گنجینۂ علم، جھنڈیر لائبریری


مسافر نواز، ہمسفر بن جائے تو سفر کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے اور پھر سفر بھی بمثل چینی کہاوت کہ اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ سو کتب لیں اور سو میل سفر کا آغاز کر دیں آپ باعلم ہو جائیں گے۔ پس ہم نے زندہ و جاوید کتب خانہ بشکل پروفیسر ابن رزمی کے کتابوں کے گلستان جھنڈیر کا رخت سفر باندھا اور بمثل طائر محو پرواز ہو چلے۔ دوران سفر ہی رزمی صاحب نے اپنے دوست میاں غلام احمد لائبریری کے روح رواں کو برقی آلہ صوت پر اپنی آمد کی اطلاع بھی گوش گزار کی تاہم وہ اپنی نجی مصروفیات کے باعث شرف ملاقات نہ بخش پائے لیکن ان کے خادم خاص اور لائبریرین غلام رسول نے اقامت و طعام میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

واقعی شاہوں کے خدمت گزار بھی شاہوں سے کچھ کم نہیں ہوتے۔ یوں یوں سفر گزرتا جا رہا تھا ویسے ویسے ہی تشنگی علم بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ بالآخر وہ لمحہ مقبول بھی آ پہنچا کہ جب ہم گلستان ادب و علم جھنڈیر میں قدم رنجہ فرما ہوئے۔ واقعی حکیم لقمان نے بجا فرمایا تھا کہ کتابیں انسانی ذہن کو ایسے زرخیز کرتی ہیں جیسے خشک بنجر زمین کو بارش، اسی لئے کتابوں کو فوڈ فار تھاٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ عظیم دانشور، علم دوست اور اساتذہ کرام ایسے گھر میں جانا پسند نہیں کرتے تھے جن کے طاق، کتابوں سے خالی ہوتے تھے۔

تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ آج کی عظیم درسگاہیں اپنے آغاز میں پرشکوہ عمارات پر مشتمل نہیں ہوا کرتی تھیں بلکہ وقت کی پروان کے ساتھ یہ ادارے اپنے پر ، وا کرتے ہیں اور ایک لمبی اڑان کے لئے محو سفر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً دنیا کی عظیم درس گاہ لائیسیم دو کمروں پر مشتمل تھی، آکسفورڈ بھی چند کمروں اور برآمدوں پر مشتمل تھی لیکن آج آکسفورڈ ایک شہر ہے۔ اور ایسے اداروں کے فارغ التحصیل طلبا ٹائی کی ناٹ درست کرتے ہوئے ایک علمی تکبر اور برتری سے اپنا تعارف کرواتے ہیں کہ میں آکسینین ہوں۔

اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بالکل اسی طرح میاں مسعود لائبریری جھنڈیر جس کا آغاز بھی چند سو کتب سے 1890 میں ہوا، وہ چند سو کتب اب تین لاکھ سے زائد گنجینہ علم بن کر تشنگان علم کو سیراب کرنے میں پیش پیش ہے۔ جب ہم مختصر سے گاؤں سردار پور میں داخل ہو رہے تھے تو میری چشم تصور نے 1963 کی اس بستی کو آباد ہوتے ہوئے دیکھا جب میاں سردار محمد اپنے خاندان کے چشم و چراغ کے ہمراہ اپنے قیمتی اثاثہ چند ہزار کتب کے ساتھ تشریف فرما ہوئے ہوں گے، اس چھوٹی سے بستی سردار پور جسے اپنی ہی جاگیر میں بسایا گیا بالکل یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے صحرا میں نخلستان، پانی میں نرگس اور چرخ کبود پر ماہ کامل۔

تاہم سردار پور میں موجود لائبریری کو ان کے بڑے بیٹے میاں مسعود کے نام سے منسوب کر کے میاں مسعود لائبریری رکھا گیا جو کہ اب نخلستان سے مکمل مدینۃ الکتب کی صورت اختیار کر چکی ہے اسی لئے اس کا نام اب میاں مسعود ریسرچ لائبریری رکھ دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ 1980 کے بعد سے محققین، پوسٹ گریجوایٹ کے طلبا اور ریسرچ سکالرز کو یہ سہولت فراہم کی گئی کہ وہ اپنے تحقیقی مقالہ جات، ریسرچ یا تھیسس کے لئے جب تک چاہیں اقامت اختیار کر سکتے ہیں بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ انہیں ایک خادم، رہائش اور تعلیمی تحقیقی کتب کی فراہمی کا مکمل خیال بھی رکھا جانے لگا۔

میں جب لائبریری کے مختلف ہال، مہمان خانہ، اور ہاسٹل کا دورہ کر رہا تھا تو مجھے نالندہ و ٹیکسلا یونیورسٹی کا خیال آ گیا جس کے بارے میں پڑھ رکھا تھا کہ ایک وقت میں یہ دونوں یونیورسٹیاں اقامتی درسگاہیں ہونے کی وجہ سے دنیا میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ دور حاضر میں جھنڈیر لائبریری جو کہ اب ایشیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری بن چکی ہے ایسی ہی مثال کی متحمل ہے۔ اس کتب خانہ میں تین لاکھ سے زائد کتب، رسائل، مخطوطات، حوالہ کتب برائے حوالہ جات کے علاوہ جسے دیکھ کر مجھے لگا کہ اس کتب خانہ کی انفرادیت کیوں ہے وہ تھا 1152 قلمی نسخہ جات کا موجود ہونا۔ آپ میری اس تحریر میں پڑھ کر اور بھی ورطہ حیرت میں چلے جائیں گے کہ ان قلمی قرآن میں سے کچھ ایسے نسخہ جات بھی تھے جو کہ بارہ سو سال قدیم ہیں۔

یہ کتب خانہ پانچ ایکٹر کے پارک میں گھرا ہوا ہے، کمپلیکس 21000 مربع فٹ پر محیط ہے جس میں 8 ہال، آڈیٹوریم، کمیٹی روم اور ہاسٹل موجود ہے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ یہاں ملکی و غیرملکی دانشور، سکول و کالج، یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، ادبی شخصیات کے علاوہ ملکی و غیر ملکی اخبارات و رسائل، ریڈیو و ٹی وی چینلز کتب خانہ کی تحقیقی میدان میں خدمات کو سراہتے رہتے ہیں جس کا ایک سب سے بڑا ثبوت جسے عمارت کی جنوبی دیوار پر آویزاں بھی کیا گیا ہے وہ ہے 2014 میں صدر پاکستان کی طرف سے قومی ورثہ کی حامل تاریخی دینی و ثقافتی و ادبی کتب کو جمع و محفوظ کرنے کی بنیاد پر ”تمغہ امتیاز“ کے اعزاز سے نوازا جانا بھی ہے۔

علاوہ ازیں ساوتھ ایشین لائبریرینز کانفرنس منعقدہ 2016 لائف اچیومنٹ ایوارڈ کی صورت میں اعتراف خدمت بھی شامل ہے۔ ہمیں چغتائی لیب کی اس ٹیم سے بھی شرف ملاقات بخشا گیا جو کہ عرصہ ایک سال سے زائد قدیم کتب کو جدید انداز میں سکین کر کے محفوظ کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔ ابھی تک وہ کوئی دس ہزار سے زائد کتب کو جدید انداز میں محفوظ کر چکے ہیں۔ جدیدیت کی اس مثال کو میں سلام کیے بنا نہیں رہ سکا۔ کہ نادر و نایاب، قیمتی کتب کو محفوظ کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ وہ اس لئے بھی کہ میرے وہ قارئین جو ہلاکو خان سے تاریخ اسپین سے واقف ہیں وہ ضرور جانتے ہوں گے کہ ظالم حکمرانوں نے انسانوں کو تہہ تیغ کرنے کے ساتھ ساتھ کتب خانوں کو کس بے دردی و بے قدری سے نذر آتش کیا۔

یقین جانیے پاکستان جب بھی جانا ہوتا ہے گھر سے واپس دیار غیر جانے کو دل نہیں چاہ رہا ہوتا ہے۔ بالکل وہی کیفیت میری میاں مسعود لائبریری جھنڈیر کو الوداع کہتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی۔ فیصل عجمی یاد آ گئے کہ

تکیہ ہے، مصلی ہے، کتب خانہ ہے
رہنا سہنا تیرے درویش کا شاہانہ ہے

Facebook Comments HS