حرف ”ہ“ کو مٹانے والی لڑکی

آج صبح بائیس سالہ خالدہ کو ای میل آئی کہ وہ سالانہ امتحانات میں نہیں بیٹھ سکتی۔ اس نے ای میل کو دوبارہ پڑھا، پھر عینک لگا کر تیسری بار۔ پھر وہ بڑبڑائی۔
’خالدہ، تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا۔ صاف صاف تو لکھا ہے کہ میں امتحانات میں نہیں بیٹھ سکتی۔ مگر کیوں؟ ‘ پھر اس نے عابدہ کو فون کیا۔
عابدہ کے فون کی لاین مصروف تھی۔ ’یہ کمبخت تو کبھی نہیں فون اٹھاتی۔ اب کس سے پوچھوں! میری کلاس میں تو سب لڑکے بھرے ہوئے ہیں۔ ‘
خالدہ نے اپنے بھائی کو ای میل دکھائی۔
’لگتا ہے تم سے کوئی مذاق کر رہا ہے یا تمہیں کوئی تنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس پہ وقت ضائع نہیں کرو، امتحان کی تیاری کرو ورنہ فزکس میں فیل ہو جاؤ گی۔‘ بھائی نے بے پرواہی سے کہا۔
’ہاں تمہیں کیا فکر بھائی، ای میل تو مجھے آئی ہے تمہیں تو نہیں۔ ‘
اتنے میں خالدہ کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے لپک کر فون لیا۔ ’تم رو کیوں رو رہی ہو، کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا۔‘ لیکن دوسری طرف صرف عابدہ کے رونے کی آواز تھی۔ ’بتاؤ تو سہی کیا ہوا۔‘
’ہم امتحان نہیں دے سکتے۔ میں نے یونیورسٹی کو فون کیا تھا۔ طالبان نے یونیورسٹی میں لڑکیوں کی تعلیم پہ پابندی عائد کر دی ہے۔ ‘ عابدہ سسکیاں لے رہی تھی۔
خالدہ سے فون ہاتھ سے نکل کر زمین پہ آ گرا اور دوسرے کمرے میں بھاگ کر ماں سے لپٹ گئی۔ ’امی، تم نے مجھے لڑکا کیوں نہیں پیدا کیا، اس خالدہ کے بجائے ایک خالد کو پیدا کرتی نا۔ آٹھ سالوں میں فائنل تک پہنچی تھی، کتنی بار تو یونیورسٹی بند ہوئی۔ اب کچھ امن ہوا تو۔ ‘ پھر وہ شدت سے رونے لگ گئی۔
سارا دن خالدہ تمام کاغذات پہ اپنے نام میں سے ہ کو مٹاتی رہی۔

