بینظیر بھٹو کی وطن واپسی


وہ 2006 کا سال تھا جب امریکی صدر نے جارج بش انڈیا کے دورے پر آئے، تو واپسی میں ایک رات پاکستان کا بھی دورہ کیا اس وقت صدر مشرف دو عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے تھے، وہ آرمی چیف اور بہت زیادہ طاقت کے ساتھ صدر پاکستان بھی تھے۔
امریکی خارجہ پالیسی اس وقت نام نہاد دہشتگردی کے خلاف گھوم رہی تھی، ایران و افغانستان دونوں جگہ امریکی افواج کام کر رہی تھی۔

ایران میں اینٹی صدام گروپس کی امریکہ کو ضرورت تھی ادھر افغانستان کے سلسلے میں پاکستان کی مدد کی امریکہ کو ضرورت تھی، خاص طور پر پاک افغان سرحد کو سیکیور کیا جا سکے۔

بہرحال صدر بش نے پرویز مشرف سے اس دورے کے دوران دو باتوں پر بات کی۔

ایک تو یہ کہ صدر مشرف کا دو عہدے اپنے پاس رکھا آئین پاکستان کے خلاف ہے لہٰذا مشرف ایک عہدہ چھوڑ دے اور بطور سویلین صدر کام کرے۔ صدر بش نے کہا جنرل مشرف نے ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن وردی اتارنے کی ان کو کوئی جلدی نہ تھی۔

دوسری اہم بات جو صدر بش کی صدر مشرف سے ہوئی وہ یہ کہ امریکی صدر نے پرویز مشرف سے کہا کہ آپ دہشتگردوں کو افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے افغانستان میں سے داخل ہونے سے روکنے میں تعاون کریں جس پر صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف ہر قسم کا تعاون کیا جائے گا۔

یہ باتیں انہوں نے اپنی کتاب
Decision points by George W. Bush
Chapter# 07
میں لکھی ہیں۔

حقیقتاً امریکہ جنرل پرویز مشرف کے تعاون سے خوش نہیں تھا اور وہ چیف آف آرمی سٹاف کو تبدیل کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے لیے امریکہ کو سیاسی لیڈرشپ یعنی بینظیر بھٹو یا نواز شریف میں سے کسی ایک کی واپسی کی ضرورت تھی۔

یہ دونوں لیڈر جلاوطنی میں تھے ان پر متعدد کیس جنرل مشرف نے بنا رکھے تھے، خیر امریکی صدر دورہ کے بعد واپس چلے گئے لیکن نہ تو مشرف نے وردی اتاری نہ ہی میں بم دھماکے ختم ہوئے۔

اس ٹائم افغانستان ان بم دھماکوں کا الزام پاکستان اور پرویز مشرف اس دہشتگردی کا الزام افغانستان اور انڈیا پر لگاتا تھا پاکستان میں 2006 میں 1043 دہشتگرد سانحے ہوئے جس میں 1446 پاکستانی مارے کیے ، اور افغانستان میں بھی ایسے سانحات ہوئے جس میں کیے افغان مارے گئے، اس لئے امریکہ چاہتا تھا کہ اس دہشتگردی کے خلاف جنرل مشرف اور حامد کرزئی مل کر کام کریں تاکہ دہشتگردوں کو پاکستان و افغانستان میں کہیں جگہ نہ ملے۔

امریکہ کے مطابق اس تعاون پر دونوں ممالک کو بہت ڈالر بھی ملتے تھے، لیکن کام تو بہرحال سربراہان مملکت نے کرنے تھے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جنرل پرویز مشرف اور حامد کرزئی تو آپس میں بات تک نہیں کرتے تھے یا پھر دونوں رہنما بات کرنے کی کوشش میں بھی نہیں تھے، یہ ہی وجہ تھی کہ امریکی صدر نے پرویز مشرف اور حامد کرزئی کے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں 27 ستمبر 2006 کو ایک ڈنر پر دونوں کو بلایا جو امریکی وائٹ ہاؤس کے گارڈن میں رکھا گیا اس ڈنر میں نائب صدر ڈک چینی اور کونڈولیزا رائس بھی شامل تھی۔

پرویز مشرف اور حامد کرزئی ڈنر میں تو آئے لیکن رسماً ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا تک گوارا نہیں کیا، جو میزبان امریکی صدر کے لیے بہت امبیرسمنٹ تھی، اس بات کو نظر انداز کرتے آمر کی صدر نے دونوں کو بٹھایا اور معاملات سلجھانے کی کوشش کی، کرزئی نے بیٹھتے ہی جنرل مشرف پر الزام لگایا کہ وہ اپنے ملک میں طالبان کو پناہ دے رہے ہیں، جس پر پرویز مشرف نے کہا، کہاں ہیں وہ جن کو میں نے پناہ دی ہے۔

کرزئی نے بولا آپ کو بہت اچھی طرح پتا ہے وہ کہاں ہیں۔ پرویز مشرف نے کہ اگر مجھے پتا ہوتا تو میں ان کو پکڑ لیتا، کرزئی نے کہا کہ پھر جائیے اور ان کو پکڑیے! کرزئی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

اس لمحے میزبان صدر نے سوچا شاید ان دونوں رہنماؤں کو ڈنر پر بلانا اس کی بڑی غلطی کی ہے، لیکن وہی وہ لمحہ بھی تھا جب امریکہ نے سمجھا کہ پرویز مشرف اور ان کی بنی ہوئی ق لیگ اب طالبان اور القاعدہ سے جنگ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، وہ سمجھنے لگا کہ اب پاکستان میں کوئی پاپولر حکومت ہونے چاہیے، جو دہشتگردی کے خلاف واضح نقطہ نظر رکھتی ہو، دوسرے لفظوں میں امریکہ یہ چاہتا تھا کہ پاکستان میں نئے چیف آف آرمی سٹاف اور نئی سویلین حکومت آنی چاہیے۔

پرویز مشرف جو خود تو دہشتگردوں کے خلاف جنگ کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس سیاسی قوت نہیں تھی، ان کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ ق کھل کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف بات بھی کرتی تھی اس وقت خیبرپختونخوا میں بھی متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی جو بھی طالبان کے خلاف سخت موقف نہیں رکھتے تھے۔ نواز شریف اور عمران خان القاعدہ کے خلاف نہیں تھے۔ نواز شریف القاعدہ کے خلاف تھے لیکن طالبان کے خلاف نھیں۔ اور پرویز مشرف کو سیاسی لیڈرشپ کی ضرورت تھی ایسے میں پرویز مشرف کو پاکستان پیپلز پارٹی ہی ایک ایسی جماعت تھی جو اگر ان سے مل جائے تو دہشتگردوں کے خلاف کام ہو سکتا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو اس وقت خود ساختہ جلا وطنی میں تھی، 1997 سے جب نواز شریف حکومت میں آئے تب سے اور 9 سالہ جلاوطنی کو ختم کرنا چاہتی تھی، اور جب بی بی نے دیکھا کہ پاکستان اور امریکہ دونوں جگہ پرویز مشرف کی ساکھ گر رہی ہے اور اس ساکھ کو بچانے کے لیے پرویز مشرف نے ایک پروگرام بنایا اور امریکہ سے 2007 میں رابطے کیے کہ امریکہ بینظیر اور ان کے درمیاں پل کا کردار ادا کریں اور اختلاف کم کرائیں، امریکہ خود چاہ رہا تھا کہ پرویز مشرف کسی طاقتور سیاسی اتحاد کے ساتھ دہشتگردوں کے خلاف کردار ادا کریں۔

اور امریکہ نے بینظیر بھٹو سے رابطے کیے اور ان کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی۔
اور محترمہ بینظیر بھٹو 2007 کی جنوری میں ایک وزٹ پر امریکہ چلی گئی۔
امریکیوں کے مطابق واشنگٹن مس بھٹو کو اتنا نہیں جانتا تھا جتنا مس بھٹو واشنگٹن کو جانتی ہیں۔

وہ اس لیے کیونکہ وہ 1969 سے امریکہ میں رہتی آئی تھی، وہاں کے سیاستدانوں، صحافیوں اور آفیشلز کو ڈنر پر دعوت دیتی تھی اور سالانہ کرسمس کارڈز بھی وہاں کے اہم لوگوں کو بھیجتی تھی جو کہ نیو یارک ٹائمز کے مطابق 300 کے نمبرز میں ہوتے تھے۔

سیاستدان رابطوں سے زندہ رہتا ہے اور بینظیر صاحبہ نے بھی امریکہ میں 2007 کے بعد رابطے بڑھا رہی تھی، وہ امریکیوں کو قائل کر رہی تھی تھی کہ جنرل مشرف ایک نا اہل حکمران ہے جو جنگ پر قابو پانے میں ناکام ہیں، اور وہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ دہشتگردوں کا مقابلہ کر سکتیں ہیں۔

اس سلسلے میں انھوں نے ایک فرم کو 250.000 ڈالر میں ہائر کیا، اس فرم نے پہلے 6 ماہ میں کانگرس، صحافیوں اور آفیشلز سے بینظیر بھٹو کی ملاقاتیں کروائیں، محترمہ نے جیسے کوشش کی کہ امریکہ میں ان کے لیے راہ ہموار ہو جائے اس طرح امریکہ نے بھی محترمہ بینظیر بھٹو اور پرویز مشرف میں راہ ہموار کرنے لیے ایک اہم آفیشل کو مقرر کر دیا وہ تھا رچرڈ باؤچر تھا، اس نے محترمہ سے لندن اور دبئی میں متعدد ملاقاتیں کی، رچرڈ باؤچر محترمہ سے جو بھی بات کرتا وہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کونڈا رائس کو اور پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن کو بتاتا کہ کیا بات چیت ہوئی، اور وہاں سے بات جنرل اشفاق پرویز کیانی اور طارق عزیز جنرل مشرف کے پرنسپل سیکرٹری کو پہنچتی۔

پھر اسی طرح محترمہ بینظیر بھٹو تک باتیں پہنچتی۔ جنرل اشفاق بینظیر بھٹو کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے تھے جب وہ وزیراعظم تھی لہذا ان سے بینظیر بھٹو کا رابطہ آسان تھا۔ یہ رابطے امریکی مداخلت سے بہت پہلے ہی سے تھے۔

یہ خفیہ ملاقاتیں صرف نام کی تھی میڈیا میں ان ملاقاتوں کی سرخیاں آتی رہتی تھی، جس کو پاکستان پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف رد کرتے رہتے کبھی اپنے مطلب کے مطابق تصدیق بھی کرتے۔

بہر حال متعلقہ حلقوں کو یہ سمجھ آ گئی کہ پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو میں کوئی ڈیل ہو رہی ہے۔ اب وقت آن پہنچا تھا جب سمجھا گیا کہ پیغام رسانی کو سائیڈ پر کر کے ایک ون آن ون ملاقات کی جائے یہ ملاقات اس لیے بھی ضروری تھی کہ 2008 میں پاکستان میں الیکشن ہونے تھے۔

پاکستان میں سیاسی قوتیں پرویز مشرف سے نالاں تھیں، ہر کوئی چاہتا تھا کہ الیکشن سے پہلے وہ وردی اتار لیں سوائے ق لیگ کے۔ پرویز مشرف چاہتے تھے کہ پہلے الیکشن ہوں پھر وردی اتاریں گے، مشرف مشرف اس سے پہلے 2003 میں قوم سے کہا تھا کہ وہ وردی اتار لیکن وہ اپنے وعدے سے مکر گئے۔ ابو ظہبی میں بی بی اور پرویز مشرف کی ایک ملاقات ہوئی، ملاقات کی خبریں میڈیا میں آئیں تو دونوں نے اس سے انکار کیا لیکن میڈیا میں ٹرینڈنگ کرتی اس خبر کو بعد میں بینظیر بھٹو صاحبہ اور پرویز مشرف دونوں نے تسلیم کر دیا۔

ملاقات میں اہم نقطہ وردی کا تھا پرویز مشرف کسی صورت الیکشن سے پہلے وردی اتارنا نہیں چاہتے تھے جبکہ الیکشن کے بعد وہ وردی اتارنے کے کیے تیار تھے۔

دوسرا نقطہ یہ تیسری بار وزیراعظم بننے سے روکنے والے قانون کا خاتمہ، کیوں نواز شریف اور بینظیر بھٹو دونوں دو دو بار وزیراعظم رہ چکے تھے۔

تیسرا نقطہ یہ تھا کہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری پر جو کرپشن کے کیسز ہیں وہ ختم کیے جائیں۔ چوتھا نقطہ یہ تھا کہ بی بی شہید کو 2008 کے الیکشن سے پہلے پاکستان آنے دیا جائے۔

پرویز مشرف ساری شرائط ماننے کے لیے تیار تھے لیکن اس کی ایک شرط تھی کہ وہ وردی میں رہے گا۔

محترمہ بینظیر بھٹو ایک پرامن وطن واپسی چاہ رہی تھی، تاکہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ امریکہ بھی کونڈولیزا رائس کے ذریعے اس کوشش میں تھا کہ پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو میں مفاہمت ہو جائے کیونکہ امریکہ کے بھی اپنے مفادات تھے۔

امریکی سیکرٹری کونڈولیزا رائس نے دونوں رہنماؤں سے کہہ رکھا تھا آپ جب بھی چاہیں مجھے فون کر سکتے ہیں۔

اکتوبر کی ایک رات پرویز مشرف نے کونڈولیزا رائس کو فون کیا، وہ فون اس مقصد کے لیے تھا جس کا محترمہ بینظیر بھٹو 8 سالوں سے انتظار کر رہی تھی۔

تین اکتوبر کو رات کے بارہ بجے کے بعد پرویز مشرف نے کونڈولیزا رائس کو بتایا کے وہ محترمہ بینظیر بھٹو کی ساری شرائط ماننے کے کیے تیار ہیں، کونڈولیزا رائس نے اپنی ٹیم سے مشاورت کرنے کے 3 گھنٹے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کو فون کیا۔ صبح کو پھر سے کونڈولیزا رائس نے دونوں سے بات کی اور پھر پرویز مشرف نے بھی کابینہ سے این آر او کی منظوری لی۔

بینظیر بھٹو نے کونڈولیزا رائس کو کہا کہ اس کو پرویز مشرف پر کوئی بھروسا نہیں لہذا وہ امریکہ کے گارنٹی پر اس ڈیل کو قبول کر ہی ہیں۔ این آر او بھی آ گیا اور پرویز مشرف پھر اگلے پانچ سال کے لیے صدر ہو گئے۔ این آر او بننے کے بعد بینظیر بھٹو نے وطن واپسی کا دن 18 اکتوبر رکھا گیا۔

این آر او کھٹائی میں پڑنے لگا، جب مشرف کے خلاف ایک پٹیشن کی سماعت ہونے کا دن، این آر او کے چھٹے دن سماعت کے لیے رکھا گیا صدر ہونے کے چھٹے دن ہی سپریم کورٹ کی لارجر بینچ نے بطور چیف آف آرمی سٹاف مشرف کا صدر کا عہدہ آئینی ہے یا غیر آئینی، کی سماعت مقرر کی۔

مشرف نے ایک بار پھر بینظیر بھٹو کو منع کیا کہ وہ 18 اکتوبر کو پاکستان نہ آئیں جب تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

جس پر بینظیر بھٹو نے صاف انکار کیا کہ وہ ہر صورت پاکستان آئیں۔
Courtesy Dekho suno jano

اور بینظیر بھٹو 18 اکتوبر 2007 کو ہی پاکستان آئیں اور ان پر کراچی میں کارساز کی جگہ حملہ ہوا، سوال آج بھی برقرار ہے کہ اس دھماکے کے بعد دسمبر میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور بی بی کو شہید کیا گیا ان کی شہادت کس نے کروائی آج بھی یہ سوال عوام کر رہی ہے۔ ہمارا سوال آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے اور ریاست پاکستان سے ہے کہ کون تھا وہ جس نے بی بی کو شہید کیا اور کیوں قاتل کو سزا نہیں ہوئی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments