پاکستان زندہ باد سے بیجوئے شو بھو جاترا تک
ایک ایسی بدنصیب کمیونٹی ( جس کے پرکھوں نے پاکستان کی خاطر تین ہجرتیں کی ہوں ) کے بارے میں واضح اور درست معلومات تو موجودہ پاکستان کے بیشتر عوام جو نا انصافی ’نا اہل اور بدحواس گورننس سے جڑے مسائل اور مصائب کا شکار رہتے ہیں, کے پاس کیا ہوں گی جب کہ سچی ’سنجیدہ اور صحیح خبروں‘ اطلاعات اور معلومات کا فقدان، اگر قحط نا بھی ہو تو اب ہمارے زیادہ تر ذرائع ابلاغ اور اکادمیہ کے پاس بھی عام ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک اور دردناک ( شرمناک ارادتا نہیں لکھا) حقیقت یہ ہے کہ اس کمی کا اول تو کوئی ادراک ہے ہی نہیں اور اگر کہیں کوئی آگاہ ہے تو کوئی خاص رنج و غم بھی نہیں۔ یعنی احساس زیاں بھی نہیں۔ جن حرماں نصیبوں کا آغاز میں ذکر ہوا ان کو اکثر بہاری کہا جاتا ہے ان کے تمسخر سے بلانے کے کئی اور نام بھی ہیں۔
میرا موضوع وہ پاکستانی بہاری ہیں جو پاکستان سے غیر مشروط محبت کرنے کے جرم میں 51 سالوں سے بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصور ہیں۔ ان کے حالات اور ہمارے تعصبات پر میں کئی سالوں سے دہائی دے رہی ہوں۔ کبھی انگریزی اخباروں میں لکھ کر ’کبھی ڈیجیٹل فورمز پر بات کہہ کر‘ کبھی ایڈووکسی مکالمے کروا کر۔ مگر نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔ کیسی معافی کہاں کا کفارہ؟ کئی مواقع پر تو کھل کر مخاصمت سامنے آئی
خیر مجھ کو اپنی نان فنڈڈ کاوشوں کے کامیاب ہونے کی کوئی خاص امید بھی نہ تھی۔ بس اپنے حصے کا دیا جلانے کی لگن رہی۔ بے گھری، بے بسی اور بے وطنی کی اس دلخراش داستان سے نہ ہماری سول سوسائٹی اور نہ ہی میڈیا کو دلچسپی ہے۔ چند بلند آوازیں جیسے ڈاکٹر اقبال احمد، منظور احمد، جمیل الدین عالی یا محمد ضیاءالدین آسودہ خاک ہو چکی ہیں۔
دل چاہتا تھا کہ کاش اس سال 16 دسمبر کو انتظار کے 18628دنوں کا خاتمہ ہو یہ محب وطن اپنے پاکستان کو لوٹ سکیں۔ دل چاہتا تھا کہ کوئی بڑا ادارہ نظریاتی بھی اور نشریاتی بھی، کوئی بڑا شاعر ’ادیب‘ استاد ’کالم نویس‘ انسانی حقوق بشمول عورتوں کے حقوق کا کارکن/ رہنما ان پاکستانی بہاریوں کی آواز بنے ’ان کو ان کے وطن پاکستان واپس لانے کی بات کرے مگر اتنا گہرا اور بوجھل سناٹا! میں اردو اور انگریزی میں 1971 سے متعلق پاکستانیوں کی تحریریں پچھلے کئی سالوں سے بہت غور سے پڑھ رہی ہوں۔
اس سال بھی الفاظ کی اور زبان و بیان کی جادو گری دیکھی۔ اس نگری کے کچھ سامریوں کی تو میں دل سے گرویدہ ہوں۔ سحر زدہ اس لئے نہ ہو سکی کہ میرے اندر تک پاکستان سے عاشقی ہے۔ خمیر ہی ایسا خبطی ہے۔ کیا کروں؟ اس لئے زبان پر عبور اور بیان میں فتور والی تحریروں کو محض اس بناء پر پسند کرنے سے کتراتی ہوں کہ ان میں ڈھاکہ/ کاکول/ ڈی ایچ اے / ریٹائرڈ جنرلز/ پر تو نما نما سا وار طنزومزاح کی اوٹ میں کر لیا جاتا ہے مگر جن سپاہیوں‘ افسران اور بہاری خاندانوں نے جان و مال اور آبرو کی ان مٹ قربانی دی ان کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوتی۔ خیر پسند اپنی اپنی اور تخلیقی ترجیحات اپنی اپنی مگر میں اور میرے جیسے کئی اور لبرلز کیا کریں جو درویشی اور سلطانی دونوں کی عیاری سے واقف ہیں اور اس طرح کی دانشورانہ بد دیانتی کو سہ نہیں پا رہے
ابھی 16 دسمبر کو خاموشی کے ان 51 اذیت ناک سالوں کی مجرمانہ اور شاعرانہ توجیہات پر کڑھ ہی رہی تھی کہ بنگلہ اور انگریزی زبانوں کے اخبارات سے پتہ چلا کہ اس سال محصور بہاریوں کے برباد خاندانوں کے نوجوانوں نے پہلی بار وکٹری ڈے منایا اور شیخ حسینہ واجد سے ان کی حالت زار بہتر بنانے کی اپیل بھی کی۔ نئی نسل کا پاکستان زندہ باد سے بیجوئے شو بھو جاترا (Bijoy Victory/Shobhojatra خوشیوں کے جلوس) ۔ تک کا سفر بے حد کٹھن تھا۔
مگر ان کے لئے کوئی نوبل انعام نہیں۔ ان لوگوں نے نہ بخت سے نہ ہی افلاک سے شکایت کی۔ پاکستان سے ان کو لے جانے والے جہاز کے آنے کے انتظار میں ان تین سے چار لاکھ انسانوں کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ اچھا کیا بچو تم نے یہ فیصلہ کیا۔ اللہ آسانیاں دے۔ آپ برابر کے بنگلہ دیشی کہلائیں۔ وہاں سب کا ڈومیسائل برابر ہو۔
ایک پاکستانی ہونے کے ناتے جس کی ایک شناخت بہارن ہونا بھی ہے میں اس خبر کے نظر انداز ہونے پر نجانے کیوں اداس ہو گئی۔ پھر یہ سوچ کر اپنے آپ کو سنبھالا کہ ان لوگوں سے یہاں والوں کا کیا تعلق جو کوئی تکلیف ہو؟ جب امریکی کانگریس میں اکتوبر میں پاکستان کے خلاف 1971 کے حوالے سے بل ٹیبل ہونے پر کوئی ہلچل نہ مچ سکی۔
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو


