غربت


وہ آج پھر وہیں کھڑا تھا۔ دنیا بھر کی معصومیت چہرے پہ سجائے، کسی گہری سوچ میں گم لگاتار شیشے کے پار خوبصورت شیلف پہ سجے ہوئے ان جوتوں کو دیکھ رہا تھا۔ کبھی کبھار شیشے میں جہاں سے جوتے نظر آ رہے تھے وہاں اس انداز میں ہاتھ پھیرتا کہ گویا وہ اس جوتے کو چھو رہا ہو۔

چھوٹے یہ غبارہ کتنے کا ہے؟

یہ آواز اسے فوراً سے بھی پہلے حقیقت میں واپس لے آئی تھی۔ غریبوں کا تخیل بھی بہت محتاط اور کچا ہوتا ہے۔ ان کی سوچوں سے زیادہ احساس کمتری ان پہ غالب ہوتا ہے۔ اور یہ احساس ان کی سوچ، ان کی خواہشات اور ان کی نیندوں کو بہت کچا کر دیتا ہے۔

دس روپے کا ایک ہے انکل، اس نے اپنی حسیات سمیٹتے ہوئے جواب دیا۔
کیا!
دس روپے کا ایک؟
ایسا کیا ہے اس میں دس روپے میں دس غبارے ملتے ہیں، باقی نو روپے کیا ہوا بھرنے کے ہو گئے؟
ساتھ کھڑا اس کا بچا تھوڑا پریشان ہوا کہیں بابا اسے غبارہ لینے سے منع نہ کر دیں۔

یہ لو دس روپے اور وہ سب سے بڑے والا غبارہ دو۔ نہ جانے کہاں سے آ جاتے ہیں۔ آواز حقارت میں ڈوبی ہوئی تھی۔

ندیم نے خاموشی سے دس روپے لے کر اس کی پسند کا غبارہ اسے دیا تھا۔

ایک نظر دوبارہ ان چمکتے ہوئے جوتوں پہ ڈالی، غباروں سے بھرا ہوا ڈنڈا کندھے پہ اٹھایا اور چل دیا۔ گھر پہ موجود اس کی چھوٹی بہن اس کہ انتظار میں تھی۔ پورے دن میں ایک مرتبہ کھانا تبھی نصیب ہوتا تھا جب اس کا بھائی سارا دن غبارے بیچ کر شام کو گھر آتا تھا۔ آج بھی ندیم کے پاس اتنے ہی پیسے جمع ہوئے کہ کل کے غباروں کی لیے پیسے نکالنے کے بعد صرف دو روٹیوں کے پیسے بچے تھے۔

روٹی بھی تو بیس روپے کی تھی۔
یہ مہنگائی ہماری جان لے کر چھوڑے گی۔ ندیم سوچتے ہوئے روہانسا سا ہوا۔

کنکریٹ کے بڑی بڑی دیواروں کے حفاظتی حصار میں بنے ہوئے شیشوں کے گھروں میں رہنے والوں کو جھونپڑیوں اور جھگیوں میں رہنے والوں کا دکھ کہاں معلوم ہوتا ہے!

اس کا باپ ایک سیاسی جماعت کے جلسے میں چند سو روپوں کی خاطر چلا گیا تھا۔ کہ شاید آج اس کے گھر والے اچھا کھانا کھا لیں۔ فلاحی ریاست بنانے کے دعویداروں، اور روٹی، کپڑا، مکان کے نعرے لگانے والوں کے جلسے میں بھگدڑ ہوئی اور ندیم کا باپ اس دن واپس نہ آ سکا۔ اپنے بچوں کو اچھا کھانا کھلانے کی شدید خواہش لیے ان خداؤں کے دیس سے چلا گیا۔

پھر تین مہینوں بعد ندیم کو ایک اور صدمے سے گزرنا پڑا۔ زمانے کی بے حسی اور مادہ پرستی اس کی ماں اور اس کی کوکھ میں پلنے والی ننھی سی جان کو کھا گئی۔ وہ رات بہت لمبی تھی، بلکہ ہمیشہ کی طرح لمبی راتوں سے یہ رات کچھ زیادہ ہی لمبی تھی۔ جنوری کی سرد رات میں وہ بارہ سال کا بچہ پڑوسی کی ریڑھی پہ ماں کو ڈال کر پہلے سرکاری ہسپتال لے کر گیا تھا پر وہاں تو عملے نام کی چیز ہی نہیں تھی۔ انگڑائیاں لیتے ہوئی سیکورٹی گارڈ اندر سے نکلا اور دو تین سنانے کے بعد ان کو دھتکار دیا۔

کسی پرائیویٹ اسپتال میں ماں کو لے کر جانا ممکن نہیں تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کرے تو کیا کرے روتا ہوا ریڑھی کو واپس لے کر چلا تو اندازہ ہوا کہ پیچھے سے ماں کے کراہنے کی آواز نہیں آتی۔ مڑا کے دیکھا تو ماں بھی دنیا بھر کی اذیتیں سمیٹے اس کے باپ کے پاس چلی گئی۔

اس دن وہ بہت رویا تھا، اپنی بے بسی پر اس نے بہت ماتم کیا تھا۔ وہ رو رو کر دعا کرتا تھا کہ اللہ میاں کسی کو غریب نہ پیدا کرنا۔ اگر پیدا کریں بھی تو کسی فلاحی ریاست میں تو بالکل نہ کرنا جہاں صحت، خوراک اور تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہو وہاں تو کبھی پیدا نہ کرنا۔ کیونکہ یہ صرف نعرے ہوتے ہیں غریب یا تو اپنی جھونپڑی میں مرتا ہے یا کسی سرکاری اسپتال کے باہر اپنی باری آنے کے انتظار میں۔

غریب یا تو روٹی پانی میں بھگو کر کھاتا ہے یا کبھی صرف پانی پہ بھی گزارا کر لیتا ہے۔ چسکوں سے اس کی زبان نا واقف ہوتی ہے۔ ہاں کبھی بکرا عید پر چھیچھڑوں والا گوشت ان کو ضرور نصیب ہو جاتا ہے۔

رہی بات مکان کی تو غریب جھگیوں کو محل سمجھتا ہے۔ کنکریٹ کی دیواریں وہ امیروں کے لیے بناتے ہوئے جان دیتا ہے لیکن خود اپنے لیے نہیں بنا سکتا۔ یہ ایک فلاحی ریاست کا غریب ہے۔ اس کا مقدر یہی ہے۔

تخیل پھر سے ٹوٹا تھا۔ نا جانے کب وہ یہ سب سوچتے ہوئے اپنی جھونپڑی تک پہنچ چکا تھا جہاں امینہ کھانے کا انتظار کر رہی تھی۔ امینہ نے ٹھنڈی روٹیوں کو پانی میں بھگویا اور کھانے لگی۔ اور ندیم اپنی بہن کی طرف دیکھ کر سوچنے لگا کہ غریب کی قسمت میں غریب ہونا کیوں لکھا ہے اور اس پر ظلم یہ کہ ایک غریب کی قسمت میں غریب مرنا ہی کیوں لکھا ہے۔

Facebook Comments HS