کسان کے چار بیٹے جن میں اتفاق نہ ہو سکا


احمد نے تمام عمر کھیتوں میں کام کرتے کاٹ دی تھی۔ اب وہ چل پھر نہیں سکتا تھا۔ ہر وقت بستر پر لیٹا کھانستا رہتا ہے۔ اس کے چار بیٹے تھے۔ چاروں میں سے کوئی بھی محنت کے لحاظ سے باپ پر نہیں گیا تھا۔ ہر وقت فون لے کر بیٹھے رہتے یا یوٹیوب پر آسان پیسے کمانے کے ذریعے تلاش کرتے رہتے۔ چھوٹے بیٹے کو ٹک ٹاک پر مشہور ہونے اور بڑا سٹار بننے کا شوق چڑھا ہوا تھا۔ ہر وقت فون ہاتھ میں لیے عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہتا تھا۔ باپ اپنے بچوں کے بارے میں بہت پریشان تھا۔

ایک شام احمد کی طبیعت بہت خراب تھی۔ اسے نظر آنے لگ گیا تھا کہ اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ اس کے بچے اس کی نصیحتوں کا اس کے بچوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا تھا۔ ایسے میں شدید بے چینی میں اسے ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ چاروں بچوں کو فوراً بلائے۔ بچے بادل ناخواستہ آئے۔

احمد نے اپنی بات شروع کی:

”میرے بچوں جیسا کہ تمھیں پتہ ہے کہ میں نے ساری عمر اپنے کھیتوں میں کام کرتے گزار دی ہے۔ کیا تم لوگوں نے کبھی سوچا کہ ہمارا باپ ایسا کیوں کرتا ہے؟“

”ابا آپ پرانے لوگ ہیں، آپ کو نہیں پتہ کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ اس لیے آپ اپنی پرانی دنیا سے جڑے رہنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ “

احمد چھوٹے بیٹے کا جواب سن کر سناٹے میں آ گیا۔ اس نے بڑے بیٹے کی طرف دیکھا۔ بڑا بیٹا بولنے لگا:

”میرے خیال میں تو آپ چاہتے تھے کہ ساری زمین آپ کو ملے۔ اگر آپ زمینوں پر خود کام نہیں کرتے تو تایا یا چچا ان پر قبضہ کر لیتے۔ بس آپ اپنی زمینوں کو قبضے سے بچانے کے لیے ہر وقت وہاں موجود رہتے تھے۔ “

بڑے بیٹے کا جواب سن کر احمد کی کھانسی کا دورہ اور شدید ہو گیا کہ کھانستے کھانستے کا منہ بلغم زدہ خون سے بھر گیا۔ اس نے اپنے منجھلے دونوں بیٹوں کی طرف دیکھا جو ایک طرف سر سے سر جوڑے یوٹیوب سٹوڈیو پر اپنی نئی لگائی ویڈیو کے وائرل ہونے کا انتظار کر رہے تھے حالانکہ انہیں پتہ تھا کہ ان 32 ویوز میں 28 ویوز ان کے اپنے ہیں اور باقی چار ویوز ان کے دوستوں کے ہیں۔ احمد کی بیوی بولی:

”اے منحوسو! تمھارا ابا تمھیں بلا رہا ہے تو اور تم اپنی ماں کے اندر گھسے ہوئے ہو۔ ابا کی بات کا جواب دو۔“
”ابا نے کیا کہا؟“
”تمھارے ابا نے پوچھا ہے کہ تمھارے خیال میں ابا نے ساری عمر کھیتوں میں کیوں گزار دی۔“

”تو اماں اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے۔ ہم ان کے بیٹے ہیں۔ ہماری ضروریات کا خیال رکھنا ان کا فرض ہے تو وہ اپنا فرض نبھاتے رہے ہیں۔ لیکن کاش ابا کنجوسی نہ کرتے اور اپنی ایک اچھا ڈی ایس ایل آر لے دیتے تو آج ہم بھی لاکھوں کروڑوں میں کھیل رہے ہوتے۔ “

ان دونوں کا جواب سن کر اماں کا چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ حالانکہ مایوسی کی لہر کا تعلق ان کے جواب سے کم تھا بلکہ زیادہ اس بات سے تھا کہ شوہر کی وفات کے بعد اسے ان ناہنجار بیٹوں کے ساتھ رہنا پڑے گا۔

احمد کو نظر آ رہا تھا کہ اس کی ترکیب کسی کام نہیں آئے گی۔ پھر بھی اس نے بتانا شروع کیا۔

”اوئے، میری بات سنو۔ کھو کھو کھو۔ میں دل میں ایک راز ہے جو میں تمھیں بتانا چاہتا ہوں۔ یہ راز مجھے ایک بزرگ نے بتایا تھا کہ میری زمین کے نیچے ایک بہت بڑا خزانہ چھپا ہوا ہے۔ اب مجھے وہ جگہ بھول گئی ہے کہ جہاں چھپایا گیا تھا۔ میں نے یہ خزانہ تم لوگوں کے لیے بچا کر رکھا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم لوگ وہ خزانہ ڈھونڈ لو اور اپنی اپنی زندگی ہنسی خوشی گزارو۔ کھو کھو کھو۔“ ۔

احمد نے یہ کہہ کر کھانسنا بند کر دیا جیسے وہ اپنی سانسیں خود روکنا چاہتا ہے اور دیوار کی طرف کروٹ لے لی۔

بیٹوں نے یہ سنا تو بے یقینی کی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر اس طرح باہر کی طرف بھاگے کہ دوسروں کو لگے کہ ٹہلتے ٹہلتے جا رہے ہیں۔

ٹک ٹاکر نے سب سے پہلے یہ خبر دنیا کے سامنے رکھی۔ یوٹیوب والوں نے فوراً ایک لائیو ویڈیو دی۔ بڑا بیٹا بھاگ کر پٹواری کے پاس گیا جس کے ساتھ مل کر وہ چوری چوری اپنے باپ کی زمین اپنے نام لگوانا چاہتا تھا۔

ادھر ٹک ٹاکر کی ویڈیو وائرل ہوئی اور ہر کوئی اس عجیب خزانے کا تخمینہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یوٹیوب ویڈیو سرحد پار دھوم مچانے لگی۔ اور وہاں کے چینل چیخ چیخ کر پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کو جوش دلا رہے تھے کہ وہ اپنے بھولے بسرے خزانوں کو یاد کریں تا کہ کوئی دشمن ملک ان کی دولت کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ادھر پٹواری خبر سن کر بھاگا بھاگا تحصیل دار کے پاس اور تحصیل دار اے سی کے پاس پہنچا۔ وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے آیا کہ خزانہ ملنے کی صورت میں یہ زمین بحق سرکار ضبط کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

اگلی صبح سب زمینوں کی طرف بھاگے۔ وہاں نئے ٹاک ٹاکروں کا ایک ہجوم تھا جو اپنی اپنی ویڈیو بنانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ وہاں پر میڈیا کے لوگ تھے جو یو ٹیوب والوں سے انٹرویو کرنا چاہتے تھے اور راز اگلوانا چاہتے تھے۔ اور وہاں پر لینڈ ریکارڈ کا عملہ تھا جو اس زمین کو بحق سرکار ضبط کرنے کے لیے آیا تھا۔
گھر میں احمد کی بیوی حسرت سے احمد کو دیکھ رہی تھی جو اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے چکا تھا۔

Facebook Comments HS