ تفرقہ، حسد، مقابلہ بازی، عصبیت، سیاست وغیرہ۔ ہم شاید دنیا کی ایسی آخری ریاست کے شہری ہوں گے، جہاں عسکری اداروں تک میں عصبیت ملتی ہے۔ افسرشاہی میں جائیں تو علم ہوتا ہے کہ ان میں ان سے اوپر ایک ڈی ایم جی گروپ ہے جو ان کا بھی حاکم ہے، سیاست دانوں میں ایک خاص اسکول معروف ہے۔ محکمہ زراعت سے محکمہ ریلوے تک سبھی گروہی تعصبات کے اسیر ملیں گے، ایک گروہ کے اندر پھر جلن، حسد اور بے جا مقابلہ بازی ملے گی۔
قوم کے معمار، اساتذہ تک کی کوئی تنظیم نہ ہو تب بھی ان کے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک نظر آئے گا۔ ہماری طرح کی منقسم قوم کم ہی ہوں گی، بیرون ملک بھی یہی ملتا ہے، اقوام متحدہ کا اجلاس ہو یا حرم شریف، گروہی تعصبات نظر آتے ہیں۔ مگر مجھے گمان ہوا کہ شاید ہمارے اکثر مسائل کی وجہ نہ تو دین سے قربت ہے، نہ ہی دوری بلکہ ہماری معاشرتی سطحیت ہے ؛ اور تو اور تفریح اور مزاح کے نام پر گھٹیا پن، طنزیہ کلمات، تضحیک نظر آئے گی اور یہ تنزلی کا سفر جاری ہے۔
اگر ہم تین چار دہائی قبل کے کسی کسی وکیل، بیرسٹر، مجسٹریٹ، ڈاکٹر، دانشور یا کسی یونیورسٹی یا درس نظامی کے گریجویٹ ہی سے تقابل کر کے دیکھیں تو بات چیت، رکھ رکھاؤ، انداز الگ ہوا کرتا تھا۔ کسی بھی شعبہ کی اکثریت دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے شخصی، علمی، پیشہ ورانہ اور تعلیمی معیارات تنزلی کا شکار ہیں۔ پرانے وقتوں میں ماسٹرز یا پی ایچ ڈی خال ملتے، مگر جو ملتے ان کی بات چیت اور شخصیت ہی جدا ہوتی تھی، آج کے کسی ڈاکٹریٹ ہولڈر سے دس منٹ بات کر لیں جس میں تین منٹ ان کے شعبہ سے الگ کوئی سماجی مسئلہ پر بات ہو، ذہنی معیار کسی ٹین ایجر سے مختلف نہیں ملے گا۔ شاعر اور ادیب کا کبھی تصور مختلف ہوتا تھا، ڈیجیٹل دور کے ٹک ٹاک شعرا کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں۔ وجہ یہی سطحی طرز عمل، سطحی فکر، سطحی علمیت، ہر جگہ سطحیت۔
یہی ماحول اپنے تدریسی کیریر میں دیکھا، چالیس کی جماعت میں پینتیس اس قابل بھی نہ تھے کہ پاس ہو پاتے مگر معلوم ہوا کہ اوسط دیکھ کر نمبر طے کیے جائیں گے، ’ایوریج‘ بناؤ، معیار ہی گرا دو ۔ طلبا نے پیسے دیے ہیں، جن سے تنخواہ آنی ہے۔ اور ہم خود کون سا خاص تھے، ظاہر ہے اسی سماج کی ایک سطحی پروڈکٹ ہی تو تھے۔ اس قدر سطحی کہ دیار غیر جا کر بھی دس برس لگے شہریت کے بنیادی قوانین اور سماجی اخلاقیات کی آگاہی پاتے۔
حکیم نطشے بلندی کی بات کرتا تھا، ہجوم کی پستی، ہجومانہ ذہنیت، اور ہجوم کی غلامانہ اخلاقیات یا سلیو موریلیٹی کی بابت کہتا کہ یہ ارتقا کی وہ شکل ہے جہاں نسل انسانی ہزارہا برس میں پہنچی، مگر ترقی وہ نکلی جسے ترقی معکوس کہتے ہیں۔ ہجوم کی اخلاقیات کا نمایاں پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی اپنے سے بلند کسی فرد کو برداشت نہیں کرتی۔ اوسط ذہنیت والا سطحی ہجوم یقیناً اسی وقت آپ کو کامیاب مانتا ہے جب آپ اس کی سطح پر اتر آئیں۔ دوسری جانب بلند فکری، بلند ذہنیت، اچھی سوچ یا اپنے معیار سے بہتر ہر شخص کو گرا کر ہجوم اپنے برابر لانا چاہتا ہے کیونکہ ہجوم کا نکتہ عروج زیادہ سے زیادہ ایک اوسط سطح کے معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے۔
یہاں مقصد انفرادیت برقرار رکھنا، یا فرد کی بہتری نہیں بلک ہجوم کی فلاح ہوتی ہے۔ ایسا سماج ایک اوسط/سطحی یا میڈیاکر سماج کہلاتا ہے۔ ایک سطحی سماج، ایک سطحی فرد کی تخلیق سے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہے اس لیے یہاں کامیابی کی شرط بھی اوسط ذہنیت رکھنا ہے جو اس سطحی معیار پر پورا نہ اترے وہ مصطفی زیدی کی طرح کسی ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کرتا پھرے گا، اس سے بھی آگے ہوا تو مشعال خان کی طرح ان گنت ہاتھوں پر اپنا لہو پائے گا۔
نطشے اس شخص کی تلاش میں تھا جو معاشرہ کی سطح اس سطحیت اور میڈیا کریسی سے بلند کرے، اور وہ فروتر ہو کر سپرمین کہلائے گا، جس کی اخلاقیات آقائی ہو گی، جسے وہ ماسٹر موریلٹی کہتا ہے۔ نطشے کے عقیدت مند، اور اسے ’مجذوب فرنگی‘ کہنے والے اقبال کا مرد مومن، ہجوم سے اتنا بلند تھا جتنا شاہین دوسرے پرندوں سے ہوتا ہے۔
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی


