عالمی کہانیاں اور ظفر قریشی


صحافی ظفر قریشی کو آج کے لوگ ایک مترجم ناول نگار کے نام سے جانتے ہیں جو سات سمندر پار نیویارک نامی شہر میں قیام پذیر ہیں۔ چار دہائیوں سے زیادہ کا یہ بن باس ظفر کا اپنا فیصلہ ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ ستر کی دہائی میں جب ضیائی اسلام، اسلام آباد سے نکل کے ملک کے طول و عرض میں شتر بے مہار کی طرح داخل ہونے لگا اور جیتی جاگتی زندگیوں کے سوچتے ذہنوں، دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں پر طرح طرح کے قدغن لگنے کے ساتھ ساتھ زبانوں کی کتر بیونت بھی ہونے لگی تو ان دنوں بہت سے سوچتے ذہنوں نے خود ساختہ جلاوطنی کی راہ اپنائی۔ سر زمین وطن کو چھوڑنے والوں میں ایک بڑی تعداد صحافیوں کی بھی تھی۔ کراچی چھوڑنے والوں میں پہلا قدم اشرف شاد کا قدم تھا ان کے بعد داؤد سبحانی، الطاف احمد، ظفر قریشی، مسعود حیدر وغیرہ وغیرہ قدم بڑھاتے گئے۔ جو نہ جا سکے وہ جانے کی تگ و دو کرتے، کرتے تھک ہار کے بیٹھ گئے۔

ان جانے والوں ہی میں سے ایک ظفر قریشی بھی ہیں۔ بنیادی طور پر ظفر قریشی صحافی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ایک ایسے اخبار کے صحافی رہے جس کے مالی حالات کبھی بھی اچھے نہ رہے۔ اس میں کچھ عمل دخل مالکان کے رویے کا بھی تھا کہ ملک کا سب سے بڑا انگریزی روزنامہ ان کا پہلا بچہ ہونے کے باعث ہمیشہ حاصل تمنا اور توجہ رہا۔ اس سبب اردو کا روزنامہ کبھی بھی پنپ نہ سکا اور بالآخر ایک دن آخری ہچکی لی اور گمنامی کی دنیا میں چلا گیا۔

ان دنوں صحافیوں کے حالات hand to mouth کی عملی تصویر ہوا کرتے تھے۔ زندگی کی گاڑی کو رواں رکھنے کے لئے انھیں بہت کچھ کرنا پڑتا تھا۔ ظفر قریشی ان دنوں بھی مختلف ڈائجسٹوں میں ترجمہ نگاری کا کام کرتے تھے اور ہمیشہ سے کمال کے مترجم تھے۔ جن کو آج کے لوگ ایک مترجم کہانی کار اور ناول نگار کے نام سے جانتے ہیں۔ ظفر جو گئے تو برسوں نہ پلٹے، پھر کبھی اماں کے گزر جانے کا سن کر تو کبھی کسی اور سبب برسوں، برسوں کے وقفے سے پرانی راہوں پر دھیمے، دھیمے قدم رکھتے آنے جانے لگے۔ گزشتہ چند سالوں سے ان کے آنے جانے کا وقفہ کم ہوتے، ہوتے تقریباً سالانہ ہو گیا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک کے چیدہ، چیدہ لکھاریوں کی مشہور کہانیوں کے ترجموں کا بنڈل بغل میں دبائے آتے ہیں، کتاب چھپواتے ہیں، تقریب رونمائی کرتے ہیں اور جس خاموشی سے آتے ہیں اسی خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔

گزشتہ سال ان کی آمد ایک عدد ناول ”بوم بسیرا“ کے ساتھ ہوئی تھی۔ دو ہفتے قبل ان کی ترجمہ شدہ کہانیوں کی چھٹی کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی۔ تین سو پچاس صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مختلف زبانوں کی منتخب کہانیوں کے ترجمے شامل ہیں۔ کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔

یہاں پر کتاب کی ہر کہانی کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں بس ایک دو کے بارے ہی میں بات چلے گی۔ جیسے ”انسانی یخنی“ امریکی پس منظر میں لکھی گئی یہ کہانی دراصل حماموں کی کہانی ہے۔

حمام، اشنان گاہ، غسل خانے، جائے غسل اور آج کی زبان میں مقبول عام لفظ باتھ روم یا شاور روم ہمارے سماجی رہن سہن کا ایک بہت بڑا مقام ہے۔ جہاں اپنے، اپنے اجسام کی ہر قسم کی گندگی سے صفائی کے نام پر چھٹکارا حاصل کرتے ہیں۔ اس میں ذہنی غلاظت بھی شامل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تنہائی کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اکثر ذہنی غلاظت جمع بھی کر رہے ہوتے ہیں۔

چھتیس صفحات پر مشتمل اس کہانی میں ”انسانی یخنی“ کے بیان کے ساتھ ساتھ یورپ، امریکہ، لاطینی امریکہ اور جاپان کے حماموں کی ایک پوری تاریخ بھی پڑھنے کو ملتی ہے۔

آج کے صاف ستھرے، دھلے دھلائے اور دوسروں کو صفائی ستھرائی کی تعلیم دینے والے یورپ، امریکہ میں صرف سو سال قبل تک نہانے کا تصور تک نہ تھا، حمام تو دور کی بات ہیں۔ اسی کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ چوتھی صدی کی ایک مردم شماری کے مطابق روم میں لگ بھگ دس لاکھ باشندوں کے لئے سات سو چھپن عوامی حمام تھے اور قدیم رومیوں نے نہانے کو عبادت کے برابر لا کھڑا کیا تھا۔

ستائیس ایکڑ اراضی پر پھیلے ان حماموں میں کھیل کے میدان اور ایک اولمپک سائز کا تیراکی کا تالاب، باغات، فوارے اور ایک چار منزلہ عمارت شامل تھی۔ جس میں سولہ سو افراد نہا سکتے تھے۔ اس عمارت میں مالش کے کمرے، بھاپ میں بیٹھنے کے خواہش مندوں کے خصوصی کمرے، جسم پر خوشبوئیں ملنے کے علیحدہ کمرے اور زلفیں سنوارنے والے ادارے شامل تھے۔ کمروں کی اندرونی دیواروں کو سونے اور چاندی کے نقش و نگار سے سجایا جاتا تھا۔ ان میں سے ایک سو کمرے عورتوں کے لئے مخصوص تھے۔ کمروں کے فرش پر ٹائل لگے ہوتے تھے اور فرش کو گرم رکھنے کے لئے فرش کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی۔ نہانے کے ٹب کو گرم رکھنے کے لئے روزانہ پچاس بھٹیوں میں آگ جلائی جاتی تھی اور کوئی دس ٹن لکڑی اس میں جھونکی جاتی تھی۔

اس سب اہتمام کے ساتھ لوگوں کو نہانے کی دعوت گھنٹہ بجا کر دی جاتی اور مردوں عورتوں کو یکجا نہانے کی اجازت تھی۔

قدیم رومیوں کو یقین تھا کہ نہانے یا اشنان کے ذریعے گھٹیا، خارش، مرگی کے دوروں، مردانہ کمزوری، گینگرین، کتے اور دوسرے جانوروں کے کاٹے کا علاج، ہڈیوں کے درد، پھوڑے پھنسیوں اور پلکوں تک سے جوؤں کو نکالنے کے لئے زیادہ سے زیادہ نہانے کی ضرورت ہے۔

اشنان یا نہانے کے فوائد بتاتے، بتاتے کہانی کار کے ترجمے سے پتہ چلتا ہے کہ ”انسانی یخنی“ کس نوعیت کی ہوتی ہوگی۔ وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے ”اس کے اجزا میں ذرا سا خارج شدہ پیشاب، پھوٹے ہوئے پھوڑے پھنسیوں کا پیپ یا آبلوں کا پانی، تھوک، بلغم، فضلے یا پاخانے کے اجزا، جڑوں سمیت اکھڑ جانے جسم کے مختلف حصوں کے بال، پیروں کے انگوٹھوں کے نیچے سے برآمد ہونے والا میل، ہاتھوں کے نیچے سے نکلنے والا میل، مسامات سے نکلنے والا تیل اور روزانہ کی بنیاد پر انسانی جسم سے جھڑنے والے کروڑوں خلیے وغیرہ وغیرہ۔

کہانی کے بارے میں لکھتے ہوئے حماموں اور نہانے کے قصوں کی ہر تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ بات البتہ قابل ذکر ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں نیویارک کے ستانوے فیصد گھروں میں حمام نہیں تھے یا ان میں نہانے کی سہولت میسر نہ تھی۔

اٹھارہ سو نوے میں کاسمو پولٹین میگزین نے نیویارک کے پہلے عوامی غسل خانے کے ڈیزائن کا مقابلہ کروایا اور اس عوامی غسل خانے کا افتتاح اٹھارہ سو اکیانوے میں مین ہیٹن (main Hatton) کے علاقے باوری (Bowery) میں ہوا۔

نہانے کے لئے آنے والوں کو بیس منٹ تک نہانے دھونے کی اجازت تھی۔ ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس کی مدد بھی طلب کی گئی تھی۔ اس حمام میں روزانہ پانچ سو افراد غسل کر سکتے تھے۔ آنے والے افراد میں مفت کولگیٹ (Colgate) صابن تقسیم کیا جاتا تھا۔

” انسانی یخنی“ کا سارا احوال یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ حماموں اور غسل کے ان قصوں میں یہ بات البتہ لکھی جا سکتی ہے کہ انگریزی زبان کا مشہور مصنف سمر سیٹ ماہم (Somerset Maugham ) صبح ٹب میں اپنی کہانیوں میں شامل کرنے کے جملے سوچا کرتا تھا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم چرچل دن میں دو بار نہاتے تھے اور دوران غسل تقریروں کی ریہرسل بھی کرتے تھے۔ امریکہ کے سابق صدر کینڈی ایک غسل صبح ساڑھے چار بجے بیدار ہوتے ہی اور دوسرا بعد دوپہر یعنی قیلولے کے بعد کرتے تھے۔

انسانی یخنی ”کی اس کہانی سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ سارے یورپ اور امریکہ میں یہ بات مشترک ہے کہ حمام کا آغاز اجتماعی اور عوامی حماموں سے ہوا لیکن سماج کی تخصیص یہاں بھی ہوتی تھی کہ تمام حمام اشرافیہ یا امراء کے لئے تھے۔ عام آدمی کو ایسی کوئی سہولت میسر نہ تھی۔

عالمی کہانیوں کے ترجموں پر مشتمل اس کتاب میں سے ”انسانی یخنی“ کا تذکرہ اتنی تفصیل سے اس لئے کیا ہے کہ اس میں ہماری آج کی زندگی کے اہم کردار باتھ روم یا حماموں کی بڑی تفصیل درج ہے۔

ہمارے آج کے گھروں میں کمرہ کی بغل میں بنا یہ چھوٹا سا کمرہ جو ہماری ضروریات کی تمام سہولتوں سے مزین ہوتا ہے کن، کن مرحلوں سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔

امریکی، برطانوی، جرمن، برازیلن، نائیجریا، میکسیکن اور کئی دوسرے ممالک کے لکھاریوں کی منتخب کہانیوں کے تراجم اس کتاب میں شامل ہیں۔ جیسے کافکا کی کہانی ”رہائی اپنے وقت پر ہوگی“ یا امریکی مصنف ڈورس بیٹس کی تحریر ”گھوڑا بننے کی خواہش مند لڑکی“ اور ایسی دوسری بہت سی کہانیاں شامل کتاب ہیں۔

عالمی کہانیوں کے ترجمے کی شکل میں آنے والی ظفر قریشی کی یہ تحریریں جہاں پڑھنے والوں کے ذوق طبع کے لئے اچھا مواد ہیں۔ وہیں اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ ظفر ایک بہت اچھے، منجھے ہوئے، با معنی اور با ادب ترجمہ کرنے والے ہیں۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کہانی کے ترجمے کو اپنے سانچے میں ڈھال کر بیان کرنے کا ہنر آتا ہے۔

Facebook Comments HS