پہلی عرب اسرائیل جنگ


14 مئی 1948 ء کو فلسطین میں جیسے برطانوی انتظامی معاملات جو لیگ آف دی نیشن (اقوام متحدہ سے قبل عالمی تنظیم) کی جانب سے دیے گئے تھے جیسے ہی اختتام کو پہنچے اسی رات امریکہ کی جانب صدر ہنری ٹرومین کی جانب سے اسرائیل کو عارضی طور پر تسلیم کرنے کا اعلان سامنے آ گیا، اسرائیلی لیڈر ڈیوڈ بن گوریان کی جانب سے اسرائیل کی آزادی کا اعلان کر دیا گیا، (یہ سب ایک دن ایک رات میں کیسے ہوا ظاہر ہے)، 15 مئی 1948 پانچ عرب ممالک مصر عراق، اردن (اس وقت ٹرانس جارڈن) شام اور لبنان فلسطین کو آزاد کرانے کی نیت سے اسرائیل پر حملہ آور ہو گئے، اسرائیل کا قیام یقیناً ایک بین الاقوامی سازش تھی، 1917 کے اعلان بالفور سے 1948 تک کے قیام تک جنگیں سازشیں ہجرتیں ایک مخصوص خطہ اراضی کے امن کو خراب کرنے کے لئے تھا۔

(1) الجزیرہ کی 13 جولائی 2009 کی رپورٹ اس حوالے سے کیا کہتی ہے ”یہودیوں کی 1933 سے 1936 تک ہجرت نے فلسطین کی ڈیموگرافی تبدیل کر کے رکھ دی، جس کی وجہ سے آئے روز فلسطینیوں اور یہودیوں میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے، صورتحال جب مزید خراب ہو گئی جب عربوں نے اقوام متحدہ کا فلسطین کی تقسیم کے حوالے سے مجوزہ پلان سرے سے مسترد کر دیا، John Marolwe اپنی کتاب The Seat of Pilate میں انگریز حکومت کی اختتامی لمحات کے حوالے سے لکھتے ہیں جیسے ہی یونین جیک نیچے اتارا جا رہا تھا اسی دن ڈیویڈ بن گوریان نے آزاد اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا، آگے مزید لکھا ہے، مصر کے شاہ فاروق اور شامی صدر کے مشیران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا اسرائیل پر فوجی کارروائی ایک کیک پیس کے حصول جیسی ہے“

مغرب میں اس جنگ کو کیسے دیکھا گیا، اس کے لئے ایک حوالہ اہم ہے، ماضی میں ہالی وڈ کے نامور اداکار کرک ڈگلس کی فلم Casting A Giant Shadow کو دیکھنے کا اگر کسی کو اتفاق ہوا ہو تو اندازہ ہو گا، ہالی وڈ کس طرح واقعہ پینٹ کر رہی تھی دیکھنے والوں کی نگاہ میں، فلم کا حوالہ اس لئے دے رہا ہوں کہ اس میں اسرائیلیوں کو بالکل اسی انداز میں اصول پسند، منظم دکھا گیا ہے جیسے گورے اپنی فلموں میں گوروں کو اور امریکی اپنی فلموں میں امریکنوں کو دکھاتے ہیں، ایک سین کا تذکرہ ضرورتا کر رہا ہوں، فلم میں کرک ڈگلس کرنل مارکس کے کردار میں نظر آئے جو ایک امریکی فوجی تو تھے لیکن ان کی ہمدردی اسرائیل کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ ایک رضاکار شہری کے طور پر اسرائیل جاتے ہیں اور پہلی عرب اسرائیل جنگ میں حصہ لیتے ہیں، فلم کے 23 ویں منٹ سے آگے کے سین میں دکھا گیا ہے کہ کرک ڈگلس فلسطین پہنچتے ہیں اور ان کو ایک ہوا لگا بس ( یعنی مطلب تحمل ) میں تل ابیب کی جانب روانہ کیا جاتا ہے، بس کیا ہے، ایک بکتر بند گاڑی بنی ہو جیسے، جس پر عرب فائرنگ کرتے ہیں، اور ایک خاتون فوجی زخمی ہوجاتی ہیں، لیکن وہ بس حملہ آور ہیں، ایک قوم پر جیسے اور جیسے ان کے بچے نہیں، وہ بے فکرے ہیں، لیکن اسرائیلیوں کے بچے ضرور ہیں، پوری فلم میں عربوں کو شغل میلے میں ہی دکھا گیا، جیسے قابض وہ ہیں اسرائیلی مظلوم ہیں۔ یاد رہے لارنس آف عربیہ میں عرب مظلوم بھی تھے، محکوم بھی، لیکن ترک غاصب تھے جیسے، فلم بس ایک نمونہ ہے تاحال برطانوی اور امریکی میڈیا صورتحال کو اسی طرح پیش کرتا ہے۔

اسرائیل نے جنگ جیتی، نقصان عربوں نے اٹھایا، 750000 فلسطینی گھر سے بے گھر ہوئے، دو سال جاری رہنے واہی جنگ میں 6 ہزار 2 سو اسرائیلی مارے گئی، جبکہ 2 ہزار عرب فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، (حوالہ لنک نمبر 4) جنگ ختم ہونے کے بعد تین علاقے ابھرے، اسرائیلی ریاست، مغربی کنارہ، اور غزہ، تقسیم آج تک موجود ہے، زیادہ جانی نقصان کے باوجود اسرائیل یہ جنگ جیت گیا کیونکہ وہ زیادہ علاقے پر قابض ہو گیا، عرب افواج بھی برطانوی فوجی تربیت کی حامل تھیں، کم جانی نقصان کے باوجود زیادہ علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہگانا نامی اسرائیلی مسلح تنظیم جو مختلف اسرائیلی گروپس میں سب سے منظم ملائشیا تھی، اس نے باقی گروپس کو یکجا کر کے اسرائیلی افواج کی بنیاد رکھی، جس اس وقت مشرق وسطیٰ کی سب سے جدید فوج تصور کی جاتی ہے۔

آج بھی فلسطینیوں کے علاقے محدود ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ اسرائیلی آباد کار اسرائیلی فوج کی مدد سے فلسطینیوں کو آیا روز گھر سے بے گھر کرتے رہتے ہیں، فلسطینیوں علاقوں میں بھی بغیر جنگ کے اسرائیلی مداخلت جاری ہے، فلسطینی پولیس بس بے بس ہے، فلسطین ہم ایک بڑی جیل کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے رہ رہ کر دو خیال آتے ہیں اول کیا شریف مکہ حسین ابن علی نے جس عرب بیداری اور آزادی کا جو خواب دیکھا تھا، کیا وہ یہی تھا؟

ہر گز، جیل کی زندگی میں محض سانس لینا تو آزادی نہیں ہوتی۔ دوسرا چار جنگیں ایک نتیجہ اسرائیل کا جغرافیہ ء بڑھتا گیا پھیلتا گیا۔ اس کی معیشت، اس کے ہمدردوں کی میڈیا اور صنعت پر پکڑ سب واضح کر دیتی ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل وہی کچھ کر رہا جس کا دعویٰ اسرائیلی آج کرتے ہیں جو دعویٰ وہ ہٹلر اور نازی پارٹی کے حوالے سے کرتے ہیں، اگر ہٹلر ہی غلط تھا جو یقیناً تھا تو کیا اسرائیلی درست کر رہے ہیں فلسطینیوں کے بچوں کے ساتھ، اسرائیلی افواج بھی وہی کچھ کر رہی ہیں۔

Facebook Comments HS