تجسم المسیح حقائق و اثبات کی روشنی میں


Dr Shahid M shahid

سادہ زبان میں ”تجسم المسیح“ کو مسیح کی پیدائش کا دن کہا جاتا ہے۔ اس دل کو دنیا بھر میں پچیس/25 دسمبر کو بڑی دھوم دھام اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا اس دن کی خوشی دوبالا کرنے کے لئے سرگرم ہو جاتا ہے۔ یہ دن اپنی فضیلت و کرامات میں لاثانی اور لافانی اور معجزاتی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کی خوبصورتی کا راز یہ ہے کہ اسے عالمی سطح پر ایک ہی تاریخ یعنی 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کتاب مقدس خاص طور پر عہد عتیق اور عہد جدید ولادت المسیح کے متعلق مستند حوالہ جات مہیا کرتے ہیں۔

بلاشبہ عہد عتیق میں مسیح یسوع کی پیدائش کی متعدد پیشگوئیاں درج ہیں جن کی تکمیل ہمیں عہد جدید میں پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ واضح ہو کتاب مقدس دو عہدوں پر مشتمل ہے۔ پہلا عہد عتیق اور دوسرا عہد جدید ہے۔ بلاشبہ دونوں عہود اہمیت کے حامل ہیں۔ جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے یعنی دونوں اپنی اپنی جگہ مسلمہ اہمیت رکھتے ہیں۔

عہد عتیق میں دنیا کی ابتدا، باغ عدن کا احوال، آدم اور حوا کا گناہ میں گرنا، قائن اور ہابل کا ہدیہ، دنیا کا پہلا قتل، طوفان نوح، خدا کے عہود، یعقوب کے بارہ بیٹے، دس احکام، انبیاء کی حالات زندگی، پیشگوئیاں، جنگوں کا احوال، مردم شماری، بادشاہتوں کا آغاز و ارتقاء، حضرت سلیمان کا انصاف، حضرت داؤد بطور بادشاہ، یوں انبیاء اکبر اور انبیاء اصغر کا سلسلہ ملاکی نبی تک اختتام پذیر ہوتا ہے۔

کتاب مقدس یعنی عہد عتیق میں سب سے بڑا صحیفہ یسعیاہ نبی کا ہے جس میں مسیح کی پیدائش کی پیش گوئیاں لکھی گئی ہے۔ مثلاً یسعیاہ نبی کے صحیفہ میں لکھا ہے۔

”لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اس کا نام عمانوائیل رکھے گی“ (یسعیاہ : 7 : 14 )

یسعیاہ نبی نے تقریباً ساڑھے سات سو سال/750 پہلے ہی یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ ایک کنواری حاملہ ہو گئی اور بیٹا جنے گی اور وہ اس کا نام عمانوائیل رکھے گی جس کا ترجمہ ہے ”خدا ہمارے ساتھ“ یہ لفظ کتاب مقدس میں تین دفعہ آیا ہے۔ خدا نے اپنے اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے مقدس یوسف اور مقدسہ مریم کا انتخاب کیا۔

وہ دونوں راست باز، پاکیزہ اور نیک تھے۔ وہ اپنے زمانہ کے لوگوں میں بے عیب اور خدا کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔

عہد جدید میں مقدس متی اور مقدس لوقا خداوند یسوع کی پیدائش کو ٹھوس اثبات اور دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ عہد جدید عرفانی حقائق اور مناظر کو الہاتی پیش رفت میں بڑی صحت و صداقت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

مقدس متی خداوند یسوع کے شجرہ نسب کو جس عمدگی اور شائستگی کے ساتھ قلم بند کرتا ہے۔ اس کی تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشرتی اہمیت سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی طرح مقدس لوقا بھی ان تمام حقائق و مناظر کو جس دلچسپ اور شگفتہ بیانی سے زیر قلم لاتا ہے۔ ان کی الہیاتی، معجزاتی اور تاریخی اہمیت رہتی دنیا تک گواہ بن کر رہے گی۔ کچھ ایمان افروز حوالہ جات ملاحظہ کیجیے۔

”اب یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو گئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔ پس اس کے شوہر یوسف نے جو راست باز تھا اور اسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا اسے چپکے سے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔ وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کے فرشتہ نے اسے خواب دکھائی دے کر کہا اے یوسف ابن داؤد اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے۔ اس کے بیٹا ہو گا اور تو اس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات دے گا۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ جو خداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پورا ہو کہ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنیگی اور اس کا نام اعمانوایل رکھیں گے جس کا ترجمہ ہے خدا ہمارے ساتھ۔ پس یوسف نے نیند سے جاگ کر ویسا ہی کیا جیسا خداوند کے فرشتہ نے اسے حکم دیا تھا اور اپنی بیوی کو اپنے ہاں لے آیا۔ اور اس کو نہ جانا جب تک اس کے بیٹا نہ ہوا اور اس کا نام یسوع رکھا“ (متی کی انجیل 1 باب: 18 تا 25 آیات)

جبرائیل فرشتہ کی معرفت خدا نے مقدس یوسف اور مقدس مریم کو یہ خوشخبری سنا دی تھی کہ تمہارے ایک بیٹا پیدا ہو گا۔ اس کا نام یسوع ہو گا وہی اپنے لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات دے گا۔ قدیم زمانوں سے خدا کا یہ الہی منصوبہ تھا کہ وہ یسوع کو دنیا کا نجات دہندہ بنا کر بھیجے گا۔

لہذا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یسوع کا تجسم وسیلہ نجات ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنی حیات مبارکہ کے دوران جن باتوں کی تعلیم و تربیت دی۔ وہ اپنے اندر عالمگیریت، اثر قبولیت، قدرت کاملہ، آفاقیت اور لافانیت کا پیغام رکھتی ہیں۔ اناجیل میں جن موضوعات پر قلم فرسائی کی گئی ہے، وہ اپنے اندر فکری تنوع اور مقناطیسی قوت کا اثر رکھتی ہے۔ مثلاً دعا، پرستش، روزہ، آزمائش، فتح، ایمان، شریعت، فضل، ابدیت، خدا کی بادشاہی، گناہوں کی معافی، توبہ، نجات، آسمان گھر، عہد و پیماں، دنیا کا نور، حقیقی چرواہا، روح القدس، بخشش، روز کی روٹی، فکر، خیرات، دہ یکی، محبت، خوشی، معافی، دلی اطمینان، دنیا کا نور، حقیقی فرزند وغیرہ۔

اب مقدس لوقا خداوند یسوع کی پیدائش کے متعلق دلچسپ حقائق و واقعات بیان کرتے ہیں۔

” مگر فرشتہ نے ان سے کہا ڈرو مت کیونکہ دیکھو میں تمہیں بڑی خوشی کی بشارت دیتا ہوں جو ساری امت کے واسطے ہوگی کہ آج داؤد کے شہر میں تمہارے لئے ایک منجی پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند اور اس کا تمہارے لئے یہ نشان ہے کہ تم ایک بچے کو کپڑے میں لپٹا اور چرنی میں پڑا ہوا پاؤ گے اور یکایک اس فرشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہر ہوئی کہ۔ عالم بالا پر خدا کی تمجید ہو اور زمین پر ان آدمیوں میں جن سے وہ راضی ہے صلح“ لوقا کی انجیل ( 2 باب 10 تا 14 آیات)

مقدس لوقا خداوند یسوع کے اس دنیا میں آنے کے اغراض و مقاصد بڑے واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ وہ انسان کی پرانی اور نئی انسانیت کی تصویر دکھاتا ہے۔ وہ یسوع کے نئے اور اچھوتے مقصد کو بیان کرتا ہے۔ خدا دراصل انسانوں کے درمیان دوبارہ ملاپ کروانے کے لئے عرض سے فرش پر آ گیا۔ اس نے اپنا سارا شاہی جاہ و جلال چھوڑ دیا۔ اور ہم پر اس حقیقت کو آشکارہ کر دیا کہ میں الفا و اومیگا ہوں۔

المسیح فرماتے ہیں جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اس سے لوگ جانیں گے کہ تم میرے شاگرد ہوں۔ دیکھو میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔

اگر ہم انسانی فطرت کا روز اول سے جائزہ لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ انسان موروثی طور پر گنہگار ہے۔ اس کا دل دنیاوی چیزوں کے لئے للچاتا ہے۔ نفرتیں اور کدورتیں اس کے دل کے دروازہ پر دبکا بیٹھ جاتی ہیں۔ انسان دنیاوی چیزوں کے حصول کے لیے پاگل ہو رہا ہے۔

اس کے اندر روزبروز حرص و ہوس بڑھتی جا رہی ہے۔

جدھر بھی دیکھیں گلے شکووں کا ہجوم ہے۔ محبت ٹھنڈی پڑ گئی ہے اور بے دینی بڑھ رہی ہے۔ بدعتوں اور ناچاقیاں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ دنیا میں روز بروز بڑھتی ہوئی صورتحال ہمیں ان حالات w واقعات سے آگاہ کر رہی ہے کہ گناہ کا زور و شور ہے۔ دلوں میں نفرتوں اور کدورتوں نے جنم لے لیا ہے۔ لہذا ایسی صورت حال پر قابو پانے کے لئے صرف اور صرف مسیح کی محبت اور اس کے بیٹے خداوند یسوع کا خون کام آ سکتا ہے جو ہمیں ابلیس سے چھڑوا سکتا ہے۔ ہماری خلاصی کروا سکتا ہے۔ ہمارے اندر تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔

اتحاد و یگانگت کی روح پیدا کر سکتا ہے۔ خدا میں سر گرم کر سکتا ہے۔ امید و بہار دستک دے سکتا ہے۔ آئیں آج تھوڑا سا وقت نکال کر اپنی زندگی پر غور و خوض کریں۔ اس کی پیدائش کے مقصد کو سمجھیں۔ کیا آج ہمارے دل کی چرنی میں یسوع پیدا ہوا ہے؟ کیا اس کی نجات کا منصوبہ میرے خاندان میں پورا ہوا ہے؟ یہ چند بنیادی سوالات ہیں جو ہمیں کرسمس کی خوشیوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہمارے دل اور رجحانات بدل سکتے ہیں۔ ہمارے دلوں کی زمین زرخیز بنا سکتے ہیں۔ اس کے فضل کے سایہ میں چلنے کی توفیق دے سکتے ہیں۔ ہمیں نئے سرے سے جینے کا ڈھنگ سکھا سکتا ہے۔

خداوند یسوع کی پیدائش کا مقصد اقوام عالم کے لئے ہے۔ جو لوگ اس کی محبت کو اپنے دلوں میں بسا لیتے ہیں۔

وہ سرشار رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں امن محبت اور خوشی مل جاتی ہے۔ مسیح کی محبت انہیں آگے بڑھنے کا موقع عطا کرتی ہے۔ ہم سب کو ایک روح، ایک بدن اور ایک جان میں باندھ سکتی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے قرض معاف کرنا سکھاتی ہے۔ تمام رنجشوں اور بدعتوں کو مٹاتی ہے۔ ہمارے روح و قلب میں تبدیلی لاتی ہے۔ کیونکہ ہم نہ اس جہان میں کوئی چیز اپنے ساتھ لائے اور نہ اس جہان سے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ انسان خالی ہاتھ آتا اور خالی ہاتھ واپس لوٹ جاتا ہے۔

زندگی کو خوبصورت اور بابرکت بنانے کے لیے صرف اور صرف مسیح کی محبت ہم سب کے گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ آئیں اس سے قبل بہت دیر ہو جائے اپنی زندگی کا معیار مسیح کی محبت سے بدل لیں۔ ہم کرسمس کی خوشیوں میں تب ہی شامل ہو سکتے ہیں اگر ہم نے اس کے حکموں کو پورا کر کے اسے عزت اور جلال دیا ہے۔ ورنہ لیبل چپکانے کا کیا فائدہ یا روایتی مسیحی ہونے کا کیا فائدہ؟ ایک بات یاد رکھیں جو بات روح کو ظہور دیتی ہے۔ وہ ابدی زندگی کی ضامن ہے۔

تمام اہالیان جہان کو کرسمس کی خوشیاں مبارک ہوں۔
تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد (واہ کینٹ)

Facebook Comments HS