الزام تراشی: ہمارا قومی کھیل
الزام تراشی یا بلیم گیم! یہ ہمارا سیاسی اور معاشرتی قومی کھیل ہے۔ اگرچہ سیاست میں ازل سے جھوٹ اور غلط بیانی لازم و ملزوم ہے۔ آج کل اس میں سیاست دانوں کی ذاتیات کے متعلق مغلظات کا استعمال بھی تمام اخلاقی حدود پار کر گیا ہے۔ مخالفین پارٹی کے اراکین بغیر تصدیق کے اس کا شور برپا کرنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن خیر آج اپوزیشن کی باتیں نکلتی ہیں تو کل کو حکومت سے نکلے ہوئے افراد کی بھی نکلتی ہیں۔ یہ بھی اب معمول سا ہوا چاہتا ہے۔ ان سب چیزوں سے شاید مزید خطرناک چیز ہے وہ ”الزام تراشی“ ہے۔ جس میں تصدیق یا تردید کی تو نوبت ہی نہیں آتی اور مقصد صرف خود کو پاکیزہ اور سچ ثابت کرنا ہے۔ اور دوسروں کو ناکامیوں کا ذمہ دار۔
مثلاً نئی حکومت ہر مسئلہ کو سابقہ حکومت کی ناکام پالیسیز پر ڈالتی ہے یا ان کی کرپشن پر۔ اور گزشتہ حکومت آج کل ہر الزام کا ملبہ فوج کے سربراہان اور نئی حکومت پر دھرتی نظر آتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہ جو اچھا ہوا وہ ہم نے کیا اور جو ہم سے برا ہوا یا ہو رہا ہے وہ تمہارا قصور ہے۔ اسی طرح جتنے بھی کسی کے بلند و بانگ دعوے ہوں یا کوئی پائے کے مدلل اور دانشور ہوں (جیسے کچھ صحافی حضرات۔ چاہے وہ مخالفین کے حق میں ہیں یا حکومت کے ) اگر کسی ایک شخص کو آپ سب بگاڑ کا سبب گردانتے ہیں تو بھی میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ اس قومی مسائل اور بگاڑ میں ہر شخص کا کلیدی کردار ہے اور برابر کے حصہ دار ہیں۔
حقیقتاً ہمیں ایسے لیڈر کی تلاش ہونی چاہیے جس کو اپنی صحیح سمت کا ادراک ہو اور جو قوم کو ایک صحیح سمت پر لگا سکے نہ کہ اپوزیشن میں ہو تو حکومت کے خلاف کرے، اداروں کے خلاف کرے یا بل جلوائے اور جب حکومت میں ہو تو اپوزیشن کے مخالف رہے۔ وہ شخص جو حقیقی مسائل کا ادراک کرے، قوم کو سیاست میں شمولیت کے بجائے محنت کی تلقین کرے، معاشرتی و سیاسی بگاڑ کا سدباب کرے اور مخالفین کی بات سننے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ اور سب سے بڑی بات اپنی غلطیاں تسلیم کرے اور درستی و اصلاح کی گنجائش رکھتا ہو ( یہاں پر قطعاً میرا مطلب یوٹرن سے نہیں ہے۔ براہ کرم ایسا لیڈر میں نے ابھی تک موجودہ سیاست میں نہیں پایا لہذا یہ خصوصیات اپنے لیڈران میں ثابت نہ کریں )
ہمارا معاشرتی نظام بھی اسی ”الزام تراشی“ کی بگاڑ ہے۔ آپ کسی بھی فرد سے اس کی زندگی کی ناکامی کی وجہ پوچھیں تو جواب آئے گا کہ فلاں شخص ذمہ دار ہے یا فلاں حالات و واقعات، وگرنہ میں اب بل گیٹس ہوتا۔ جبکہ ایسے شخص کی ناکامی کی واحد وجہ ان کی اپنی ذات ہے۔ اگر آپ حالات واقعات سے صحیح نبردآزما نہیں ہو سکے یا آپ نے کوشش ہی نہیں کی تو یہ سراسر آپ کا قصور ہے۔ یہ بات بالکل درست نہیں کو سب کو سازگار حالات میسر ہوتے ہیں تو وہ کامیابی کی منازل طے کرتے ہیں اگرچہ شروعات میں ایسے سفارشی طریقوں سے آگے آئے لوگ بہت ہوں گے لیکن ان کی یہ مصنوعی کامیابی ان کو کبھی پھلنے پھولنے نہیں دیتی اور بالآخر ان کی اپنی گردنوں کا طوق بن جاتی ہے کیوں کہ ایک حد سے زیادہ یہ وہ ہنر دکھا نہیں سکتے جو ان میں ہے نہیں۔ لہذا کوشش جاری رکھیں۔
ناسازگار حالات کا رخ اپنے حق میں میں موڑنے کی صلاحیت محنت میں ہے۔ جس سے ہمارا نوجوان کسی حد تک نابلد ہے۔ بلکہ اگر کسی دوسرے کو کامیاب یا امیر دیکھے تو اسے اس کی قسمت یا سفارش کا شاخسانہ کہتے ہیں۔ جو سچ ہو بھی سکتا ہے تاہم اس شخص سے بغض رکھنا بھی ضروری ہے؟ بدقسمتی سے اگر وہ ان کا رشتہ دار نکل آئے تو آپ کی ہر محرومی اور نالائقی کا جیسے وہ ذمہ دار ہے، آپ یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ آپ کا اس کی کامیابی اور دولت میں حصہ ہو جبکہ اس کی کامیابی کا سہرا سراسر اس کی اپنی محنت پر ہے۔
اگر کامیاب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہو کہ نامساعد حالات اور مسلسل شکست سے دوچار ہو کر بھی اپنے مقصد پہ ڈٹ جانا ہی ان کی زندگی کو کامیاب کر گیا۔ تاہم آپ نے کبھی امیر اور کامیاب شخص کی اولاد میں اتنی موٹیویشن یا صلاحیت کا وہ معیار نہیں دیکھا ہو گا جو محرومی نعمت سے آتا ہے اور بالآخر کامیابی کا ضامن ہے۔ لہذا اپنی محرومیوں، ناکامیوں، نا مساعد حالات اور غلطیوں کو صحیح سمت میں چینل کرنا سیکھیں اور الزام تراشی کی عادت کو تلف کریں۔
خاص طور پر تمام پھوپھڑ، تائے چاچوں اور ماموں حضرات بمعہ ان کی زوجات سے یہ التماس ہے کہ شادی پر اگر بوٹیاں یا ٹھنڈی پیپسی کی بوتل نہیں ملی تو آپ بھی گھر والوں پر الزام تراشی سے پرہیز کریں اور اپنی مدد آپ کے تحت بوتل ڈھونڈ لیں۔ جئیں اور جینے دیں، آپ کی یہ الزام تراشی بلاوجہ نئی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے۔
سیاست میں بھی بالکل اسی پائے کے رشتہ دار اور شریکے پائے جاتے ہیں۔ جو لیڈران کے غیض و غضب کا رخ مخالفین کی طرف کیے رکھتے ہیں۔ ایسے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداران پارٹی ممبران اور عوام اپنے لیڈران میں موجود غلطیوں کی نشاندہی پر ایسے تڑپ اٹھتے ہیں جیسے کہ کسی نے ان کا تقدس پامال کر دیا ہو۔ ان کی وہ غلط پالیسیز یا غلطیاں جو حکمران خود بھی ماننے کو تیار ہوں یہ جیالے کبھی بھی تسلیم نہیں ہونے دیتے۔ ہر بے وقوفانہ بات کا بھی ریفرنس وکی پیڈیا سے نکال لاتے ہیں اور غیر اخلاقی حرکت اگر ناقابل تردید ہو تو کہتے پھرتے ہیں کہ فلاں کے لیڈر سے تو بہتر ہے اس نے تو اتنا غبن کیا تھا ہمارے لیڈر نے تو چند مرغیاں فروخت کی ہیں انڈے خریدنے کو!
براہ مہربانی! ملک کوئی تجربہ گاہ نہیں کہ یہاں پر ایک کے بعد دوسرے کو آزمایا جائے، یہ سب اپنی غلطیوں کا دفاع کرتے جب نظر آئیں تو سمجھ جائیں ان میں صلاحیت کا فقدان ہے۔ بجائے ان کے مخالفین پر الزام تراشی کرنے سے بہتر ہے کہ لیڈران کو ان کی غلطیوں کا ادراک کروائیں تاکہ ان کی اصلاح ممکن ہو۔ اور خود بھی اپنے گریبان میں جھانکیں کہ شاید کوئی معاشرتی تبدیلی ممکن ہو جائے
حق تنقید تمہیں ہے مگر اس شرط کے ساتھ
جائزہ لیتے رہو۔ اپنے بھی گریبانوں کا
(نامعلوم)

