جنسی ہراسانی کی منظم مہم کا نشانہ بننے والی صحافی


رنڈی، چالو، بازاری یا طوائف جیسے القابات کو ہمارے معاشرے میں ایک ”نارمل پریکٹس“ کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ منافق سماج کسی خاتون کو آؤٹ آف دی وے کچھ ایسا کرتے ہوئے دیکھتا ہے جو ان کی مردانہ شان کے خلاف ہوتا ہے تو فوری طور پر اپنی اخلاقی زنبیل میں سے اسی قسم کی گند زبانیاں یا فتوے نکالتے ہیں اور خاتون پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اس قسم کی لچر اور گھٹیا طعن و تشنیع کا سامنا ایک ایسی ہی بہادر خاتون کو بھی کرنا پڑا جس نے زبان کو بند اور لبوں کو سی کر خاموشی سے ایک گمنام موت مرنے کی بجائے ببانگ دہل اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مرنے کو ترجیح دی۔

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مرنا تو اسے دونوں صورتوں میں پڑے گا چاہے تو وہ اپنے اندر کے سچ کو اپنے دل و دماغ کی تہوں میں دفن کرے اور مر جائے یا اظہار کی صورت میں اپنے خیالات کا تحفہ دان کرتے ہوئے دنیا کو الوداع کہے، تو اس نے دوسرے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔ عاصمہ نے اپنے عزم و استقلال سے ثابت کیا کہ وہ خاتون ضرور ہیں مگر کمزور بالکل نہیں اور صنف نازک ہونے کا رومانوی راگ اس کے کانوں میں سرور و مستی کا رس گھول کر اس کے شعور کو تھپکی دے کر نہیں سلا سکتا۔

ریاست مدینہ کے دعویداروں نے اس کے حجاب تک کو گالی بنانے کی کوشش کی اور انہیں حجاب میں لپٹی ایک طوائف تک کا طعنہ دے ڈالا مگر سیلوٹ ہے اس بہادر خاتون کو، عاصمہ نے حجاب والی اسی تصویر کو اپنی کتاب کا سرورق یا چہرہ بنانے کا فیصلہ کیا جس کا اسے طعنہ دیا گیا تھا اور اپنی کتاب میں انہوں نے معاشرے کے پست ذہنوں پر واضح کر دیا کہ حجاب کے اندر جو خاتون موجود ہے اس کی شعوری سطح کس قدر بلند ہے اور رنڈی، بازاری یا طوائف جیسے الفاظ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

مشکل کی گھڑی میں اپنوں کا ساتھ کیا اہمیت رکھتا ہے اس حقیقت کا ادراک عاصمہ سے زیادہ بھلا کس کو ہو سکتا ہے؟ مشکل کی گھڑی میں ان کے بہادر شوہر مدثر سعید اور دو بیٹوں نے جس طرح انہیں ٹوٹنے یا بکھرنے سے بچایا ہے وہ انہی کا عزم و حوصلہ تھا۔ عاصمہ ان خواتین کے لئے ایک بلند حوصلگی کی علامت ہیں جو معاشرتی قدغنوں سے بغاوت کر کے شعوری راہوں کا انتخاب کرتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو خواتین اپنے گھر سے عزت و آبرو کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے میدان عمل میں اترتی ہیں ان کے لیے چیلنجز بھی بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اکثر خواتین تو تھک ہار کر گمنامی میں جانے کا فیصلہ کر لیتی ہیں کیونکہ معاشرتی جبر کا سامنا اور وہ بھی مردانہ سماج میں رہتے ہوئے جہاں عزت و آبرو کا پیمانہ عورت کی دو ٹانگوں کے درمیان اٹکا رہتا ہو وہاں ایک خاتون کب تک لڑ سکتی ہے؟

مگر معاشرہ ایسی خواتین سے بھی خالی نہیں ہے جو مزاحمت کرتی ہیں عاصمہ شیرازی کا تعلق بھی اسی باغی قبیلے سے ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران ہونے والی عاصمہ کی گفتگو سن رہا تھا جس میں انہوں نے اپنی صحافت کے ابتدائی 16 سالوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان 16 سالوں میں انہیں کسی نے نے بھی گالی نہیں دی تھی پھر اچانک سے ریاست مدینہ کے دعویداروں کا دور شروع ہوتا ہے جس میں ان پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی اور ان کی گندی و ننگی تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی جاتی رہیں۔

انھیں اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کرنا پڑا کیونکہ گھٹیا پروپیگنڈے کی وجہ سے ان کے بچے نفسیاتی مریض بننے لگے تھے۔ ایک وقت تو وہ صحافت چھوڑ نے کا فیصلہ بھی کر چکی تھی، ظاہر ہے جب روزانہ آپ کو آپ کے گھر والوں کے سامنے رنڈی، کنجری یا طوائف کہہ کر مخاطب کیا جائے تو ایسے میں کہاں ہمت بچتی ہے اور جس نے اس قسم کے گھٹیا الفاظ کی گردان گزشتہ چار سالوں میں کئی بار سنی ہو تو وہ نفسیاتی طور پر کس قدر ڈیمیج ہوئی ہوگی؟

ذرا تصور تو کریں کہ آپ کی بیٹی کو کوئی ان جیسے القابات سے نوازے تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ عاصمہ کی طرح بہت ساری خواتین کو سامنے آنا ہو گا اور انہیں خود اپنی کہانی لکھنا پڑے گی، مردانہ سماج میں انہیں اپنی نمائندگی خود کرنا پڑے گی۔ میری نظر میں اگر ایک خاتون چند موٹی موٹی باتوں پر سوچنا شروع کر دے تو بہت سارے بت ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوجائیں گے مثلاً

1۔ کیا بدچلن صرف خاتون ہو سکتی ہے مرد نہیں؟ کیا یہ جبری میڈل صرف خواتین کے ساتھ خاص ہوتا ہے؟

2۔ اچھی یا بری خاتون ہونے کا فیصلہ کون کرے گا، یہ طے کرنے کے معیارات صرف مردوں کے پاس محفوظ ہیں یا جس کا جسم ہے وہ خود بھی اپنے متعلق کوئی رائے قائم کرنے کا مجاز ہے؟

3۔ مرد کو تو ہر وقت سیکس درکار ہوتا ہے اور اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لئے وہ جو مرضی کرے کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اسے مردانہ استحقاق حاصل ہوتا ہے کیا خاتون سیکس پروف یا جنسی چوائس سے محروم طرز کی کوئی مخلوق ہوتی ہے؟

4۔ خاتون ہونے کی حیثیت سے حلالہ کا تصور ایک خاتون کے لیے کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے؟ آج بھی ایک بڑا طبقہ طلاق کے بعد حلالہ کو مذہبی حکم تصور کرتا ہے؟

5۔ ریپ کے بعد چار گواہ بھی اسی خاتون کو ڈھونڈنے پڑتے ہیں جس کی گواہی بھی آ دھی متصور ہوتی ہے؟

6۔ ایک خاتون ایک وقت میں ایک مرد جبکہ مرد ایک وقت میں چار شادیاں کر سکتا ہے اور لونڈیوں کا بونس بھی اپنی جگہ پر موجود ہے؟

7۔ اپنے مرد کا بستر گرم کرنا بھی ہر صورت و کیفیت میں خاتون کی ذمہ داری ہوتی ہے ورنہ ساری رات فرشتوں کی پھٹکار پڑتی رہے گی؟

8۔ انسان ہونے کی حیثیت سے آدھی جائیداد کی مستحق ٹھہرتی ہے اور بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات تو انہیں اس سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے؟

اب یہ اس قسم کے سوالات ہیں جن پر غور کرنا بہت ضروری ہے اور یہی سوالات خواتین کے ذہنوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں مگر معاشرتی جبر کے آگے سرنگوں رہتے ہوئے بولنے سے احتراز برتتی رہتی ہیں۔ بہت ساری قباحتیں تو اس وجہ سے بھی پھیلتے پھیلتے ایک مکروہ سرکل کا روپ دھار لیتی ہیں کیونکہ شعور والے مصلحت کی چادر اوڑھے رکھتے ہیں اور اگر باخبر نہیں بولیں گے تو بے خبر یونہی باشعور پر حکمرانی کرتے رہیں گے۔

 

Facebook Comments HS