کشمیر کے جبری گمشدہ افراد کی نصف بیوائیں


کشمیر کو کبھی جنت ارضی کہا جاتا تھا لیکن آج یہ دنیا کا سب سے زیادہ عسکری یا فوجی علاقہ یعنی ہندوستان کے پانچ لاکھ فوجیوں کا گھر بن چکا ہے۔ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ AFSPA جیسے بھیانک قانون کے تحت یہ فوجی کئی عشروں سے جواب دہی یا سزا کے خوف کے بغیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جبری گمشدگیاں، بلا جواز گرفتاریاں، اذیت رسانی، قتل، اور غیر معینہ نظر بندی جیسے ہتھکنڈے لوگوں کے دلوں میں خوف بٹھانے اور مزاحمت سے باز رکھنے کے لئے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ مرد کے مر جانے یا غائب ہو جانے کی صورت میں گھر والوں پر کیا گزرتی ہے۔ مرنے والے پر تو صبر کیا جا سکتا ہے لیکن غائب ہو جانے والے کی بیوی اور اہل خانہ پر جو گزرتی ہے، وہ بیان سے باہر ہے۔ جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے مرد کی بیوی کو نصف بیوہ کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بیوہ عورت کو تو صبر آ جاتا ہے مگر نصف بیوہ تو انتظار کی سولی پر لٹکتی رہتی ہے۔ کشمیر میں پائے جانے والے عدم تحفظ کا سب سے زیادہ نشانہ یہی خواتین بنتی ہیں۔ ان گمشدہ افراد کی ماؤں اور بیواؤں کی زندگی ایک تکلیف دہ سسپنس میں گزرتی ہے۔ ان کے پیارے جنہیں فوجی اٹھا لے گئے، معلوم نہیں زندہ ہیں یا مار دیے گئے۔ جب تک انہیں یہ پتہ نہیں چلتا ان کی ازدواجی شناخت اور مرتبہ بھی ڈانواں ڈول رہتا ہے، وہ نہیں جانتیں کہ وہ بیوہ ہیں یا سہاگن۔

اس سب کے باوجود زندگی تو گزارنی ہے، اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنا ہے۔ جذباتی اور نفسیاتی صدمے کے ساتھ اقتصادی مشکلات سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔ لوگوں کی باتیں الگ سننا پڑتی ہیں اور کم معاوضے والے کام بھی کرنے پڑتے ہیں۔ گمشدہ افراد کے والدین کی تنظیم
Association of the parents of disappeared persons۔ APDP
کے مطابق ’گزشتہ چوبیس سالوں میں ہندوستانی فوجی آٹھ ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو غائب کر چکے ہیں۔ جبری گمشدگیوں کا آغاز 1989 میں جنم لینے والی بغاوت سے ہوا۔ اور تب سے یہ ماورائے عدالت ہلاکتوں، ریاستی تشدد اور ٹارچر کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔

ان گمشدہ افراد کی بیوائیں برسوں ان کے بارے میں کوئی خبر آنے کی منتظر رہتی ہیں۔ انہیں بہت سے سماجی، اقتصادی اور جذباتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جائیداد شوہر کے نام ہوتی ہے اور اس پر عورت کا حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ یہ پتہ نہ چل جائے کہ شوہر زندہ ہے یا نہیں، اسی لئے وہ دوسری شادی کا بھی نہیں سوچ سکتیں۔ شوہر کی گمشدگی کے بعد جب وہ پولیس تھانوں کے چکر لگاتی ہیں تو پولیس والوں کا رویہ عام طور پر ان کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا۔

پولیس ان کی ایف آئی آر درج کرنے سے بھی انکار کر دیتی ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ ان کے شوہر گم نہیں ہوئے بلکہ پاکستان فوجی تربیت لینے چلے گئے ہیں۔ اپنے شوہروں کی تلاش میں یہ عورتیں فوجی کیمپوں، تھانوں اور جیلوں کے چکر لگاتی ہیں۔ ایک طرف تو برادری والے اس کو اچھا نہیں سمجھتے دوسری طرف وہ جنسی ہراسانی کا نشانہ بھی بنتی ہیں لیکن بدنامی کے ڈر سے خاموش رہتی ہیں۔

پیس ویمن آرگنائزیشن کے مطابق قانونی اختیارات ملنے کے بعد سے ہندوستانی فوجی صحافیوں کو رپورٹنگ سے روکنے کے لئے بلا دریغ مار پیٹ، گرفتاریاں اور ٹارچر کرتے ہیں تا کہ دنیا تک ان کے ظالمانہ تسلط کی خبریں نہ پہنچ سکیں۔ 2011 میں سری نگر کے پچپن دیہاتوں میں 2700 قبریں دریافت ہوئیں جن پر کسی کا نام درج نہیں تھا۔ یوں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان مظالم سے آگاہی ہوئی۔ لیکن گمشدہ افراد کی تعداد تو ان قبروں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

جبری گمشدگیوں سے تحفظ کے بین الاقوامی کنونشن کے مطابق ’غائب ہو جانے والا شخص یا اس جبری گمشدگی سے براہ راست متاثر نقصان اٹھانے والا شخص وکٹم یا مظلوم کہلائے گا۔ گویا حقوق صرف گمشدہ شخص کے ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے قریبی لوگوں کا بھی حق ہے کہ انہیں نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کی جائے۔ ‘ دراصل ایک مظلوم کی بدولت بہت سے مظلوم پیدا ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہوتے ہیں، جن کا تعلق ان غائب یا گرفتار کیے جانے والے مردوں سے ہوتا ہے۔

کشمیر کی نصف بیواؤں کی طرح ہر جگہ یہ عورتیں ہی ہوتی ہیں جنہیں خاندان کے واحد کفیل کے غائب ہو جانے کے بعد سماجی اور اقتصادی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ جنسی ہراسانی اور تشدد کے خطرے کا بھی شکار رہتی ہیں۔ اب تو جبری گمشدگیاں ایک عالمی رجحان بن گئی ہیں۔ اور ان کی نئی شکلیں سامنے آئی ہیں۔ اب صرف ریاستی ادارے ہی لوگوں کو غائب نہیں کرتے بلکہ مسلح تنظیمیں، دہشت گرد گروہ اور ڈرگ مافیا بھی مختلف مقاصد کے تحت لوگوں کو اٹھا لے جاتے ہیں۔

ہندوستان میں ویسے تو ناگا لینڈ، میزو رام، مانی پور اور آسام میں بھی جبری گمشدگیاں ہوتی ہیں لیکن سب سے بری صورتحال کشمیر میں ہے۔ سیکورٹی فورسز ہر کشمیری پر مجاہد ہونے کا شبہ کرتی ہیں۔ اس لئے بہت سے مردوں کو لا پتہ کیا جا چکا ہے جن میں دس سال کے بچے سے لے کر بوڑھے تک سب ہی شامل ہیں۔ مجاہدین، ان کے ہمدرد، سیاسی کارکن اور معصوم لوگوں کی ایک بڑی تعداد جبری طور پر گمشدہ افراد میں شامل ہے۔

ہندوستانی فوجیوں کے مظالم کا نشانہ بننے والوں میں گمشدہ افراد کی مائیں بھی شامل ہیں۔ ان میں ایک نام پروینا آہن گر کا بھی ہے۔ وہ ایک ناخواندہ پچاس سالہ گھریلو عورت ہے جس کے انیس سالہ بیٹے جاوید آہن گر کو ہندوستانی فوجی اس وقت اٹھا کے لے گئے جب وہ اپنے ماموں کے گھر میں پڑھائی میں مصروف تھا۔ بیٹے کی گمشدگی سے بے حال ماں نے، ہر تھانے، تفتیشی مرکز اور عقوبت خانوں کی خاک چھانی تا کہ اسے اپنے بیٹے کا اتا پتہ مل سکے۔

اس دوران اس کی ملاقات ایسے بہت سے خاندانوں سے ہوئی جو اس کی طرح اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ تب کشمیر کے انسانی حقوق کے وکلا کی مدد سے پروینا آہن گر نے 1994 میں گمشدہ افراد کے والدین کی تنظیم بنائی۔ اور تب سے یہ تنظیم گمشدہ افراد کے خاندانوں کو متحرک کر کے احتجاج، بھوک ہڑتالیں، مظاہرے اور دھرنے کر کے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

2000۔ 2001 میں انٹرنیشنل ایکشن ایڈ نے کشمیر میں ایک سروے کیا تھا جس سے معلوم ہوا کہ نوجوانوں میں ڈپریشن اور منشیات کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلا کہ پچیس سالہ فوجی تسلط نے ڈپریشن، بے خوابی، خوف، غم و غصہ، نروس نیس، جارحیت پسندی، منشیات کی لت اور خودکشی کے واقعات میں اضافہ کیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف عورتوں نے اٹھائی ہے۔ بلاشبہ عورتیں، نصف بیوائیں، نصف مائیں، نصف بہنیں، نصف بیٹیاں ہندوستان کے جابرانہ قبضے کی بدولت سب سے زیادہ تکلیف اٹھا رہی ہیں۔ وہ بغیر بادبان اور چپووں کے حالات کے سمندر میں ڈول رہی ہیں اور ساحل کا دور دور تک نشان نظر نہیں آتا۔ (ادارۂ بین الاقوامی تعلقات کے قیام کی پچھترویں سالگرہ کی کانفرنس میں پڑھا گیا)

Facebook Comments HS