کاپی پیسٹ کی تاریک عینک سے دنیا کو دیکھنے والے


فلمیں ہوں یا خبریں، اب بات ایک ہی ہے۔ سارا دن ساس اور بہو کے جھگڑے کوئی کب تک دیکھے۔ چینل بدلیں تو سیاستدانوں کی گیدڑ بھبکیوں پر مشتمل خبروں، تجزیہ جات اور ٹاک شوز کے سوا کچھ نہیں۔ میڈیا میں پیش کیے جانے والے تمدن نے ہماری ثقافت سے جنم ہی نہیں لیا لہذا مہذب بھی نہیں۔ یہی حال ان خبروں، تجزیات اور نشریات کا بھی ہے جو ہمیں بین الاقوامی نشریات کے نام کے طور پر دکھائی جاتی ہیں۔

آپ کو مسٹر ٹرمپ کا دورہ ریاض تو یاد ہو گا۔ یہ مئی 2017 کا واقعہ ہے۔ اس دورے پر سعودی عرب کے 68 ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ ایران کے خلاف کوئی فیصلہ کن معرکہ ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ نے ماحول ایسا بنا دیا تھا کہ بس ایران کو کچھ ہوا کہ ہوا۔ تاہم بعد ازاں جو حالات سامنے آئے ان کے مطابق ایران کو تو کچھ نہیں ہوا لیکن امریکہ و سعودی عرب کے درمیان توانائی و انرجی کے مسائل، علاقائی سیاست اور انسانی حقوق کے حوالے سے خلیج بڑھتی ہی گئی۔

بعد ازاں فروری2019 کا ایک واقعہ بھی بہت اہم ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کے کیا کہنے۔ شاہزادے کا استقبال وزیراعظم پاکستان، وفاقی کابینہ کے اراکین اور آرمی چیف آف اسٹاف نے کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یوں لگ رہا تھا کہ اب تو سعودی عرب اور پاکستان تو یک جان دو قالب ہیں لیکن بعد ازاں پاکستان و سعودی عرب کے درمیان جوتیوں میں دال بٹتی سب نے دیکھی۔

مذکورہ دونوں مثالیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ زمانہ معلومات کی جنگ کا ہے۔ خبریں اور معلومات وہی ہوتی ہیں لیکن رنگ، آواز اور تصویر کی ترکیب سے انہیں پیش کرنے کا سلیقہ اور ہنر سارے منظر کو تبدیل کر دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا فن یہی ہے کہ کسی ماہر شعبدہ باز کی مانند لوگوں کے سامنے اپنی مرضی کے مطابق منظر کشی کی جائے۔ میڈیا پر بے انتہا اخراجات کرنے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ لوگ وہی کچھ دیکھیں، وہی سوچیں اور اسی پر اعتبار کریں جو انہیں دکھایا اور بتایا جائے۔

اب تیسری مثال بھی سعودی عرب کے متعلق ہی مناسب رہے گی۔ ذرا چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کو ملاحظہ کیجئے۔ اس دورے کے حوالے سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ”اب ایران کا کیا بنے گا“ ۔ واویلا کیا جا رہا ہے کہ چین بھی سعودی عرب کی گود میں چلا گیا ہے۔

ہم اس واویلے پر یہی مختصر تبصرہ کریں گے کہ چین کی مضبوط داخلہ و خارجہ پالیسی اور اس کا مقاومتی تفکر شاہد ہے کہ چین کسی کی گود میں جانے والا نہیں بلکہ دوسروں کو اپنی گود میں لینے والا ملک ہے۔ اس وقت ہمیں یہ تصویر دکھائی جا رہی ہے کہ چین اور سعودی عرب کے تعلقات یعنی ایران کی تنہائی۔ یہ انتہائی بچگانہ سوچ ہے۔ ممالک کے باہمی سفارتی دورے، تجارتی معاہدے اور اقتصادی قراردادیں خیر سگالی اور فلاح و بہبود سے ہٹ کر کچھ نہیں ہوتیں۔

اس دورے سے پہلے ہی چین عرب ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے۔ چین کی عربوں کے ساتھ غیر ملکی تجارت کا حجم 2021 میں تقریباً 330 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جس میں 2020 کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف چین اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حصہ 80 ارب ڈالر ہے۔ جو لوگ ممالک کے درمیان ایسے دورہ جات اور تعلقات سے گھبراتے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان دوروں کی بنیاد پر پالیسیاں تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ ایسے دورے پالیسیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

ہمیں ذرائع ابلاغ صرف ایک ہی تصویر دکھا رہے ہیں کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے پس سعودی عرب کی دوستی کی وجہ سے اب آئندہ چین بھی ایران کے مخالف ہو گا۔ حالانکہ اس دورے کی ایک دوسری تصویر بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے۔ اگر چین اور سعودی عرب آپس میں قریب ہوتے ہیں تو اس سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی قربت بڑھے گی۔

اگر سنجیدگی سے چین کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی روابط آگے بڑھنے میں کامیاب ہو گئے تو اس کا منفی اثر امریکہ و یورپ پر پڑے گا جبکہ یقینی فائدہ ایران کو پہنچے گا۔ یعنی چینی صدر کا یہ دورہ مجموعی طور پر ایران کے لئے مثبت پیغامات اور امریکہ و یورپ کے لئے منفی اشارات رکھتا ہے لیکن ذرائع ابلاغ ہمیں اس کے برعکس دکھا رہے ہیں۔

ہمارے ذرائع ابلاغ کی مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں حالات حاضرہ پر خود سے تحقیقی رپورٹس اور تجزیہ و تحلیل کا تولید کرنا تو دور کی بات ہے، یہاں معیاری اردو زبان میں لکھا ہوا دیکھ کر پڑھنا بھی بعض نام نہاد صحافیوں کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا اور یو ٹیوب چینلز نے تو رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ بہت زیادہ تعداد میں قلم اور کیمرہ ایسے لوگوں نے سنبھال لیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ الفاظ کی املا بھی درست نہیں لکھ پاتے بلکہ ان میں سے اکثر کو تو دیکھ کر بھی درست تلفظ کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا۔ جب ہمارا صحافی ہی پڑھا لکھا نہیں، ہمارا لکھاری ہی محقق نہیں، ہمارا ادیب ہی حالات حاضرہ سے آگاہ نہیں تو پھر جہالت، پسماندگی اور استعماری سازشوں کا مقابلہ کس نے کرنا ہے۔

قارئین کرام! مذکورہ بالا دلائل پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ چینل نہیں میڈیا بدلیں۔ ہمیں گھبرانے کے بجائے اپنے صحافیوں اور لکھاریوں کا تعلیمی و تحقیقی معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ذرائع ابلاغ کے معیار، نیز اپنی معلومات اور خبروں کے منابع﴿سورسز﴾ کو بدلنا پڑے گا۔ آپ صحافت کے میدان میں نقل مارنے والے اور ان پڑھ صحافیوں سے جان تو چھڑوائیں، ایک مرتبہ کاپی پیسٹ کی تاریک عینک اتار کر تو دیکھیں، آپ کو اپنے ارد گرد روشنی ہی روشنی نظر آئے گی۔

Facebook Comments HS