دہلی ریپ کیس کے 10 سال، بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے کیا بدلا؟

آج سے 10 برس قبل، 16 دسمبر، 2012 کے دن چلتی ہوئی بس میں ایک 22 سالہ لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا کر اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ جسے عام طور ”نربھایا گینگ ریپ“ یا ”دہلی گینگ ریپ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 6 لوگوں کی طرف سے کیے گئے اس بیہمانہ تشدد اور ریپ کی وجہ سے لڑکی کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اس واقعہ نے نا صرف بھارت بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں موجود لوگوں کے دل دہلا دیے تھے۔ یہی وجہ تھی اس المناک واقعہ کے خلاف نا صرف بھارت بلکہ دوسرے ممالک میں بھی مظاہرے دیکھنے کو ملے تھے۔ اس کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس واقعے سے متعلق خوب مہم چلائی گئی تھی۔ جس کے نتیجے نا صرف بھارت میں ریپ سے متعلق قوانین میں سزاؤں کے حوالے سے تبدیلی کی گئی تھی بلکہ تمام 6 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کو 2020 میں سزائیں بھی سنائیں گئی تھیں۔
اس واقعہ کے بعد امید یہی کی جا رہی تھی بھارت میں لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ کچھ بہتر سلوک روا رکھا جائے گا اور ان کے خلاف ہونے والے تشدد، ریپ اور قتل کے واقعات میں شاید کچھ کمی واقع ہو جائے گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو انڈیا کے مطابق 2012، دہلی ریپ کیس کے بعد خواتین کے خلاف جرائم میں بجائے کمی آنے کے الٹا اضافہ ہوا ہے۔ این سی آر بی کی طرف سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2021 میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے واقعات کی تعداد گزشتہ سالوں میں ہونے رونما ہونے والے ایسے واقعات کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے اور یہ تعداد 2012 میں رونما ہونے والے دہلی ریپ کیس کے بعد سے ہی بڑھنا شروع ہوئی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 13،982 کیسز کے ساتھ نئی دہلی 2021 میں ایسے واقعات کے حوالے سے سر فہرست رہا ہے۔
جس کا ثبوت ہمیں دہلی میں ہونے والے ایک واقعے سے بھی مل جاتا ہے جس نے 2012 کے بعد پھر سے لوگوں کے دلوں کو دہلا دیا۔ دہلی میں رونما ہونے والا یہ واقعہ ریپ کا نہیں ہے مگر عورت پر بیہمانہ تشدد کا ضرور ہے۔ تشدد کا شکار ہونے والی بد نصیب ایک 27 سالہ لڑکی شردھا واکر ہے۔ جسے اس کے بوائے فرینڈ، آفتاب پونے والا نے مارنے کے بعد اس کی لاش کو ٹکڑوں میں کاٹ کر پہلے فریج میں رکھے رکھا اور پھر آہستہ آہستہ ان کو جنگل میں پھینکتا رہا۔ شردھا اور آفتاب کی دوستی ایک انٹرنیٹ ایپ بمبل کے ذریعے ہوئی۔ جس کے بعد ممبئی سے وہ دنوں دہلی شفٹ ہوئے اور وہاں پر ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ آفتاب نے شردھا کے ساتھ شادی کا وعدہ کیا مگر اس کو پورا کرنے کی بجائے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان اکثر لڑائی ہوجاتی تھی۔
جس کے نتیجے میں آفتاب نے 18 مئی، 2022 کے دن شردھا کو بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا۔ اور وہ اس قتل کو چھپانے میں بھی کامیاب ہو گیا تھا مگر گزشتہ ماہ دہلی پولیس نے بالآخر اس قتل کا سراغ لگا لیا۔ شروع میں تو آفتاب نے اس سے انکار کیا مگر جب اس کی گھڑی ہوئی جھوٹی کہانی بے نقاب ہوئی تو اس نے سب کچھ مان لیا۔ شردھا کے دوستوں کے مطابق وہ ایک بہت شوخ اور چنچل لڑکی تھی جس نے آفتاب کے ساتھ مل کر کچھ خوب صورت سپنے سجا لیے تھے مگر اسے بالکل بھی خبر نہیں تھی کہ ان سپنوں کا انجام اس قدر بھیانک ہو گا۔ آفتاب نے پولیس کے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے شردھا کو قتل کرنے کا منصوبہ پہلے سے ہی بنایا ہوا تھا۔ اور اس ضمن میں اس نے جہاں انٹرنیٹ سے مدد لی وہاں وہ کچھ کرائم سیزنز سے بھی متاثر تھا۔
دہلی ریپ کیس کے 10 سال بعد شردھا واکر واقعہ نے جہاں اس امر کو واضح کیا ہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے حوالے سے صورت حال ابتری کی طرف گامزن ہے۔ وہاں اس نے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔ کہ بجائے اس کو مثبت طریقے سے استعمال کرنے کے آفتاب جیسے نوجوان اس کو خواتین کے خلاف جرائم کرنے اور پھر ان کو چھپانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ایسے واقعات سماج پر بہت گہرے نفسیاتی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔
خاص طور پر نو عمر لڑکیاں اگر کسی قسم کا تعلق بنانا چاہیں تو ایسے واقعہ کے بعد وہ سو دفعہ سوچیں گی۔ اور اس ضمن میں انہیں اپنے والدین اور گھر والوں کی طرف سے بھی مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا بھارت میں سرکار اور سماج دونوں کو ہی خواتین سے متعلقہ مسائل اور جرائم کے حوالے سے بہت تندہی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں جہاں آگاہی مہم کو مزید موثر بنا کر اس کا دائرہ کار بڑھایا جانا ضروری ہے وہاں قوانین اور سزاؤں کا اطلاق بھی ناگزیر ہے۔ تبھی شاید خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے حالات کچھ بدل پائیں گے۔

