”نعیم بیگ کے ناول“ خواب انگارے ”پر ایک طائرانہ نظر“
نعیم بیگ کا شمار ہمارے سینیئر لکھنے والوں میں ہوتا ہے، انہوں نے ”ٹرپنگ سول“ ناول لکھ کر ادبی دنیا میں نام بنایا اور پھر ”گوگن پلان“ نے ثابت کیا کہ وہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں، ان کے افسانوی مجموعے ”یو۔ ڈیم۔ سالا“ کو سنجیدہ اہل ادب اس عہد کا ایک اعلی اور کامیاب فن پاروں کا مجموعہ تسلیم کرتے ہیں، اس وقت خاکسار کے سامنے ان کا ناول ”خواب انگارے“ موجود ہے، دنیا کے کئی ملکوں میں اس کے عوام ان دنوں مختلف سیاسی، ثقافتی، لسانی، مذہبی یا جغرافیائی وجوہات کی بناء پر آزادی کی تحریکیں چلا رہے ہیں، یہ تحریکیں کئی طرح سے چل رہی ہیں، کہیں سیاسی جدوجہد سے کام لیا جا رہا ہے تو کہیں عسکری انداز بھی غالب نظر آ رہا ہے، نعیم بیگ صاحب نے کمال مہارت، سنجیدگی، دردمندی اور ذہانت سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سپین کے علاقے کیتالونیا میں چلائی جانے والی سیاسی اور مزاحمتی تحریکوں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے اور دونوں کے ساتھ کمال انصاف سے کام لیا ہے اور جو بات کہنی تھی وہی کہی ہے اور کہیں ڈنڈی مار کر وہ بات نہیں کہی ہے جو کہ زمینی حقائق سے لگا نہیں کھا رہی ہے، یہ ناول نگار کی وہ خوبی ہے جس نے اس ناول کو ایک شاندار تخلیق کا مقام دے کر اسے امر کر دیا ہے، ناول میں بلوچ لیڈر اکبر بگٹی کی آمر مشرف کے دور میں شہادت پر ناول نگار نے بلوچوں کے اعتماد بکھرنے کی بات کی گئی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اکبر بگٹی کی المناک موت نے بلوچستان میں کسی بڑی تحریک کو جنم دیا؟
غم و غصے کی جہاں تک بات ہے تو وہ بلوچستان میں شاید عرصہ دراز سے موجود ہے اور اس کی وجوہات اکبر بگٹی کی شہادت سے بھی زیادہ سنگین کہی جا سکتی ہیں کہ پسماندگی نے یہاں کے باسیوں کو ریاست کے بارے کسی اچھی سوچ کے قابل نہ رہنے دیا ہے؟ ناول نگار نے ایک حیران کن بات یہ بھی کہی ہے کہ ”آزادی پسند ملک سے باہر عسکری قیادت سے نبردآزما ہیں“ اس پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ ایسا کہاں ہو رہا ہے؟ اور پاکستان کی عسکری قیادت سے سرحدوں سے باہر نبردآزما ہونے کے ”شواہد“ کہاں نظر آرہے ہیں؟
کیا ملک کی عسکری قیادت کے بلوچستان مسئلے بارے عالمی فورمز پر کچھ ہو رہا ہے؟ ایسا کبھی کبھار ضرور ہو رہا ہے لیکن اس کی ”اثر انگیزی“ علیحدگی پسند بلوچ لیڈرز کے موقف کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے حالانکہ ناول نگار بھی یہ کہہ چکے کہ ”بلوچستان میں پڑوسی اور عالمی طاقتوں نے اپنے مفاد میں“ سرپرستانہ رول ”شروع کیا ہوا ہے۔
نعیم بیگ صاحب نے ایک بات درست کی کہ بلوچستان بارے میڈیا کی رپورٹنگ منفیت کا شکار ہے مگر یہ اندرون ملک کی حد تک بات درست ہوگی کہ ریاست اپنے مفاد کے تحت اپنے علاقوں میں ایسی شورشوں کا ذکر باہر جانے سے روکنے کے لیے ہر حد تک جایا کرتی ہے اور ایسا صرف پاکستان میں نہیں ہوتا بلکہ اس ناول میں سپین کے علاقے کیتالونیا میں علیحدگی کی تحریک چلانے والوں کے ساتھ جو سلوک دکھایا گیا ہے وہ بھی ظاہر کر رہا ہے کہ ہر جگہ ریاست ایسے ”ناپسندیدہ اسٹیٹ ایکٹرز“ کو ایسے ہی ڈیل کیا کرتی ہے اور ایسے سلگتے ایشوز کے متعلق بھی ”مثبت رپورٹنگ“ کی خواہش مند ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے زور اور دھونس سے ”عملی اقدامات“ بھی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، اس لیے ایسی رپورٹنگ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔
ناول نگار نے کرداروں میں بہت شدت پسندی دکھائی ہے اور اس کی نشانیاں سروپ میں نظر آتی ہیں جو کہ رہتا تو سپین میں ہے لیکن اس کے اندر بلوچستان بارے حد درجے کی حساسیت موجود ہے اور اس کی وجہ شاید اس کی بلوچ حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے والی ماں شہناز بلوچ ہے، اگر شہناز بلوچ اس کی ماں نہ ہوتی اور اس کے ساتھ بہیمانہ سلوک نہ ہوتا تو ممکن ہے وہ اس طرح سے بلوچستان کے ایشو متعلق اتنی سنجیدہ، بھرپور اور زیادہ معلومات والا کردار نہ ہوتا،
نعیم بیگ صاحب نے ناول میں بلوچستان کا مسئلہ انگریز دور سے بیان کرتے ہوئے نہایت ایمانداری کا مظاہرہ کیا ہے۔
کیتالونیا کا اہم کردار ایک جگہ بڑی خوبصورت بات کہتا ہے کہ
”ہندوستان ایسی ریاست کے طور پر استعمار رکھنا چاہتا تھا جہاں سے اسے من مرضی کی جنگجویانہ مین پاور دستیاب رہے، جو کہ ان کے مفادات کا تحفظ کرسکے“
یہی کردار آگے چل کر پاکستان کے نظام کو ”نیم مذہبی اور نیم جمہوری“ قرار دیتا ہے اور ان دونوں باتوں میں صداقت کا عنصر کتنا ہے؟ اس کا فیصلہ پڑھنے والے بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں، خاکسار کے نزدیک پاکستان میں نیم ویم کچھ نہیں ہے جو ہے وہ سب کے سامنے ہے اور وہ نہ مذہب کے قریب ہے اور نہ ہی جمہوریت کے،
خاکسار کو ناول میں ایک خاصی متنازعہ سی بات لگی کہ
”ممکن ہے مارشل لاء والوں نے نیک نیتی سے ملکی نظام سنبھالا ہو“
سوال یہ ہے کہ کیا غلط کام یا ناجائز مداخلت نیک نیتی سی ہو سکتی ہے؟ اور کسی غلط کام کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں؟ اور جو ذہن ہو ہی غلط وہ کبھی درست راہ پر آ سکتا ہے؟ مارشل لاء کی حمایت میں یہ جملہ خاصا چبھتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور پھر ناول نگار جن کا موضوع ہی بلوچستان ہے جہاں کے مسائل کی اصل جڑ ہی فوجی آمریت یا عسکری مداخلت ہے اور اسی کے خلاف بلوچ نسلیں آوازیں اٹھاتی رہتی ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے مارشل لاء کو ”نیک نیتی“ کا ”سرٹیفکیٹ“ دینا سمجھ سے باہر ہے؟ ناول میں فوجی مائنڈ سیٹ کی نشاندہی میں حقیقت پسندی اور جرات سے کام لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ مخصوص ذہن سے سوچتے ہیں اور اور ان کے زیر نظر بس ”عسکری نتائج“ ہی ہوا کرتے ہیں، وسیع النظری نہیں،
ناول نگار کا موضوع چونکہ بلوچستان تھا اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اس میں ”بڑے بھائی“ پنجاب کو رگیدا نہ جاتا؟ انہوں نے بھی دوسروں کی طرح صرف پنجابی علاقوں میں ترقی کا گلہ کیا ہے اور ساتھ ہی جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب کو بھی نظرانداز کرنے کی روایتی رام لیلائی چھیڑی ہے جس سے خاکسار مکمل طور پر اتفاق نہ کر سکتا ہے کیونکہ ملکی بجٹ کا ایک خاصا حصہ ہر بجٹ میں سب صوبوں کو ملتا ہے لیکن کیا وہ پوری ایمانداری کے ساتھ پسماندہ رہ جانے والے علاقوں بلوچستان، جنوبی اور شمالی پنجاب پر لگایا جاتا ہے؟
کیا ان پسماندگی کا شکار علاقوں کے منتخب نمائندے اپنے ترقیاتی فنڈز نہیں لیتے ہیں؟ لیتے ہیں تو وہ لگاتے کیوں نہیں ہیں؟ اور اگر نہیں لگاتے ہیں تو کیا اس میں بھی ”بڑے بھائی“ پنجاب کا دوش ہے؟ حیرت ہے کہ ان پسماندہ علاقوں سے لوگ منتخب ہو کر ریاست کے اہم ترین عہدوں صدر، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، چیف جسٹس آف پاکستان، اور اسپیکر قوم اسمبلی تک پہنچے لیکن کیا ان لوگوں نے مکمل اختیارات انجوائے کرتے ہوئے کبھی بلوچستان، جنوبی یا شمالی پنجاب کے ساتھ نا انصافیوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اپنے عہدوں کی قربانی دی؟
(ان دنوں بھی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں ) ، افسوس کی بات ہے ایسی مثال کبھی کسی نے قائم نہ کی، ہاں الزام تراشی اس وقت شروع کی جب اس عہدے سے اتر اترا گئے تھے، کیا یہ درست فعل ہے؟ یہ منافقت نہیں ہے؟ اہل بلوچستان، جنوبی اور شمالی پنجاب کے لوگ ذرا ادھر ادھر دیکھیں تو اپنے 80 فی صد مسائل کے ذمے دار شاید انہیں اپنے آس پاس کھڑے لوگ ہی ملیں گے۔
نعیم بیگ صاحب کے ناول کی ایک خوبصورتی یہ بھی نظر آ رہی ہے کہ انہوں نے اپنے اس فن پارے میں اہل بلوچستان کے نفسیاتی و ماحولیاتی جائزے کو بھی موضوع سخن بنایا ہے اور یہ ان کی انفرادیت کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اس قدر باریک بینی سے اس سلگتے ہوئے ایشو کو جانچا پرکھا اور دیکھا ہے اور اس ضمن میں حل کی راہ بھی دکھانے کی شعوری و غیر شعوری کوشش کی ہے جو کہ خاصی متاثرکن دکھ رہی ہے۔
ایران، افغانستان اور ہندوستان سے پاکستان کے بارڈر کی جڑت نے اسمگلنگ کے مکروہ کاروبار کو بھی پروان چڑھایا ہوا ہے اور یہ کام کئی دہائیوں سے نہایت دیدہ دلیری اور کامیابی سے ہو رہا ہے اور ایران افغانستان کے مغرب کے طویل بارڈر اور مشرق کے ہندوستان کے بارڈر نے یہ اسمگلنگ آسان کی ہوئی ہے اور یہ کاروبار ہر دور میں عروج پر رہا ہے اور ناول میں اس خطرناک کاروبار کو بحث کا حصہ بنایا گیا ہے جس سے پتا چل رہا ہے کہ ناول نگار معیشت کی تباہی میں ایسے ناجائز اور کالے دھندوں کی روک تھام کی فکر میں بھی مبتلا نظر آ رہا ہے اور بطور ایک ذی شعور شہری اور حساس قلم کار کے اس نے اس اہم ترین ایشو کی نشاندہی کرنے کا فریضہ بھی انجام دے دیا ہے۔
پھر ناول میں سروپ اور ریکا کی اسپین کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اور ان کے ساتھ سلوک بتا رہا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی پسندوں کے ساتھ ایک سا سلوک ہی ہو رہا ہے اور اس میں ریاستیں خاصی بے رحمی سے اپنی طاقت کا استعمال کرتی ہیں اور وہ ریاست کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے لیے ہمیشہ ”زیرو ٹالرنس پالیسی“ پر عمل پیرا رہتی ہیں اور وہی روایتی ہتھکنڈے جو بلوچستان میں شہناز گل اور صبا کی مزاحمتی آوازیں دبانے کے لیے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے استعمال کرتے ہیں وہی اسپین کے کیتالونیا میں سروپ اور ریکا کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہاں ایک چیز حیران کن لگی کہ کیسے کیتالونیا کے آزادی پسندوں کو ایک پاکستانی نژاد نوجوان سروپ کو کیتالونیا کی علیحدگی پسند تحریک کا حصہ بنانے کا خیال آیا؟ ایسے کیا ”مشترکہ مفادات“ تھے کہ سروپ بھی ان کے ساتھ جا ملا تھا؟ کہاں اسپین اور کہاں پاکستان؟ تو کیا صرف ایک اسپینش لڑکی ریکا کی محبت میں ایک پاکستانی بلوچ نوجوان سروپ مارا گیا؟
یہاں صبا کا کردار بھی اہمیت کا حامل نظر آتا ہے لیکن جب وہ خطرہ محسوس کرچکی تھی تو اس نے شہناز بلوچ کی موت سے بھی سبق سیکھ کر حفاظتی تدابیر کیوں اختیار نہ کیں؟ پروفیسر جمالدینی سے جہاندیدہ بندے نے بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں اسے سب کہہ دیا تھا لیکن پھر بھی صبا نے غفلت کا مظاہرہ کیوں کیا تھا؟ ارسلان نے اپنی اہلیہ رابعہ کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسلام آباد بھیجنے کی بات کی لیکن صبا پھر بھی موت کے منہ سے نکلنے کی طرف کیوں نہ آئی؟
پروفیسر جمالدینی جہاں مزاحمتی رنگ کے ساتھ نظر آرہے ہیں وہاں ایک مصلحت کے پہلو کا بھی تاثر لیے ملتے ہیں۔ بہرحال صبا اور اس کے ساتھ بلوچستان میں مارے جاتے ہیں اور کیتالونیا میں سروپ اور ریکا بھی ایسے ہی جبر کا شکار ہوتے ہیں۔ بلوچستان اور بارسلونا میں کہانی ساتھ ساتھ چلتی ہے اور انجام بھی ایک سا ہی المناک ہوتا ہے۔ مزاحمت کاروں اور علیحدگی پسندوں کو ریاستیں کبھی بھی سرخ گلاب پیش نہیں کیا کرتی ہیں، ہاں سرخ گلاب ان ”مجاہدین“ کی قبروں پر ضرور چڑھائے جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کے لیے آزادی کا خواب دیکھا تھا لیکن تاریخ گواہ ہے کچھ خواب کبھی پورے نہیں ہوا کرتے بلکہ کچھ خواب انگارے بن جاتے ہیں۔




خوب