پاکستانی لڑکی کی باپ کے خلاف شکایت: بارسلونا کا 16 دسمبر
گزشتہ ہفتے سینکڑوں لکھنے والے سوشل میڈیا پر سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کو موضوع سخن بنائے ہوئے تھے۔ بارسلونا کی پاکستانی کمیونٹی بھی عین 16 دسمبر کے حوالے سے ہسپانوی میڈیا کی خبروں کا حصہ تھی البتہ اس خبر کی نوعیت یکسر مختلف ہے۔ مقامی اخبارات کے مطابق خبر کچھ یوں ہے کہ 16 دسمبر بروز جمعہ ایک انیس سالہ پاکستانی لڑکی اپنے والد کے ہمراہ مقامی پولیس (موسس دے اسکودراس) کے دفتر آئی۔ ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا گیا کہ وہ ایک شخص کے خلاف جنسی تشدد کی شکایت دراج کروانا چاہتی ہیں۔
پولیس نے جنسی تشدد کی شکایات کے پروٹوکول کے تحت انھیں فوری مدد فراہم کرتے ہوئے ان کے والد سے علیحدہ ایک کمرے میں لے جا کر جب ان کا بیان لیا تو انھوں نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ دراصل وہ اپنے والد کے دباؤ پر یہ بیان دینے آئی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جس شخص کے خلاف انھیں بیان دلوانے کے لایا گیا ہے دراصل وہ انھیں پسند کرتی ہیں اور ان کے گھر والے اس کے خلاف ہیں۔ ان دونوں کے اس تعلق کا علم ہونے پر ان کے والد نے انھیں ایک کمرے میں بند کر رکھا تھا اور انھیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آن لائن ان کا نکاح پاکستان میں ان کے والد کے ایک دوست کے ساتھ پڑھوایا جا چکا ہے۔ یہ بیان سن کر پولیس نے ان کے والد کو حراست میں لے کر معزز جج صاحب کے روبرو پیش کیا جنھوں نے ملزم پر کچھ پابندیاں عائد کر کے فی الحال گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ خبر بارسلونا کے ایک واٹس ایپ گروپ میں پہنچی جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ تھوڑی فراغت تھی سوچا اس کیس کے حوالے سے دوست احباب سے تھوڑی گفتگو و جائے چند دوستوں نے اپنی قیمتی رائے سے نوازا مگر شاید اس خاص کیس کا مزید گہرائی میں جا کر مطالعہ و معائنہ کرنا اشد ضروری ہے۔
چند بہت اہم باتوں میں سے پہلی اہم بات جو اس گفتگو کے نتیجے میں سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ دوست احباب کے ہاں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ایسی کسی بھی خبر کا ہسپانوی اخبارات میں چھپنا کمیونٹی کی بدنامی کا باعث بنتا ہے اور ہسپانوی اخبارات کو پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسی خبروں کا اردو ترجمہ کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اور یہ بات اس طرح سے زیر بحث نہیں آتی جیسے اسے آنا چاہیے۔ ظاہر ہے جب ایسی خبریں دب دبا جائیں گی تو اس پر بات نہ ہونے سے بچیوں کے مستقبل کے حوالے سے والدین کے ذہنوں میں ابہام جوں کا توں رہے گا۔ میرا خیال ہے اس شہر میں اگر پاکستانی کمیونٹی کے بیچ مکالمے کا آغاز ہو تو سب سے پہلے مقامی اخبارات اور ان کے کردار کے حوالے سے یہ باتیں زیر بحث آنی چاہئیں۔
دوسری بات جو مجھے بہت اہم لگی وہ یہ ہے کہ والدین کے ہاں ایک خوف پایا جاتا ہے کہ اگر بچوں (بالخصوص بچیوں ) کو آزادی دی گئی تو وہ کوئی غلط قدم اٹھائیں گی۔ اس کا تدارک بہت ضروری ہے کیونکہ اسی سال پہلے بارسلونا کے مضافاتی شہر تیراسا میں دو بہنوں کو پاکستان لے جا کر قتل کیا گیا اور پھر بارسلونا میں ایک حوا کی بیٹی کو غیرت کے نام پر قربان کر دیا گیا۔ اس پر ایک صحت مند مکالمہ جس میں بچیوں کے والدین حصہ لیں وقت کی ضرورت ہے۔
اس مدعے پر یوں تو اور بھی کئی پہلو سے بات ہو سکتی ہے لیکن میں اس آخری بات پر گفتگو کو سمیٹنا چاہتا ہوں۔ بہت سارے دوستوں کا خیال ہے کہ ہم ایسے واقعات میں صرف والدین کو قصور وار سمجھتے ہیں جبکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے قصور وار بچے بھی ہو سکتے ہیں۔ میرا خیال کہ بعض اوقات ہم محض دلیل کے طور پر بات کر کے رسم پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری دلیل چونکہ غیر متعلقہ ہوتی ہے لہٰذا درست ہو کر بھی کارآمد نہیں ہوتی۔
بچوں کی تربیت بہرحال والدین ہی کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری میں کیا کیا چیزیں شامل ہے اس پر مکالمہ بھی اوپر بیان کی گئی باتوں کی طرح اہم ہے۔ البتہ اس خاص کیس میں اگر باپ اور بیٹی کے رویے کو دیکھا جائے اس بات جھٹلانا مشکل ہے کہ بیٹی نے بہرحال سچ بولا ہے اور ایک بے گناہ کو سنگین الزامات کا نشانہ بننے سے بچایا ہے۔
عزیزان من! میری رائے یہ ہے کہ اس کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل کا پہلا زینہ ایک صحت مند مکالمے کا اہتمام ہے جہاں خطابتیں ہی نہیں سماعتیں بھی بروئے کار لائی جائیں۔ یہ مکالمہ اتنا شاندار اور مہذب ہونا چاہیے کہ نہ صرف والدین بلکہ ہمارے بچے بھی خوشی خوشی اس کا حصہ بنیں۔


