شہزاد احمد کا ایک شعر، علم حیاتیات کی روشنی میں


شعر/بیت
ترا کرم ہے کہ تو نے مجھے عطا کر دی
وہ زندگی جو کسی اور کو نہ چاہی تھی

شعر ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان نور فراست سے اپنی علمی و ادبی بصیرت اور تفہیم کا چہرہ دیکھتا ہے۔ شعر اپنے باطن میں کئی مفاہیم و مطالب مخفی رکھتا ہے۔ شعر شناس، شعر سے اپنے علم و عرفان کی بنا پر معنی و مفہوم کشید کرتا ہے۔ جدیدیت و مابعد جدیدیت کی یہ اہم خاصیت ہے کہ اس نے ادب کو متعین فکری قید سے آزاد کر دیا اور اس کی معنویت و سوجھ بوجھ کو انسان کے اپنے فہم و ادراک پر رکھ دیا کہ وہ آیا فلاں تخلیق کی کس تناظر میں تعبیر کرتا ہے۔

مذکورہ شعر، شہزاد احمد کا شعر ہے۔ جو ان کی کتاب ”ٹوٹا ہوا پل“ میں درج ہے۔ 1984 میں شہزاد صاحب کو دل کا دورہ پڑا اور اس سنگین مسئلے کے بعد ، مصنوعی طریقے سے ان کے دل کی سرگرمیوں کو بحال رکھا گیا۔ یہ تخلیق ان دنوں کی مشق سخن ہے۔ اس سانحہ کے آثار ان کی اس کتاب کے اشعار میں مضمر ہیں۔ یہ شعر بھی اس حادثے کی ایک یادداشت اور عکاسی ہے جس میں موصوف شکر خداوندی کرتے نظر آتے ہیں۔ شہزاد احمد نے شعر و ادب فلسفہ و نفسیات، سائنس اور اردو تراجم پر مبنی کئی کتب قلم بند کیں۔

شہزاد احمد کا یہ شعر اپنے اندر معنی کے کئی جہات رکھتا ہے۔ کیوں کہ مذکور شعر میں لفظ زندگی کو عمدگی سے پرویا گیا ہے۔ ”زندگی“ نکتہ ہائے دقیق لفظ ہے۔ اس غیر مقفی شعر کی صنف فرد (بیت) ہے۔

شعر میں جہان کبیر لفظ زندگی، ایہام کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ زندگی لفظ بہت سے عناصر و اجزا کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر مصرع ثانی کو علم حیاتیات کی نگاہ سے جانچیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان دنوں کی کہانی ہے جب انسان شکم مادر میں مختلف کٹھن مراحل سے نمو پاتا ہوا زندگی (بقا) کے تخت پر براجمان ہوتا ہے۔ اس لیے شعر کی شرح/تعبیر علم حیاتیات اور فطرت کی روشنی میں بیان کی گئی ہے، جس سے رجائیت مطلوب و مقصود ہے۔

زمین و آسماں کی سلیقہ شعاری اور اس میں موجود ہر شے کے تخلیقی عمل اور اس کی حسن ریزی میں فطرت کی کرشمہ سازی ہے۔ فطرت معرفت پروردگار عالم کا اہم ترین رمز ہے۔ یہ رمز، اجزائے کائنات کی حیات و موت اور بقا کا پابند ہے اور پابندی کا یہ سمندر افادیت سے لبریز ہے۔

انھیں فطری اعمال میں سے عمل تولید ایک خاص فطری، جبلتی اور ضروری عمل ہے۔ جس کے نتیجے میں انسان کا یوم پیدائش، ایک حیران کن پس منظر کا حامل ہے۔ اس پس منظر میں حیاتیاتی طور پر مختصر قصہ یوں ہے کہ جب مرد اور عورت کا ملاپ (جنسی عمل) ممکن الوقوع ہوتا ہے تو مرد کی طرف سے کچھ مقدار میں بوقت انزال، سیال مائع نطفہ خارج ہوتا ہے۔ جس میں کروڑوں جرثومے پائے جاتے ہیں۔ جرثومہ یعنی سپرم قابل حرکت ہوتا ہے، جو دم نما دکھتا ہے۔ جرثومے رحم کی نالیوں میں انڈے کی طرف سانپ کی طرح حرکت کرتے ہوئے دوڑ لگاتے ہیں۔ اس حرکت کی وجوہ:

1۔ بیضہ یعنی انڈا جو بچہ دانی سے نالی میں قیام پذیر ہوتا ہے، جرثوموں کو اپنی طرف کشش کے کیمیائی اشارے بھیجتا ہے۔

2۔ بچہ دانی کے سکڑنے اور پھیلنے پر بھی جرثومے کی انڈے کی طرف کشش ممکن ہوتی ہے۔

بے شمار سپرمز اس دوڑ کا حصہ ہوتے ہیں جو کمزور ہوتے ہیں وہ رہ جاتے ہیں اور جو قوی ہوتے ہیں وہ انڈے کی بیرونی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اب یہاں تک وہی جرثومے پہنچ پاتے ہیں جو نہایت مضبوط اور طاقت ور ہوتے ہیں۔ ان جرثوموں میں بھی فقط ایک ہی جرثومہ ایسا ہوتا ہے جو بیضہ (انڈے ) کے ساتھ ملتا یعنی فرٹیلائزیشن ہوتی ہے۔ یہ مرحلہ زائیگوٹ مرحلہ کہلاتا ہے۔

مزید براں اس سے آگے صحت یاب ارتقائی مراحل جاری رہتے ہیں۔ درمیان میں کئی مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے لیکن ان سب کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور رحم مادر میں گاڑھا پانی، خون اور گوشت سے ہوتا ہوا یہ تسلسل قریب 40 ہفتوں کے بعد ایک احسن التقویم بشر کی صورت حاصل کر لیتا ہے۔

قرآن کریم، سورۃ المومنون میں آفرینش آدم و حوا کی اس داستاں کو یوں بیان کیا گیا ہے ؛

”پھر ہم نے اس نطفہ کو (رحم مادر کے اندر جونک کی صورت میں ) معلق وجود بنا دیا، پھر ہم نے اس معلق وجود کو ایک (ایسا) لوتھڑا بنا دیا جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، پھر ہم نے اس لوتھڑے سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت (اور پٹھے ) چڑھائے، پھر ہم نے اسے تخلیق کی دوسری صورت میں (بدل کر تدریجاً) نشو و نما دی، پھر اللہ نے (اسے ) بڑھا (کر محکم وجود بنا) دیا جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے“

یہ خدا کا کرم اور فضل ہی تو ہے کہ لاکھوں اور کروڑوں جرثوموں، جن کو یہ زندگی نہیں چاہیے تھی اور وہ شکست کھا کر زندگی (انسان) جیسی نعمت سے محروم ہو گئے، ان میں سے محض اکلوتا جرثومہ، انڈے کے ساتھ ملا (دخول) اور مرد یا عورت کی صورت بقید حیات ہوا۔

الغرض شہزاد احمد کا یہ شعر علم حیاتیات کی بہترین تعبیر کرتا نظر آتا ہے۔ جس میں رجائیت کا پہلو نمایاں ہے۔ جو ماں کے پیٹ میں ہمارے ابتدائی و ارتقائی دور کی یاد دلاتا ہے کہ جب کبھی ہم پریشان ہوں یا حالت اضطراب میں ہوں تو اپنے اس دور کو یاد کیا جائے کہ ایسے نازک حالات میں ہم (ہمارا متعلقہ جرثومہ اور انڈا) کس طرح کامیاب ہوئے۔

Facebook Comments HS