لاپتہ پشو کی کہانی


”کاش کہ وہ مر جاتی، مگر لاپتہ نہیں ہوتی“ ۔ میری بیٹی نے جب بے بس ہو کر یہ ہوک بھری ہچکی لی، تب میں نے جانا کہ لاپتہ ہونا، مرجانے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔

وہ لڑکی جو ”پشو“ پہ جان چھڑکتی تھی، اس کی ذرا سی چھینک پر سب سے لڑ جھگڑ کر اسے لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتی تھی، وہ بھی پشو کی موت کی دعا مانگ رہی تھی۔ اولاد کی تکلیف کہاں دیکھی جاتی ہے۔ اس لئے میں نے اپنے پولیس افسر دوست کو فون کیا۔ پہلے تو اس نے ”لاپتہ“ کے لفظ پر سخت ناپسندیدگی اور چڑچڑے پن کا مظاہرہ کیا۔ مگر میری دوستی نے اسے مجبور کیا کہ وہ علاقے کے ایس ایچ او کو پشو کی بازیابی کا فرمان جاری کرے۔ اور وہیں سے میں نے خود اپنی گمشدگی کا سامان کر لیا۔

پشو ہماری زندگی میں کسی Unwanted بچے کی طرح گھس آئی۔ وہ بچہ جس کو ابارٹ کرنے کے لئے طرح طرح کے جتن کیے جاتے ہیں۔ پھر بھی قدرت کی انگلی پکڑ کر چلی آتی ہے۔ سفید، ملائم، ریشمی بالوں اور بھوری آنکھوں والی یہ ترک نسل کی بلی ہمارے ہمسائے میں رہتی تھی۔ جس کی محبت میں گرفتار ہو کر میری بیٹی مہرو نے بھی ایسی ہی کوئی بلی گود لینے کی ضد بھری فرمائش شروع کردی تھیں۔ جو ہماری فیملی کے دیگر ممبران کی جانب سے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ رد کردی جاتی تھی۔

اس کی ماں جو ہمسائے کے گھر سے واپسی پر اس کے ہاتھ رگڑ رگڑ کر دھلواتی تھی۔ اس کے ہوتے ہوئے بلی کا آنا ناممکن۔ مگر وہ عشق ہی کیا جو معجزے نہ دکھائے۔ ؟ مہرو کی محبت رنگ لائی۔ اور پشو خود ہمارے گھر میں گھس بیٹھ گئی۔ ہوا یوں کہ ہمارے سامنے والے پڑوسی اچانک بیرون ملک چلے گئے، اور پشو کو مہرو کی گود میں چھوڑ گئے۔ یہ سب اتنی خاموشی سے ہوا کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح بروقت کوئی اقدام نہیں کرسکے۔

اور مہرو پشو کو لے کر اپنے کمرے میں دھرنا دے کر بیٹھ گئی۔ گھر میں افراتفری مچی۔ ہر کسی نے بند دروازہ کھٹکھٹایا۔ پیار محبت، ڈانٹ ڈپٹ، دھمکی تھپکی، ہر طرح کی کوشش کی، مگر مہرو پشو کو گود میں لئے بھوک ہڑتال کیے بیٹھی رہی۔ بیٹیوں کی بالآخر بات ماننی پڑتی ہے۔ وہ کسی بلی سے پیار کرتی ہوں، یا کسی ”کتے“ سے۔ تو ہم نے بھی دل پہ پتھر رکھ لیا۔

پشو کی آمد سے پہلے ہم لوگ بھی اس اکثریت میں شامل تھے، جو بلی کو چپل اور کتے کو پتھر مارکر دور بھگاتے ہیں۔ حالانکہ یہ جانور جذباتی طور پر انسان کے بہت قریب ہوتے ہیں، یہ ہمیں پشو کی آمد کے بعد پتہ چلا۔ پہلے پہل تو اسے صرف مہرو کے کمرے تک محدود رکھا گیا مگر محبت اور معصومیت کو کوئی سرحد نہیں روک سکتی۔ دھیرے دھیرے پشو ہم میں سے ایک ایک کی گود تک پہنچ گئی۔

میری بیوی جو مہرو کے ہاتھ دھلوایا کرتی تھی، اب خود سارا دن پشو کو پچکارنے میں لگی رہتی۔ سچ پوچھیں تو پشو نے ہمیں ہر جانور سے ملوانا شروع کیا۔ کتوں سے لے کر چھپکلیوں تک، ڈر سے لے کر کراہت تک، آہستہ آہستہ دور ہونے لگی۔ ان کی جگہ معصومیت، مستی اور شرارت لینے لگی۔ مجھے ذاتی طور پر پشو اس لئے بھی اچھی لگنے لگی کیونکہ اس نے مہرو جیسی لا ابالی نخریلی لڑکی کو جو خود سے اٹھ کر ایک گلاس پانی کا بھی نہیں پیتی تھی، ذمہ دار بنا دیا۔ کسی ماں کی طرح اس کی دیکھ بھال کرنے لگی۔

میری مانیں تو آپ بھی اپنے بچوں کو کوئی کتا بلی، مرغا بکری، کچھ بھی پالنے کو دیں، بہت ذمہ دار بن جائیں گے۔

عید آئی تو پشو بھی کسی فیملی ممبر کی طرح کراچی سے کوئٹہ چلی آئی۔ یہاں بھی وہ سب کی منظور نظر بن گئی۔ لوگوں کا دائرہ وسیع ہوا تو بے دھیانی بڑھ گئی۔ اور اس بے دھیانی میں پشو لاپتہ ہو گئی۔

اف، مت پوچھیں۔ کیسے پاگلوں کی طرح ہم نے تلاش کیا اسے۔ ایک ایک گھر، ایک ایک گلی میں جھانک کر دیکھا۔ کسی نے مار دیا، بند کر دیا، چرا لیا، کہاں ہوگی، کیسی ہوگی۔ وہ تو ابلا ہوا کھاتی ہے۔ کسی کا لمس نہ ملے تو نیند نہیں آتی۔ او میرے اللہ۔ ہمارا بچہ کہاں ہے۔ کون لے گیا؟ ذرا سی آواز، ذرا سی آہٹ پہ چونک پڑتے۔ حوصلے، تسلیاں، دلاسے، امید۔ خاص طور پہ مہرو کو سنبھالنے میں سب لگ گئے۔ مگر ماں کہاں سنبھلتی ہے، جب اس کی گود ویران ہو جائے۔

بیٹی کا دکھ دیکھا نہیں گیا۔ تبھی میں نے پولیس کا پنگا لے لیا۔ پولیس کو چونکہ تگڑا فون گیا تھا، اس لئے پہنچ گئی۔ سب سے پہلے جو اس نے نتیجہ نکالا، وہ یہ کہ پشو لاپتہ نہیں ہوئی ہے بلکہ کسی بلے کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ اس پر شدید احتجاج ہوا۔ تو پولیس نے ہمارے بیچ سے ہی پشو کا چور تلاش کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ میرے بھانجے، بھتیجے اور اڑوس پڑوس کے رشتے دار زیر تفتیش آ گئے۔ ہماری دوستیاں، رشتے، سیال داریاں، محلہ داریاں سب خراب ہونے لگیں۔

سب کو جھڑکیاں اور پھینٹی پڑی۔ سوائے کوڈو کے، جو محلے کا ایک لفنگا تھا اور جانوروں کی خریدوفروخت کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ سب کو یقین تھا کہ پشو کا ملزم سوائے کوڈو کے اور کوئی نہیں۔ وہی اسے اغواء کر کے بیچ آیا ہو گا۔ مگر پولیس نے اسے دوستانہ پوچھ گچھ کے بعد کلین چٹ دے دی۔ گمان کیا جاتا تھا کہ وہ پولیس کا مخبر ہے۔ اس لئے پولیس اس سے بگاڑنا نہیں چاہتی تھی۔ لہٰذا اس تفتیش کی فائل کسی نامعلوم ملزم کے فیتے کے نام کے ساتھ بند کردی گئی۔ لیکن سرکار کی فائل کوئی قبر تو نہیں ہے، جس پر فاتحہ پڑھ کر بندہ اپنے پیارے کو بھول جائے۔

پولیس نے جس کو نامعلوم قرار دیا تھا، ہمارے تئیں وہ کوڈو تھا۔ سبھی کی انگلیاں اس طرف اٹھ رہی تھی میں نے تو مصلحت پسندی کی چشم پوشی لے کر تسلیوں اور دلاسوں پر اکتفا کر لیا، مگر میرے بیٹے اور بھتیجے کے جواں خون نے جوش مارا اور کوڈو پہ دھاوا بول دیا۔ پھر مت پوچھئے کیا ہوا۔ میں ایک طویل دشمنی میں گم ہو کر رہ گیا۔

میری بیٹی نے ڈھائی سال گزرنے کے بعد مشکل سے recover کیا۔ لیکن سچ بتاؤں recover ہم میں سے کسی نے نہیں کیا۔ بات بات پر پشو کا ذکر چھڑتا ہے۔ بات بات پر وہ یاد آتی ہے۔ ہر بلی کو دیکھ کر ہماری آنکھیں بھر آتی ہیں۔ پشو کے کھانے کے برتن، اس کاLitter Boxe، مختلف چیزوں پر اس کی ڈالی ہوئی خراشیں آج بھی ہمارے گھر میں اس کے آنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ کوئٹہ سے اچانک آنے والے ہر فون پر آج بھی یہی گماں گزرتا ہے شاید پشو کی کوئی خبر آئی ہے۔

سب سے بڑی محرومی تو یہ کہ میرے بچے پچھلے دو سالوں سے عید منانے کے لئے کوئٹہ نہیں گئے۔ میری بوڑھی بیمار ماں پشو کو کوسنے دیتی ہے۔ وہ بھی پولیس والوں کی طرح اس بیان پر قائم ہے کہ پشو کسی بلے کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ حالانکہ پشو تو نیوٹر تھی، یعنی اس کا آپریشن کر کے اسے اس حاجت سے آزاد کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اسے کسی بلے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔ مگر میری ماں اور پولیس والے یہ سمجھ بھی لیں، تب بھی ان کے لئے پشو ایک معمولی سی بلی تھی۔ اور کتے بلیاں تو روز سڑکوں پر انسانوں کی طرح مرتے ہیں۔ ان کے ”لاپتہ“ ہونے کو اتنا سیریس کون لیتا ہے!

Facebook Comments HS