پہاڑوں کے بین الاقوامی دن پر نذر کوہسار
پہاڑ میں ایک عجیب سی مقناطیسی کشش ہوتی ہے۔ کوہساروں کا اوج کمال کو چھوتا ہوا جاہ و جلال دیدنی ہوتا ہے۔ وہ سر بہ فلک چوٹیاں، صدیوں کی ارضیاتی، موسمیاتی، اور تہذیبی داستانیں اپنے سینوں میں دفن کیے ہوئے بڑے بڑے گلیشیئرز، آنکھوں کو تازگی اور تراوت بخشنے والے سبزہ زار، مرغ زار، پتھروں سے ٹکراتے، جھاگ اڑاتے، اور روح کو گرماتے نغمے سناتے پرشور، منہ زور دریا، یخ بستہ شفاف پانیوں والی آئینہ تمثال جھیلیں گھنے جنگل اور ان جنگلوں میں بسنے والے انواع و اقسام کے چرند، پرند۔ کیا یہ سب ان پہاڑوں سے جنون کی حدوں کو چھوتا ہوا عشق کرنے کی نہایت معقول وجوہات نہیں ہیں؟ پہاڑ تو ایمان والوں کو خدا کا جلوہ تک کروا دیتے ہیں۔ خدا نے بھی تو موسی سے کلام کے لئے کوہ طور کو ہی پسند کیا تھا۔
غروب آفتاب کا نًظارہ کسی پہاڑ اور دریا کی سنگت میں کتنا دل فریب اور کشف آمیز ہوتا ہے یہ تو اس شاعر سے پوچھیں جس نے کہا تھا:
کوہ و دریا و غروب آفتاب
من خدا را دیدم آں جا بے حجاب
ویسے تو نانگا پربت کو شل مکھی یعنی سو روپ والا کہا جاتا ہے۔ مگر دیکھا جائے تو ہر پہاڑ کے سو روپ ہیں۔ یہ تو دیکھنے والے کے تخیل اور وسعت نظر کے علاوہ ان کوہساروں کی منشا پر منحصر ہے کہ ناظر کو ان کا کون کون سا روپ دکھائی دیتا ہے اور کون سے روپ اس کے تخیل کی حد پرواز سے پرے ہی رہتے ہیں۔
ایں سعادت، بزور بازو نیست
تا نہ بخشد، خدائے بخشندہ
پہاڑ عظیم لوگوں کی مانند ہیں۔ کسی پہاڑ کی صحیح بلندی کا اندازہ دور سے یا پہاڑ کے دامن میں واقع کسی وادی میں رہتے ہوئے نہیں، بلکہ اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کے ہوتا ہے جہاں سے اس کی بلندی، اس کا پھیلاؤ، اور ارد گرد موجود پہاڑوں میں اس کی منفرد ساخت مکمل طور پر عیاں ہوتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے عظیم لوگوں کی عظمت کا صحیح ادراک کم فہم، کم ظرف اور پست خیال لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو بس ان عالی ظرف، روشن دماغ اور بلند مرتبہ لوگوں کا اعجاز ہے جو ان عظیم لوگوں کے افکار اور ان کی قدر و قیمت سے کما حقہ واقف ہوں۔
پہاڑ محبوب کی طرح بھی ہیں۔ فارسی اور اردو ادب کے روایتی محبوب کی طرح، جو مہربان کم اور بے مہر زیادہ ہوتا ہے۔ مگر جس کی تمام تر سنگ دلی اور نامہربانی کے باوجود عاشق کے دل میں اس کی شمع محبت پوری آب و تاب سے روشن ہوتی ہے، جو محبوب کی سرد مہری، بے اعتنائی، اور بے مہری کی کاٹ دار، تند و تیز ہوا کے باوجود جلتی ہی رہتی ہے۔ کبھی بجھتی ہے، نہ مدہم ہوتی ہے۔ محبوب، جس کی چاہ میں جان سے گزر جانا عاشقی کی معراج سمجھا اور مانا جاتا ہے۔
بالکل اسی کی طرح پہاڑ بھی سنگ دل ہوتے ہیں۔ جو محبت کے ہاتھوں مجبور مجنوں صفت عشاق دشت نوردوں کو ملن کی آس لئے پتھریلے برفیلے اور سنگلاخ راستوں پر چلتے چلتے آبلہ پائی کا شکار ہوتا دیکھ دیکھ خوش ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی شاہ گوری، راکاپوشی، شل مکھی، توشے ری، یا کسی بے ڈوری کا چاہنے والا راستے کی تمام تر خطرناکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، اپنے جذبے کی قوت سے تمام تر مشکلات کو قابو میں لا کر، وادی، وادی، دامن، دامن، چوٹی، چوٹی دنوں اور ہفتوں کا سفر طے کر کے بھی دیدار یار سے محروم رہتا ہے۔
محبوب خراب موسم، اور برفانی طوفان میں اپنا مکھڑا دھند کی نقاب میں چھپا لیتا ہے۔ اور حسن رخ یار کی دید کا پیاسا یوں ہی بے نیل و مرام لوٹ آتا ہے۔ اور کبھی کبھار تو وہ بیچارا واپس اپنی دنیا میں لوٹ بھی نہیں پاتا اور کسی برفانی طوفان میں پھنس کر، کسی گلیشئر کی دراڑ میں گر کر یا کسی ایوالانچ کی نذر ہو کر اس دنیائے فانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ کر اپنے عشق کی لازوال داستان رقم کر جاتا ہے۔
پہاڑ صوفی اور درویش بھی تو ہیں۔ درویش کسی سے کچھ نہیں مانگتے، نہ کسی سے کچھ لیتے ہیں۔ درویش تو دیالو ہوتے ہیں، بس دینے اور بانٹنے پر یقین رکھتے ہیں۔ جو بھی ان کے در پر جائے اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ البتہ ان کے چشمہ فیض سے تمام مخلوقات ازل سے فیض یاب ہوتی رہی ہیں۔ ایسے ہی پہاڑ کا فیض بھی تمام مخلوقات بشمول جمادات و نباتات، اور اشرف المخلوقات سب کے لئے یکساں ہے۔ پہاڑ کے دامن میں ہمارے لئے کیا کچھ نہیں ہے۔
شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو
پانی۔ زندگی کی نشانی۔ جو حیات انسانی کے لئے از بس ضروری ہے، کا منبع بھی پہاڑی گلیشئر، چشمے، برفانی چوٹیاں اور ندی نالے ہیں۔ پہاڑ کے دامن میں ہمارے لئے قسم قسم کے معدنی ذخائر محفوظ ہیں جن سے ہم بھرپور استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ المختصر، پہاڑوں نے اپنی تمام تر نعمتوں کے دروازے ہم پر وا کر رکھے ہیں، بغیر کسی لالچ اور ریاکاری کے۔
پہاڑ اور درویش میں ایک قدر یہ بھی مشترک ہے کہ دونوں دنیا کے ہنگام کو پسند نہیں کرتے۔ درویشوں اور صوفیوں نے زیادہ تر مراقبوں، چلوں اور عبادات کے لئے انسانی آبادیوں سے دور، کسی پہاڑ کی چوٹی پر ہی ڈیرا ڈالنا پسند کیا۔ آج بھی کشمیر میں ایسی زیارات موجود ہیں جو کسی نہ کسی صوفی درویش کی چلہ گاہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر کا دارالخلافہ مظفرآباد، جس پہاڑ کے دامن میں واقع ہے اسی کی چوٹی پیر چناسی کے نام سے جانی جاتی ہے جو ایک بزرگ سید عبداللہ بخاری کی چلہ گاہ کہلاتی ہے۔
اسی طرح ضلع حویلی میں سندگلہ کی زیارت بھی ایک پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہے جو حضرت مخدوم جلال الدین جہانیاں جہاں گشت کی جائے عبادت کے طور پر مشہور ہے۔ تنہائی پسندی کی یہ خو پہاڑوں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے اسی لئے پہاڑی راستے اس قدر دشوار گزار اور تھکا دینے والے ہوتے ہیں کہ کوئی ہما شما ان کی تنہائی اور حسن کو غارت کرنے نہ پہنچ جائے۔
پہاڑ خدا کی طرح بے نیاز ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کے نیچے وادیوں اور میدانوں میں کیا ہو رہا ہے۔ انہیں اس بات سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا کہ ان کے برفانی طوفانوں، یا طوفان باد و باراں کا اثر وادیوں اور میدانوں پر کیا ہوتا ہے۔ وہ ان سب باتوں سے بے نیاز اپنا ہر رنگ، اپنا ہر موسم اور مزاج کا اتار چڑھاؤ دکھلاتے رہتے ہیں۔
پہاڑ ایک شریر بچے کی طرح ہیں۔ دوسروں کو چھیڑنے اور ستانے میں انہیں مزا آتا ہے۔ آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر جا رہے ہوں تو بلندی پر پہنچنے کے بعد آپ کو ایک چوٹی نظر آتی ہے۔ دیکھنے میں لگتا ہے کہ بس وہ چوٹی ہے، آپ تھکاوٹ سے چور ہوتے ہوئے بہ مشکل اپنی تمام تر طاقت مجتمع کرتے ہیں اور چوٹی کی جانب سفر جاری رکھتے ہیں، مگر ایک لمبی اور مشکل چڑھائی کے بعد جب اس چوٹی پر پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چوٹی تو ابھی اور آگے ہے۔ اگلی چوٹی پر پہنچتے ہیں تو اس سے اگے ایک اور چوٹی سر نکالے آپ کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی آپ کو زچ کرنے پر تلی ہوئی آپ کے آگے آگے دوڑ رہی ہے۔ اور آپ کی ذہنی و جسمانی تھکن سے محظوظ ہو رہی ہے۔ صورت حال منیر نیازی کے اس شعر جیسی لگ رہی ہوتی ہے۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار پہنچا، تو میں نے دیکھا
پہاڑ ایک نشہ ہیں ایک سحر ہیں۔ اگر آپ ہم سے ہمارا خیال پوچھیں تو، ہمارے لئے پہاڑ کبھی نہ اترنے والا انتہائی اثر انگیز نشہ ہیں ایسا نشہ جو بعد اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔ ایک ایسا سحر ہیں جس میں ہمہ وقت انسان جکڑا رہتا ہے۔ کوئی ٹھوکر اسے اس سحر سے باہر نہیں لا سکتی۔ ہم آج تک کسی ایسے انسان سے نہیں ملے جو ایک دفعہ پہاڑ کی محبت میں مبتلا ہوا، وہ کبھی ان کے سحر سے نکل پایا ہو۔ ہمارا بچپن اور لڑکپن ویسے تو لاہور میں گزرا، مگر جب ہم ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی بار اپنے آبائی گاؤں، جبی سیداں گئے اور کشمیر کے سرسبز و شاداب اونچے اونچے پہاڑ دیکھے، پیر پنجال کی برفانی چوٹیاں دیکھیں تو ہمیں پہلی ہی نظر میں ان سے شدید قسم کا عشق لاحق ہو گیا۔
اس کے بعد ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں جانا گویا ایک فرض کی طرح لازم ٹھہر گیا۔ جون، جولائی کی چھٹیوں کا بے چینی سے انتظار رہتا کہ کشمیر گرمیوں کی چھٹیوں میں ہی جانا ہوا کرتا تھا۔ ان دنوں ہم لاہور میں بھی برسات کے موسم میں آسمان پر بادلوں میں پہاڑوں کی شکلیں تلاشتے پھرتے۔ بادل ہمیں اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں کی شکل دکھائی دیا کرتے۔ (ویسے آپس کی یات ہے، اب بھی ایسا ہی ہے ) ۔ تب سے اب تک پہاڑوں کا نشہ سر چڑھ کر بولتا آیا ہے اور پہاڑ سے ہمارا تعلق ہر گزرے دن کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
ارے ہم تو پہاڑوں کے ایسے عاشق ہیں کہ ان کے عشق میں لاہور میں اچھی بھلی نوکری چھوڑ کر نومبر 1985 میں ہم نے مظفر آباد میں مستقل ڈیرے جما لئے ایک کم تر تنخواہ والی سرکاری نوکری قبول کر لی اس خیال سے کہ محبوب کے قدموں میں رہنے کا اعجاز تو حاصل ہو گا۔ فن عکاسی سے ہمارا تعلق بھی پہاڑ کے اسی عشق کا شاخسانہ ہے۔
پہاڑ کے اور بھی کئی روپ ہیں اور ہر روپ کسی نہ کسی طور پر ہماری زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کا عکاس ہی ہوتا ہے۔
ہماری جانب سے تمام کوہ نوردوں، آوارہ گردوں، دشت نوردوں، جہاں گردوں کو پہاڑوں کا عالمی دن مبارک۔
آئیے اس دن یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم پہاڑوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں گے جو کسی محبوب کے شایان شان ہوتا ہے۔ ان کا دامن آلودہ کر کے ان کے حسن کو ماند نہیں کریں گے۔ اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی تہذیبی و ثقافتی روایات کی پاسداری کریں گے۔





پہاڑوں میں رہنے والوں کے متعلق خود کسی پہاڑ والے کا لکھاپہلی دفعہ پڑھا ،یقین جانیے مکمل مضمون شاید یوں مکمل اور knitted ہو،کھتارسس دیتا ھے پیر چناسی والا پیرا گراف ۔