نعیم اشرف کے افسانے ”پونم پریت“ کا تجزیہ


تجزیہ نگارہ : لبابہ نجمی

پیشہ کے اعتبار سے مکینیکل انجینئر، افسانہ نگار اور مصنف نعیم اشرف 1964 میں وادی سماہنی، کشمیر کے پاکستانی حصے میں پیدا ہوئے۔ وہ بالترتیب مکینیکل انجینئرنگ، ہیومن ریسورس مینجمنٹ، وار اسٹڈیز، لیڈرشپ اور مینجمنٹ میں باضابطہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور یونیورسٹی آف بلوچستان گئے۔

فکشن کے شوقین، اشرف نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 2016 میں افسانے کے ترجمے سے کیا۔ :

2016 میں شائع ہونے والی یہ کتاب مشہور ناول نگار اور کہانی نویس محمد الیاس کی 29 مختصر کہانیوں کے تراجم پر مشتمل ہے۔ Trespass

• The Incredible Pakistani Short Stories، 2019 میں شائع ہوئی۔ اس میں پاکستان کے مختلف کہانی نویسوں کی 30 مختصر کہانیاں شامل ہیں۔

• The Forty Rules of Love (ایلف شفق کا مشہور ناول) اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کا نام دیا گیا ہے۔ عشق کے چالیس اصول میگزین: Deedban۔ com نے 2018، 2019 اور 2020 کے دوران شائع کیا ہے۔ خالد سہیل اور رابعہ الربعہ کے درمیان فکری اور فلسفیانہ گفتگو کا ”درویشوں کا ڈیرہ“ کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور 2019 میں اسے درویش کا نام دیا گیا۔ اردو اور انگریزی دونوں کتابیں گرین زون پبلیکیشنز۔ کینیڈا نے 2019 میں شائع کیں اور ایمیزون پر دستیاب ہے۔

ادبی محبت کے خطوط، نعیم اشرف اور ڈاکٹر خالد سہیل کی مشترکہ تصنیف کردہ کتاب کا ترجمہ نہیں ہے۔ یہ مذکورہ بالا مصنفین کے درمیان 30 خطوط کا تبادلہ ہے۔ اس میں ایشیا، یورپ اور امریکہ کے کلاسیکی انگریزی/اردو افسانہ نگاروں، شاعروں اور فلسفیوں کی زندگیوں اور کاموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 2020 میں شائع ہونے والی یہ کتاب ایمیزون پر دستیاب ہے۔

نعیم اشرف نے 1984 سے 2012 تک پاک فوج میں خدمات انجام دیں اور کرنل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے

افسانہ نگاری کی صنف میں بھی رفتہ رفتہ اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔ آج ہم ان کے ایک افسانے ”پونم پریت“ کا تجزیہ پیش کریں گے۔

کہانی کا خوب صورت ”پونم پریت“ کے ساتھ آغاز و اختتام تک بہترین بنت ہے۔ کہانی کی ابتدا کچھ اس منظر سے ہوتی ہے جس میں آپ کسی اچھے دوست کے مل جانے پر فلیش بیک میں چلے جائیں۔

پونم فنون لطیفہ سے شغف رکھنے والا کردار ہے جو عام فرد سے زیادہ حساسیت لیے ہے اور اس پر مستزاد کے جن کے ساتھ کا انتخاب کیا وہ اپنی کسی نہ کسی مجبوری کو بہانہ بنا کر ساتھ چھوڑ گئے۔ کہانی اس موڑ پر عورت کی احساس محرومی کو مختلف حوالوں سے پیش کیا گیا۔ مصنف ایک راوی بن کر کہانی میں پونم کی کیفیات و احساسات سے آشکار کرتے جاتے ہیں۔ راوی کی پونم سے ملاقات آرٹ گیلری میں ہوتی ہے اور وہ اس کی شخصیت کے اسیر ہو جاتے ہیں۔

پونم اور وہ دونوں سفر پر اکٹھے روانہ ہوتے ہیں اور یوں پونم کی کہانی کے پرت ہٹتے ہی جاتے ہیں۔ پونم اپنی زندگی کے دل گیر واقعات راوی کو سنا کر دل ہلکا کر لینا چاہتی ہے۔ دوران سفر دونوں نے ایک دوسرے کو ہم مزاج پایا۔ دونوں نے اکٹھے ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرنے کی جانب محو سفر ہوئے۔ پونم نے اس سفر میں راوی کی رفاقت کو شدت سے محسوس کیا اس لیے اس نے اسے پانے کے لیے ایک قدم آگے بڑھایا اور رات کے کسی پہر میں وہ اٹھ کر راوی کے کمرے میں چلی آئی۔

” پھر نہ جانے کب میں نیند کی گہری آغوش میں چلا گیا۔ صبح جب میری آنکھ کھلی تو کمرے کا عجب منظر تھا۔ کھڑکی کے پردے ہٹائے جا چکے تھے۔ سورج کی کرنیں مجھے صبح کا سلام پیش کر رہی تھیں۔ صبح با خیر۔ پونم مجھے سامنے بیٹھی ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ مجھے اس پر بہت پیار آیا۔ میں نے اس کے ہاتھ کا بوسہ لے لیا۔“

دونوں مل کر پنجاب کی سیر کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ واپسی کے سفر پر غروب آفتاب تک رخت سفر کے خیال سے پونم آنسو بہاتی رہی۔

راوی کہتا ہے : زندگی ملنے اور بچھڑنے سے عبارت ہے۔ آؤ لوٹ چلیں۔ گیسٹ روم پہنچ کر دونوں نے مل کر پونم کی پیکنگ مکمل کی اور دونوں رات کو ایک ہی بیڈ پر سو گئے۔

” عجیب بات یہ ہے کہ مجھے یا پونم کو کوئی جسمانی تحریک نہیں ہوئی“ ۔ مصنف کا یہ جملہ ماورائے عقل معلوم ہوتا ہے۔ راوی پونم کو ائر پورٹ پر چھوڑ یہ محسوس کرتا ہے کہ اپنی قیمتی متاع وہیں چھوڑ آیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں :

ائر پورٹ سے واپسی پر جب میں اپنے فلیٹ پہنچا تو آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ وہ سامنے صوفے پر بیٹھی مسکرا رہی تھی مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ صدیوں کا سفر طے کر کے یہاں پہنچی ہو۔ ”

یوں دونوں طویل سفر کے بعد زاد سفر میں ایک دوسرے کی ہمیشگی رفاقت پا لیتے ہیں۔ کہانی اپنے منطقی انجام کو پہنچتی ہے۔ جسے مصنف نے تین طویل اقساط میں شائع کیا۔ افسانے کی طوالت اسے ایک ناولٹ کی صنف بھی قرار دے سکتی ہے۔ جس میں کوئی ایک قصہ اپنی مکمل جا معیت، اختصار اور سبھاؤ کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔

کہانی کا خوب صورت عنوان کہانی کے اختتام پر اپنے معنی سے قاری کو ایک منفرد سرور دیتا ہے۔ ”پونم پریت“ ، بدر کامل کی محبت، جسے راوی نے پا لیا۔

مصنف نعیم اشرف کی یہ کہانی موجودہ دور کے نوجوان قاری کے فہم و ذوق کے تناظر میں ایک بہترین افسانہ ہے۔ جس میں مصنف کا تحریر کردہ مرکزی کردار اور ان کے افسانوں کے دوسرے کردار بھی پچاس فیصد تک حقیقی ہیں۔ اس لیے یہ کہنے میں تامل نہیں ہو سکتا کہ ہمارے آس پاس ہی سانس لیتے ہیں۔

Facebook Comments HS