شارٹ نوٹس
انسان کی زندگی میں خوشی یا غمی کے اثرات آنا فطری بات ہے۔ اور بعض اوقات ان سے زندگی کے راستے بدل جانا، سوچ یا رویہ میں تبدیلی آجانا کوئی انہونی نہیں۔ اسی طرح دیکھنے میں آیا ہے کہ *بعض اوقات انسان کا رد عمل قدرتی آفات، خوشیاں یا شارٹ نوٹس خوشی یا غمی یا شارٹ نوٹس چیزوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ * اور ان سب کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔ میں اپنی اس بات کی وضاحت کہ لیے کچھ مثالیں سامنے رکھتا ہوں۔
* اچانک سے اطلاع آتی ہے کہ سیلاب آنے والا ہے اور گھنٹے میں علاقہ خالی کریں۔
* آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کا بانڈ نکل آیا ہے۔
* آپ کو کال آتی ہے جسے آپ جان کر نہیں اٹھاتے اور اسے خون کی ضرورت ہوتی ہے اور بعد میں اس کی موت کی اطلاع ملتی ہے۔
”FLASH Sale Offer“
آتی ہے اور چلی جاتی ہے آپ کو پتا ہی نہیں چلتا۔
* آفس میں شارٹ نوٹس پر سیمینار، میٹنگ یا کسی شاندار کھانے کا اہتمام کرنا پڑ جانا اور اس پر آپ کی کارگردگی کا انحصار ہونا۔
* اچانک سے آفس میں ترقی کا ہونا یا شارٹ نوٹس پر نوکری سے نکال دینا۔
اوپر بیان کرنے والی سب مثالیں ایسی ہیں جو شارٹ نوٹس پر ہیں اور ان کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا۔
چند دن پہلے میں سونے ہی لگا تھا کہ اچانک کال آئی۔ عموماً میں سونے سے پہلے موبائل سائلنٹ کر دیتا ہوں لیکن اس دن شاید بھول گیا۔ میرے کزن کی کال تھی اور انہوں نے میری پھپو کی بیٹی کا بتایا کہ طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ ہسپتال میں ہیں۔ میرے دل کو جیسے کھٹکا سا لگا اور تھوڑا بے چین بھی ہوا۔ ایک تو آپشن یہ تھی کہ صبح بھی جایا جا سکتا تھا کہ رات کے 11 تھے اور نیند تھکاوٹ سے برا حال بھی۔ لیکن دل نے اجازت نہیں دی اور یہ سوچا کہ اب جب کہ معلوم بھی ہو گیا ہے اور فاصلہ بھی 15 منٹ کا ہے تو مناسب نہیں کہ اس وقت نہ جایا جائے۔ اور اگر نا گیا تو نیند کیسے آ جائے گی۔ خیر۔ یہ جن کا ذکر ہو رہا ہے انہیں ہم سب کزنز * ”آپا“ * کہتے ہیں۔
میری بیگم نے بھی ساتھ جانے پر اصرار کیا۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور ساتھ کہا کہ دیکھو کسی کی آنکھ نہ کھلے تم آ جاؤ میں گلی میں انتظار کر رہا ہوں، لیکن والدہ کی بھی آنکھ کھل گئی اور وہ بھی ساتھ آ گئیں۔ ہم راستے میں یہی باتیں کر رہے تھے کہ اللہ انھیں صحت دے، ان کہ بچوں پر سلامت رکھے اور ہمیں مزید کسی دکھ، تکلیف، غم سے بچائے کیوں کہ ہمارا پورا خاندان اس وقت اندر سے زخمی ہے، مزید کسی صدمے کا متحمل بھی نہیں ہے اور ابھی پچھلے ماہ ہی ایک فوتگی نمٹائی ہے۔ لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہ بھی ایک ”شارٹ نوٹس“ ہے۔
15 سے 20 منٹ میں ہم ہسپتال تھے اور انٹرنس میں ہی ہمیں اپنی پھپو کے بچے ملے اور وہ گلے لگ کے روتے جا رہے ہیں اور بات نہیں کر پا رہے ہیں، بہت پوچھا لیکن شاید ان کو شارٹ نوٹس پہلے مل گیا تھا اور وہ اسی صدمے میں تھے، میں نے اپنا رخ ”ای سی یو“ کی جانب کیا جہاں ڈاکٹرز اور نرسز کا ہجوم تھا لیکن اندر جانے کی اجازت نہیں تھی، کچھ ہی منٹس میں ایک ڈاکٹر آیا اور اس نے ”آپا“ کی موت کی خبر سنا دی۔ میرا دل جیسے پھٹنے کو تھا اور قوت گویائی جیسے چھن گئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں لیکن ہمت کی اور ان کے شوہر کو سنبھالنا سب سے پہلے ضروری جانا۔ میرے دماغ میں ان کے ساتھ گزارے لمحات یاد آرہے تھے، ان کے ساتھ کیے پر تکلف مزاح، خصوصاً ان کے ساتھ گزارا آخری سفر جس میں انھیں گھر ڈراپ کیا تھا اور جو جو باتیں کیں تھیں۔ لیکن اب یہ یادیں تھیں۔
آپا کی سب سے بڑی خوبی ان کی مہمان نوازی تھی، پورا محلہ، خاندان اس کا گواہ ہے، ملنسار، ہر غمی اور خوشی میں پہنچنا بھی انہیں کا کمال تھا۔ محلے والے اس بات کے معترف ہیں جو کہ یہاں 3 دہائیوں سے رہ رہے ہیں کہ ہمارے اتنے سماجی روابط نہیں ہیں جتنے کے ان کے تھے۔ دل کی صاف اور قائدانہ صلاحیتوں کی مالک، چونکہ دل کی ہر بات زبان پر لانے سے ہمارے معاشرے میں کچھ مسائل اور اختلافات بنتے ہیں، وہ بھی تھے، لیکن انھیں میں مثبت لیتا ہوں کیونکہ دانشور افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اختلاف رائے، پر مغز افراد، خاندان، معاشروں کا ہی خاصا ہوتے ہیں۔
آپا کو ہسپتال سے لے کر دفنانے کی آخری رسومات تک میں شامل رہا اور ہر چیز کو گہرائی سے دیکھتا، سمجھتا رہا اور زندگی کی اس حقیقت کو محسوس کرتا رہا جو اٹل ہے، بار بار ذہن میں ایک ہی بات آئے کے ہم ہر چیز کی تیاری کرتے ہیں *لیکن زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کے لیے ہماری تیاری کیا ہے؟ * یقین جانیے کہ یہ شارٹ نوٹس مجھ پر اثر کر گیا ہے۔ میری ذہنی کیفیت جگہ پر نہیں آ رہی، اور اتنا صدمہ اپنی اولاد کا شاید نہیں ہوا جتنا اس موت کا میں نے لے لیا ہے، کیا وجہ ہے، کیوں ایسا ہو رہا ہے، شاید اس کا جواب یہی ہے کہ اس شارٹ نوٹس کو بہت ہی سیریس لو اور اس سے اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرو، ہم انسان ہیں لیکن ہم خود کو خدا سمجھتے ہیں جسے موت نہیں آنی، ہماری منصوبہ بندیاں اگلے 100 سال کی ہوتی ہیں اور اگلے پل کی زندگی کا پتہ نہیں ہوتا، وہ تو نیک تھیں صاف دل کی تھیں، ماں باپ اور خصوصاً ساس سسر کی دعاؤں میں تھیں، ان کی اگلی منزلیں اللہ آسان کرے گا۔
لیکن میں کہاں کھڑا ہوں؟ میرا عمل، سوچ، کردار، رویہ ایسا ہے کہ یہ شارٹ نوٹس اگر میرے متعلق ہوتا تو میں کیا کرتا / کرتی۔ میری موت پر سب اپنے پرائے روئیں گے، سب کام کاج چھوڑ کر میری رسومات میں شامل ہوں گے لیکن آخر میں اپنوں نے ہی قبر میں اتارنا ہے اور مجھے اکیلا تن تنہا چھوڑ کر واپس چلے جانا ہے، اب میں اکیلا / اکیلی ہوں گی، کوئی بھی ساتھ نہیں ہو گا۔ ہر بندے کی زندگی اپنے مدار میں واپس گھومے گی۔ اس لیے میں نے اس شارٹ نوٹس کو بہت ہی سیریس لینا ہے اور اپنے بارے میں اپنی آخرت کے بارے میں ضرور ہر روز کچھ وقت نکالنا ہے، اپنے رویوں، اعمال کا خود ہی احتساب کرنا ہے اور ان میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ بہتری لانے کی کوشش کرنی ہے۔ *حقوق اللہ* کے ساتھ ساتھ *حقوق العباد* کا پرچار بھی کرنا ہے اس میں بھی بہتری کے لیے سوچتے رہنا ہے اور ہر دن اس سوچ سے گزارنا ہے کہ کہیں آج میرا آخری دن نہ ہو۔


