33 برس پہلے: جب ہارون الرشید نے نواز شریف کا قصیدہ لکھا


(معروف صحافی ہارون الرشید کی یہ تحریر ہفت روزہ ندا کے 28 مارچ 1989 کے شمارے میں "جانشین” کے عنوان سے شائع ہوئی۔)

علامہ شبلی نعمانی نے کہا تھا کہ اہل کشمیر جب وادیوں سے میدانوں میں اترتے ہیں تو اگلی نسلوں میں ان کے نقوش سنورنے لگتے ہیں۔ نواز شریف کے نقوش تو کم ہی سنورے ہیں البتہ پنجاب کے میدانوں میں اس کی قسمت نے رفعتوں کو ضرور چھو لیا ہے۔

39 سالہ نواز شریف کا چہرہ آج بھی ایک کشمیری کا چہرہ ہے۔ روشن جلد پر تازگی اور معصومیت کا تاثر، اپنے کسی ہم عمر کی طرح جو آج بھی مقبوضہ کشمیر کے کسی برف زار میں ریوڑ ہانکتے، سیب چنتے یا قالین بنتے ہوئے ایک اداس کشمیری گیت گا رہا ہو۔ ”ہم صدیوں سے اچھے وقتوں کی آس میں زندہ ہیں، اے ستاروں بھرے آسمان پر رہنے والے رب بھلے دن اب آئیں گے“ ۔

نواز شریف نے جس کے لیے ”تجھے خدا نواز رہا ہے، نواز شریف!“ کا نعرہ لگایا جاتا ہے، شاید ہی کبھی خدا سے قسمت کا گلہ کیا ہو کہ وہ کہکشائیں اور آلوچے کے شگوفے کھلانے والی قدرت کے دست سخا کی ایک علامت ہے لیکن نواز شریف کے اندر کا اداس اور تنہا کشمیری آج بھی زندہ ہے۔ وہ آدمی جو ہجوم میں تنہا رہتا اور مشکلوں میں دعائیں مانگتا آس امید پہ بروئے کار رہتا ہے۔

اس آدمی نے، جس کے نام سے اخبارات میں نعرہ زن مکالمے شائع ہوتے ہیں، پچھلے کئی ہفتے دعائیں مانگنے میں گزارے۔ اس عرصے میں جب اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی اور اس کی سیاسی زندگی سوالیہ نشان بنتی دکھائی دیتی تھی۔ تقریباً اپنے ہر ملنے والے سے اس نے یہ ضرور کہا ”بس دعا کیجئے“ ۔ 13 مارچ کی سہ پہر اسمبلی ہال میں داخل ہونے سے پہلے، جب دنیا بھر کے اخبارات اس کی شکست کی پیشگوئی کر رہے تھے، اس نے درجنوں ملنے والوں کے سامنے یہ مختصر سا جملہ دہرایا، اس کے چہرے پر ایک عاجزی اور مسکینی تھی۔ وہ اس سہ پہر اسمبلی سے ایک اور فتح کے ساتھ لوٹا تو اس وقت بھی یہ عاجزی اس کے ساتھ تھی۔

کیا یہ محض اس کی اور اس پر انحصار کرنے والوں کی دعائیں تھیں جو اس کے لیے اور ان کے لیے مستجاب ہوئیں؟ اس کے برعکس وہ بھاگ دوڑ میں لگا رہنے والا آدمی ہے۔ وہ مصطفی کھوکھر اور بھٹو کی طرح بے قرار دکھائی نہیں دیتا لیکن وہ انہی کی طرح ایک مشقت کرنے والا آدمی ہے۔ اپنی شاندار صحت کے ساتھ، وہ صبح سویرے بیدار ہوتا اور رات گیارہ بجے تک کے لیے دن بھر کے کام کاج کا ایک ادھورا سا نقشہ بناتا ہے۔ اپنی شخصیت میں وہ اہل سیاست نہیں، اہل تجارت و صنعت کی طرح ہے، مطالعے کے شغف اور اظہار کی ندرت سے محروم ایک عملی آدمی جو اپنے بہت سے کام ان لوگوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے جنہیں حالات، حاجت اور اس کی نگاہ انتخاب اس کے گرد جمع کرتے ہیں۔

 ”منیجر“ اس کے ایک حریف سیاست دان نے پنجاب اسمبلی میں اس کی تازہ کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”وہ ایک منیجر ہے۔ پیپلز پارٹی کے شور مچانے والے احتجاج پسند سیاست دانوں کے برعکس وہ صرف اپنے کام پر نگاہ رکھتا ہے“ ۔

 ”صرف دس سال پہلے“ محکمہ تعلقات عامہ کے ایک افسر نے، جو اب اس کے حامیوں اور مخالفوں میں منقسم ہے، اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا ”وہ اپنے والد کے دعوتی کارڈ پر گورنر ہاؤس میں داخل ہوا، یہاں اس وقت جنرل جیلانی براجمان تھے“ خوش کلام افسر نے جو چند ماہ پہلے تک اس کی شہرت پسندی پر ناخوشی کا اظہار کرتا تھا اور اب پیپلز پارٹی کے حریف کی کامیابی کا آرزو مند ہے، کسی قدر جھجک کے ساتھ کہا ”میرا جی چاہا کہ اس سے دعوتی کارڈ طلب کروں لیکن وہ ایک بے ضرر اور مؤدب سا نوجوان دکھائی دیتا تھا، جس پر اعتراض کرنے کو جی نہ چاہے“ ۔

گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے تک تعلیم حاصل کرنے والا آدمی، جسے کبھی تاریخ سے حقیقی دلچسپی نہیں رہی اور جس نے اہل عظمت کی داستانوں میں کبھی جی نہیں لگایا، اپنے زمانہ طالب علمی میں بھی ایسا ہی تھا۔ ایک سیلف میڈ کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والا لڑکا، جسے اپنے لباس کا خیال رہتا اور جو دوسروں کے ساتھ ادب سے پیش آتا۔ ”وہ پچھلے بنچوں پر بیٹھنے والا تھا اور نہ سب سے اگلی نشست پر نگاہ رکھنے والا“ اس کے ایک کلاس فیلو نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا ”اپنی قسمت پر شاکر، شوخ لیکن شریر نہیں، نہ حد سے زیادہ نمایاں، اور نہ نظر انداز کیا گیا“ ۔

مہربانی کرنے والے ایک سرپرست ہاتھ نے اس نوجوان کو وزارت عطا کی، جس نے اپنی اجتماعی زندگی کا آغاز انجمن کشمیریاں سے کیا تھا، جس کے پاس روپے کی فراوانی تھی اور خرچ کرنے کا حوصلہ لیکن وزیر خزانہ کے طور پر گریجویٹ لڑکے کی کامیابی میں اس کی اپنی کامیابی تھی۔ ”وہ سوچ بچار کرنے والا آدمی ہے“ وزارت خزانہ میں اس کے ساتھ کام کرنے والے ایک افسر نے کہا ”اگرچہ ایسا نظر نہیں آتا، وہ اپنے فائدے پر نگاہ رکھتا ہے، لیکن بے تاب نہیں ہوتا۔ اگر وہ پیاس سے مرا جا رہا ہو، تب بھی اس کے ہونٹ سوکھے نظر نہیں آتے“ ۔

اس آدمی کے بارے میں، جو اب چترال سے کراچی تک، ایک سیاسی مکتب کا سب سے مقبول نمائندہ ہے، بہت ہی کم معلومات مہیا ہیں، ساڑھے تین سال سے وزارت اعلیٰ کے منصب پر سرفراز آدمی کا مستند ”بایوڈیٹا“ تک موجود نہیں۔ ”ہمیں تو اس کی تاریخ پیدائش تک کا پتا نہیں“ اس کے ایک قریبی ساتھی نے کہا، جسے اپنے لیڈر کا امیج بہتر بنانے کی فکر رہتی ہے۔ اس کی ایک بڑ ی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے بارے میں کم کم گفتگو کرتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو ظاہر کرنے سے زیادہ چھپانے کا عادی ہو۔ کیا وہ اپنے آپ سے نامطمئن ہے؟ کیا اس کی شخصیت کے اسلوب میں کوئی چیز ایسی ہے جو اسے تصویر کے سارے رنگوں کے ساتھ خود کو پوری طرح منکشف کرنے سے روکتی ہے؟

اس کے حریف کہتے ہیں کہ اقتدار اور روپیہ پیسہ اس کی کمزوری ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کے حامی اور حلیف بھی اس کی تائید کرتے ہیں، اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں کہ روپیہ اس نے اپنی محنت سے کمایا ہے اور کم از کم اس وقت وہ عوام کی تائید سے اقتدار میں ہے۔ ”ایک وکیل کا گھر اس کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا تھا“ اس کے ناقد نے کہا۔ یہ جملہ اس کے ایک مداح کو سنایا گیا تو اس نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ ”نہیں، ہرگز نہیں، وہ گھر اجاڑنے نہیں، بسانے والا آدمی ہے وہ تو لوگوں میں پلاٹ بانٹتا ہے تاکہ وہ ان میں آسودہ رہیں“ ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں اس کے ساتھ تعلیم پانے والا ایک اخبار نویس سرگوشیوں میں عائد کیے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ ”دولت مندوں اور طاقت وروں کے بارے میں ہمیشہ جھوٹی کہانیاں پھیلائی جاتی ہیں۔ میں کئی سال اسے قریب سے دیکھتا رہا ہوں، وہ تو ایک بہت ہی شریف لڑکا تھا، جسے کرکٹ کھیلنے، اپنی صحت بہتر بنانے اور سلیقے سے وقت گزارنے کے سوا کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی“ ۔

اس عام آدمی نے جسے شہرت اور اقتدار حاصل نہ ہوتا تو وہ اپنے چہرے بشرے سے پڑوس میں رہنے والے کسی بھی دوسرے شخص کی طرح نظر آتا اپنے اندر کے لیڈر اور کامران آدمی کو کب دریافت کیا شاید اس وقت جب اس نے سلیقہ مند منتظم اور مذہبی شخص کی شہرت رکھنے والے اپنے والد کے پھیلے ہوئے کاروبار میں ہاتھ بٹانا شروع کیا، شاید اس وقت جب نوجوانی کے جھجک میں مبتلا دور میں اسے وزارت خزانہ کا نازک اور پیچیدہ محکمہ سونپا گیا، شاید اس وقت جب سیاسی پابندیوں کے عہد میں اسے وزارت علیا عطا کی گئی، شاید 1988ء کی انتخابی مہم میں جب دوسرے لیڈر مجبوریوں کا شکار ہو کر بے بس ہو گئے تھے۔ شاید یہ عمل ان سب مواقع پر زینہ زینہ انجام پایا اور نومبر 1988 ءمیں جب ہجوم سے شرمانے والے آدمی کا بڑے بڑے ہجوموں نے خیر مقدم کیا تو اس نے کسی قدر فخر اور اظہار تشکر کے ساتھ اپنے دوستوں سے کہا ”یہ میری زندگی کی پہلی سیاسی مشق تھی جو کامیاب رہی“ ۔

تب اس کے لہجے میں وہ اعتماد اور چہرے پر وہ رونق دیکھنے میں آئی جو اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اس نے ڈیرہ اسماعیل خاں میں انفرادیت پسند فضل الرحمن، پشاور میں احساس برتری کے مارے ولی خاں اور کراچی میں جوش و خروش سے لبریز الطاف حسین سے رابطہ کیا۔ وہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں وفاقی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہا تھا، جس نے 35 فیصد زیادہ نشستیں جیتی تھیں۔ اگرچہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا لیکن یہی کیا کم ہے کہ اس نے ایسا کر دکھانے کی کوشش کی۔ شاید یہ اسی رویے کا نتیجہ تھا کہ 19 نومبر کے انتخابات میں اس کا محاذ پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا جسے ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک معجزے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایک دانشور نے کہا یہ ایک نئی جہت پیدا کرنے کی صنعت کارانہ جبلت تھی۔ اگر وہ اس راستے پر قائم رہتا اور اپنے مزاج میں تھوڑی سی وسعت پیدا کر سکتا تو شاید آج اس کا قد اس سے زیادہ اونچا ہوتا، جتنا کہ آج ہے۔ لیکن وہ ہر مقابلہ جیتنا چاہتا ہے۔ اس نے پنجاب کی وزارت علیا پر اکتفا نہیں کی، جو اس عمر کے ایک ایسے شخص کے لیے بڑا اعزاز ہے، جس نے کوئی جماعت منظم نہیں کی، کسی جلسہ گاہ میں دریاں نہیں بچھائیں، جیل نہیں کاٹی، انتظار کے گداز پیدا کرنے والے کرب آمیز لمحات سے نہیں گزرا۔ وہ اپنے شکست خوردہ ساتھیوں کی صفیں چیرتا ہوا آگے بڑھا اور اس نے اسلامی جمہوری اتحاد کی صدارت پر قبضہ کر لیا۔ ایک فاتح کی طرح نہیں ایک صنعت کار کی طرح جو چال چلنے سے پہلے سب مہرے ٹھیک جگہوں پر رکھنے کا بندوبست کرتا ہے۔

بندوبست کا تجربہ اسے بہت ہے، کارخانے لگانے، چلانے، ان کی مصنوعات بیچنے اور اس سارے عمل کے لیے سرکاری قرضے حاصل کرنے کی مشق کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے احساس کمتری کے مارے کلرکوں کی اعتنائی سے لے کر اکڑی ہوئی گردنوں والے سفاک اور چالاک افسروں تک سے واسطہ پڑتا ہے جو چیزوں کو الجھانے اور سلجھانے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ وہ ان کے درمیان، ڈیڑھ عشرے سے موم کو فولاد اور فولاد کو موم بنا رہا ہے۔ اس کے بہترین حربے آج بھی کاروباری تکنیک رکھتے ہیں۔ شاید اسی تجربے سے اس نے سیکھا ہے کہ ہر آدمی اہم ہوتا ہے اور کامیابی کے آرزو مند کو ہر آدمی کی پرواہ کرنا پڑتی ہے۔ ”تم اسے ادنیٰ آدمی سمجھنے کی غلطی نہ کرو“ اسے قریب سے جاننے والے ایک شخص نے کہا ”اس میں استقلال اور وفا کشی ہے“ ۔ اس نے بھٹو کی بیٹی اور ضیا الحق سے نفرت کرنے والی وزیراعظم بینظیر کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات کا حوالہ دیا، جسے گیارہ سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار ملا تھا۔ ”اس نے اپنی میز پر ضیا الحق کی تصویر سجائے رکھی“ ۔ متعدد اہم سیاست دانوں سے گہرے مراسم رکھنے والے سیاسی کارکن نے کہا ”اس کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو ہرگز ایسا نہ کرتا“ ۔

کیا دور سے بے رنگ اور سپاٹ دکھائی دینے والے شخص کی زندگی رنگ اور ندرت سے محروم ہے؟ اس کی خلوتوں سے آشنا لوگ اس تاثر کی تصدیق نہیں کرتے۔ وہ موسموں، منظروں اور چہروں سے متاثر ہوتا ہے، کبھی کبھی تو اتنا زیادہ کہ پچھتاوا اس کے دل پر دستک دینے لگتا ہے۔ ایک واقف حال نے پچھلے مہینے کا ایک قصہ سنایا، جب چترالیوں کے ایک وفد نے اس سے ملاقات کی۔ یہ سادہ دل دیہاتی لیکن پرعزم سیاسی کارکن وزیراعلیٰ سے کہنے آتے تھے کہ وہ نصرت بھٹو کی خالی ہونے والی نشست کے معرکے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان میں سے ایک نے کہا ”ہم یہ انتخاب جیت لیں گے، شرط صرف یہ ہے کہ آپ انتخابی مہم اپنے ہاتھ میں لے لیں“ انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ اس کے مہمان ٹھہریں گے اور نہ اس سے کسی مہربانی کے طالب ہیں۔ روایت پسند لوگ اپنے ساتھ چترال کا روایتی چغہ لائے تھے جو اظہار تعلق کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب وہ چغہ پہننے کے لیے اٹھا تو اس کی آنکھ میں آنسو تھے۔

سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ شخص جو عرصہ امتحان سے نہیں گزرا، اقتدار سے محرومی کی دھوپ میں اپنے قدموں پر پورے قد سے کھڑا رہ سکتا ہے۔ کیا وہ دباؤ، آزمائش اور محرومی کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ اس سے امیدیں وابستہ کرنے والے لوگ بھی اس سوال کا جواب وثوق سے نہیں دے سکتے۔ وہ یقین دلانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ وہ امتحان کا مقابلہ کرے گا لیکن یہ سوال ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ یہ سوال اس کے دو نائبین سے کیا گیا ان میں سے ایک نے کہا اس کی پوری کوشش اس نکتے پر مرکوز رہے گی کہ وہ آزمائش سے دوچار نہ ہو، دوسرے کا جواب یہ تھا ”اس نے اپنے آپ کو دریافت کر لیا ہے، اب وہ ایک مختلف آدمی ہے“ کیا وہ واقعی مختلف ہو چکا ہے؟ کیا اس نے واقعی خود کو دریافت کر لیا ہے؟ اس سوال کا جواب نواز شریف یا اس کے حریفوں کو نہیں، وقت کو دینا ہے۔ اور وقت کسی سے رعایت نہیں کرتا۔

نواز شریف خواہ کتنے ہی طاقتور ہوں، ان کی حیثیت ایک علامت اور جانشین کی ہے۔ ابھی انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ایک حقیقی رہنما ہیں، ابھی ایک آنچ کی کسر باقی ہے۔

Facebook Comments HS