کراچی بین الاقوامی کتب میلے میں دکانداروں کا رویہ اور مایوسی


”بھائی صاحب ان کتابوں پر تو قیمت نہیں لکھی“
(صارف کا سوال)
”جی یہ کتابیں بہت مہنگی ہیں“
(دکان دار کا جواب)
”آپ شاید سمجھے نہیں میں ان کی قیمت جاننا چاہتا ہوں“
(صارف مسکراتے ہوئے )
”میں بھی بتا رہا ہوں ان کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ابھی اصل قیمت بتاؤں گا تو۔۔۔“

اب اس سے پہلے کہ کتاب کی قیمت پوچھنے والے صارف اور ہمارے دوست کو غصہ آتا ہم نے انھیں یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کر دیا کہ غالباً ان صاحب کا کتابیں بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

یہ ہے وہ تہذیب جو کراچی کے بین الاقوامی کتب میلے میں کتابیں بیچنے والے حضرات میں دکھائی دی۔ تقریباً ہر اسٹال پر ہی کچھ ایسے دکان دار موجود تھے جو شاید سال کے باقی دنوں میں ٹھیلوں پر جوتے بیچتے ہیں۔ نہ تو ان کے بات کرنے کے انداز میں کسی قسم کی تمیز تھی اور نہ ہی انھیں اس بات کا اندازہ تھا کہ وہ جس رقم پر ڈسکاؤنٹ میں کتاب فروخت کر رہے ہیں وہ اصل قیمت سے کہیں زیادہ ہے جو انٹرنیٹ کی مدد سے دیکھی جا سکتی ہے مگر چلیں خیر۔

اب آتے ہیں کتابوں کے معیار کی جانب۔ شروع کے 2 ہال میں زیادہ تر مذہبی کتابیں رکھی گئیں تھیں۔ ہم نے ایسے ہی ایک کتاب اٹھا کر فہرست دیکھنی شروع کی تو اس میں دیگر فقہاء کے مذہبی رہنماؤں کی کردار کشی سے لے کر کن لوگوں کا قتل کرنا جائز ہے یہ بھی درج تھا۔ ہم نے گھبرا کر فوراً ہی کتاب بند کردی۔

باقی اسٹالز پر اردو لٹریچر کی کتابیں موجود تھیں جو بدقسمتی سے عمیرہ احمد، نمرہ احمد، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب اور اشتیاق احمد جیسے نیم حکیموں کی لکھی گئیں تھیں۔ اپنے اپنے وقتوں میں ہر بات کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر ان نام نہاد لکھاریوں نے حکومت وقت سے خوب ہی داد پائی۔ کچھ بعید نہیں ان لکھاریوں میں ایک دن خلیل الرحمٰن قمر کا نام بھی جلد جگمگائے گا۔

اردو کتابوں کے اسٹالز پر ڈسپلے میں زیادہ تر ایسی کتابیں رکھی گئیں تھیں جن کے عنوان میں انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے طریقے، آداب مباشرت اور کامیاب یوٹیوبر بننے کے گر سکھائے گئے تھے۔ انھیں دیکھ یہی خیال دل میں ابھر آیا کہ واقعی یہ کتابیں اگر مل بھی جائیں تو کیا ہے؟ لیکن خریدنے والے زیادہ تر ان ہی اسٹالز پر موجود تھے۔

سب سے آخر میں تیسرے ہال کی جانب بڑھے جہاں انگریزی اور اردو کی نسبتاً بہتر اور حوالہ جاتی کتابیں موجود تھیں مگر یہ وہی کتابیں تھیں جو گزشتہ 7 سال پہلے ہم انھیں اسٹالز سے خرید چکے تھے۔ پاکستانی مصنفین کی نئی کتابیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔

ایک اور افسوسناک صورتحال یہ تھی کہ پورے بک فیئر میں عجیب عالم بدحواسی طاری تھا۔ کتابیں خریدنے سے پہلے جس غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے وہ ماحول تو ناپید تھا۔ لمبے برقعے دوسروں کے پیروں کے نیچے لتھڑتے جا رہے تھے اور بچے اماؤں سے ہاتھ چھڑا کر زمین پر لیٹے جا رہے تھے۔ شاید لوگ اپنے بچوں میں کتابوں کا شوق پیدا کرنے کے لئے انھیں بک فیئر لے کر آئے تھے مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ اس طرح کے شوق بچے گھر میں اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں اور کم سے کم انھیں اتنا بڑا تو ہونا چاہیے کہ بے بی کاٹ میں لے کر نہ آنا پڑے۔ اس تمام شور اور ہنگامے کا نقصان انھیں ہو رہا تھا جو مطالعے کا حقیقی شوق رکھتے تھے اور واقعی کتابیں خریدنے آئے تھے۔

یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ کتابیں پڑھنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس حقیقت کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن میں اچھا اور معیاری لکھنے والوں کی کمی اور سطحی لکھنے والوں کی زیادتی، کتابوں کی مہنگی قیمت اور انھیں فروخت کرنے والے بدتمیز دکان دار بھی شامل ہیں۔ کراچی انٹرنیشنل بک فیئر ملک بھر میں منعقد ہونے والا سب سے بڑا کتب میلہ ہو گا مگر وہاں بدانتظامی کا یہ حال تھا کہ اسٹالز پر نہ تو کریڈٹ کارڈ سے رقم کی ادائیگی کی سہولت موجود تھی نہ ہی کسی قسم کا نظم و ضبط دیکھنے میں آ رہا تھا۔ جس کا دل چاہ رہا تھا وہ اپنے کنبے سمیت اسی حالت میں بک فیئر میں موجود تھا اور ان لوگوں کے لئے سر درد بن رہا تھا جو سنجیدگی سے کتابیں لینے آئے تھے۔

امید رکھنا تو اچھی بات ہے۔ دعاگو ہیں اس سال جو بھی ہوا اگلے برس اس قدر مایوسی سے نہ لوٹنا پڑے مگر حقیقت پسندانہ سوچ تو پھر یہی سوال کرتی ہے کہ جس معاشرے میں کتابوں کے ذریعے قتل و غارت، مباشرت اور امیر بننے کی تربیت دی جا رہی ہو وہاں کیا بہتری پیدا ہوگی؟

Facebook Comments HS