رسول حمزہ توف کی کتاب ”میرا داغستان“


اپنا آبائی وطن تو ہر شخص کو پیارا ہوتا ہے مگر کچھ لوگ تو اس کی یادوں کو ایسے سینے سے لگا کر رکھتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی متاع جاں ہو۔ اس کی یادوں میں کھو کر کبھی خوش تو کبھی اداس ہو رہتے ہیں۔ جا بجا بکھری یادوں سے بچوں کی طرح بہلتے رہتے ہیں اور اگر اس سے دور ہوں تو اس کی فضاؤں میں واپس جانے کے لیے مچلتے رہتے ہیں۔ بالکل رسول حمزہ توف کی طرح جو ملکوں ملکوں گھوم کر بھی داغستان میں موجود اپنے چھوٹے سے گاؤں ”سدا“ کو نہیں بھولا تھا۔

اپنی جنم بھومی کی بے مثال محبت کا شاخسانہ تھا کہ رسول نے ”میرا داغستان“ کے نام سے شہرہ آفاق کتاب لکھ ڈالی۔ اس کتاب کے لفظ لفظ سے محبت کے سوتے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ رسول کی زندہ دلی دیکھیے کہ وہ پیرانہ سالی میں بھی ایسا بلند قہقہہ لگاتا ہے کہ جوانوں کو شرمندہ کر ڈالتا ہے۔ وہ قدم قدم پر اپنے قاری کو انوکھی اور دل فریب کہانیاں سناتا ہے۔ کہانیاں کہنے کا یہ فن اس نے اپنے باپ ”حمزہ سدا سا“ سے سیکھا تھا جو ہر وقت اسے کچھ سکھاتا رہتا تھا۔ رسول کہتا ہے

”مجھے یاد ہے بچپن میں ابا مجھے گٹھا باندھنا سکھایا کرتے تھے، میں ایک گھٹنے پر اپنا سارا بوجھ ڈال کر زور سے رسی کھینچا کرتا تھا تاکہ گرہ مضبوط بندھے، ایسے موقعوں پر ابا تنبیہ کرتے تھے :

”رسول احتیاط سے کام لو، بالیوں کا دم نہ گھٹ جائے“

اب جب ایسا ہوتا ہے کوئی نظم مجھ سے سنبھالے نہیں سنبھلتی اور میری لگاتار کوشش کے باوجود کوئی مصرعہ نظم کا جزو نہیں بن پاتا تو میں اپنی پوری طاقت سے کام لیتے ہوئے اسے نظم میں گھٹانے کا جتن کرتا ہوں تو ہر ایسے موقع پر مجھے ابا کے الفاظ یاد آ جاتے ہیں،

”رسول احتیاط سے کام لو، بالیوں کا دم نہ گھٹ جائے“ ۔

رسول احساس کی دولت سے مالامال ہے، اس کے نزدیک احساس ہی زندگی ہے، احساس ہی زندگی کا حسن ہے، اس بات کو وہ بہت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔

”آپ نے ایک سینہ تو تیار کر لیا ہے، لیکن اس میں دھڑکتا ہوا دل رکھنا بھول گئے ہیں۔ دو آنکھیں تیار کر لی ہیں، لیکن ان میں فکر کی آب و تاب پیدا کرنا آپ نے فراموش کر دیا ہے اور اس کے بغیر آنکھیں مردہ محسوس ہوتی ہیں۔ ان میں اور انگور کے دو دانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا۔“

زندگی کی شاید سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ یہ کبھی ایک پیٹرن پر نہیں چلتی۔ اگرچہ یہ دریا کی طرح ہمیشہ رواں دواں رہتی ہے مگر اس کا رخ لحظہ لحظہ بدلتا رہتا ہے، اس دریا کی گہرائی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس حقیقت کو رسول ایک مثال سے سمجھاتا ہے۔

”ایک پہاڑی دوشیزہ نے، جو پہلی بار محبت کا شکار ہوئی تھی، صبح سویرے کھڑکی سے باہر سر نکالا اور چلا پڑی: ”اف سر سے پیر تک پھول میں لدے پیڑ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں“

”تمہیں پیڑوں پر پھول کہاں سے نظر آ گئے؟“ اس کی ماں نے سوال کیا ”یہ تو برف ہے، خزاں کا آخری دور بھی ختم ہوا، اب تو جاڑا ہی جاڑا ہے“ ۔

ایک ہی صبح دو مختلف عورتوں کو بہار کی صبح بھی نظر آئی اور جاڑے صبح بھی، ایک نے اسے بہار کی صبح کہا، دوسری نے جاڑے کی۔ میرے واحد وجود کے اندر بھی دو مختلف انسان موجود ہیں ؛ ایک نوجوان ہے دوسرا بوڑھا۔ ایک پھول ہی پھول ہے دوسرا برف ہی برف۔ ایک بہار ہی بہار ہے، دوسرا جاڑا ہی جاڑا۔ ”

رسول اپنے باپ ”حمزہ سدا سا“ سے بے پناہ محبت کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ وہ اپنے باپ کے دوستوں کو بھی نہیں بھولتا۔ وہ اپنے باپ کے ایک قریبی دوست ”ابو طالب“ کا ذکر بارہا کرتا ہے جو باکمال شاعر بھی تھا۔ حمزہ اور ابوطالب میں بہت سی قدروں کی طرح ایک یہ قدر بھی مشترک تھی کہ وہ دونوں پر تاثیر قسم کے کہانی گو تھے اور ان دونوں حضرات کی صحبت کا اثر تھا کہ یہی فن من و عن رسول میں منتقل ہو گیا تھا، وہ خود کہتا ہے

”جس طرح سوپ میں خوشبودار مسالا ملا دو تو اس کی لذت دو چند ہوجاتی ہے، اسی طرح میں اپنی پھیکی داستان میں موقع موقع سے کہانیوں اور کہاوتوں کی جھالر ٹانک کر اسے اور زیادہ دل کش بنانا چاہتا ہوں۔“

رسول کا زندگی کو دیکھنے کا انداز ہی نرالا ہے، وہ چیزوں، رویوں، حالات و واقعات، طور اطوار کو ویسے نہیں دیکھتا جیسے عام لوگ دیکھتے ہیں۔ وہ ہلکی سی نظر سے چیزوں کو گہرائی تک دیکھ لینے کا ہنر جانتا ہے، تبھی تو وہ کہتا ہے

”بیل کی قوت کا اندازہ اس وقت نہیں لگایا جا سکتا جب اس نے جتائی کا کام شروع کیا ہو بلکہ اس کا صحیح اندازہ کام ختم ہونے پہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے نہیں کہ وہ چراگاہ میں گھاس کیسے چرتا ہے بلکہ اس سے کہ وہ ہل کیسے کھینچتا ہے۔ گھوڑے کی تعریف اس وقت نہیں کرنی چاہیے جب آپ زین پر بیٹھ رہے ہوں بلکہ اس وقت جب آپ گھوڑے سے اتر رہے ہوں۔“

رسول صلاحیت کو بینائی، دولت، تعلیم اور مطالعے کا مرہون منت قرار نہیں دیتا۔ اس کے نزدیک صلاحیت کسی اور شے کا نام ہے، وہ شاید اسے خدا کی عطا قرار دیتا ہے، وہ کہتا ہے

”اگر صلاحیت کا تعلق صرف بینائی پر ہے تو کیسے ہوا کہ لیزغین شاعر کوچخورسکی اس کے بعد بھی گیت لکھتا رہا جب خان نے اس کی دونوں آنکھیں نکلوا دی تھیں؟ اگر صلاحیت کا تعلق دولت سے ہے تو اس کی کیا وجہ ہے کہ لیزغین شاعر اتیم امین جو یتیم اور نادار تھا، شہرت کے بام عروج پر پہنچا؟ اگر صلاحیت کا راز تعلیم ہے تو مجھے بتائیے سلیمان استالسکی کو عوامی شاعر کی حیثیت سے اس قدر شہرت کیسے حاصل ہو گئی؟ وہ تو دستخط بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اگر صلاحیت وسیع مطالعہ اور علم و فضل کی دین ہے تو ایسا کیوں ہے کہ میرے واقف کاروں میں بہت سے عالم اور انتہائی پڑھے لکھے لوگ ہیں مگر ایک مصرع بھی نہیں لکھ سکتے؟“

یہ کتاب مجھے حیرتوں کے نئے جہان میں لے جاتی ہے۔ میں رسول حمزہ توف کے گاؤں ”سدا“ کی اچھی خاصی سیر کر چکا ہوں۔ کتاب پڑھتے ہوئے کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے جیسے رسول خود مجھے اپنے گاؤں میں لیے پھر رہا ہے، وہاں کی گلی کوچوں میں ٹہلتے ہوئے لوگوں سے ملوا رہا ہے، کبھی کسی اونچے ٹیلے پر بیٹھ کر فسوں گر آواز میں اپنی نظمیں سنا رہا ہے، کبھی وہ مجھے اپنے عظیم باپ ”حمزہ سدا سا“ کے ساتھ ملوانے کے بعد اس کے دوستوں سے بھی میرا مصافحہ کروا رہا ہے، اس کے باپ کے دوستوں میں سے ”ابوطالب“ کی شوخی و ظرافت، بے ساختگی اور سادہ مزاجی نے طبیعت کو سرور سے بھر دیا ہے اور کتنی ہی بار اس مرد آزاد کا خاکہ میری نگاہوں میں گھوم گھوم جاتا ہے۔

رسول حمزہ توف کا لہجہ کبھی شوخی سے بھرپور ہوتا ہے اور کبھی اس سے رنج و اداسی ٹپکنے لگتی ہے۔ جب وہ اپنے وطن داغستان کو اپنی ماں، اپنی پہلی محبت اور اپنی پہلی دعا قرار دیتا ہے تو مجھے اس حد درجہ محبت پہ رشک آنے لگتا ہے اور میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ اگر حمزہ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ کیا تم بھی ”اپنے داغستان“ سے ایسی ہی محبت کرتے ہو؟ تو میں کیا جواب دوں گا۔

وہ باتوں ہی باتوں میں کبھی ایسا عجیب نکتہ بیان کر جاتا ہے کہ اگلے کچھ لمحوں کے لیے مجھے کتاب کو بند کرنا پڑتا ہے اور میں اپنی آنکھیں موند کر اس انوکھے کلام کی شگفتگی و گہرائی میں کھو جاتا ہوں۔

رسول کا بات سمجھانے کا انداز نہایت دلفریب ہے، وہ نصیحتوں کو پتھروں کی طرح برسانے کا قائل نہیں ہے بلکہ وہ نصیحت کرنے کے لیے مناسب موقع و محل کی تلاش کرتا ہے اور پھر ایک زیرک شہسوار کی طرح تاک کے وار کرتا ہے اور مد مقابل کا کام تمام کر دیتا ہے، لیکن اس کے لیے وہ قبل ازیں مناسب ترین ماحول تیار کرتا ہے۔

رسول کے لہجے میں کوئی تندی و تیزی نہیں ہے، وہ ٹھہر ٹھہر کر آگے قدم بڑھاتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کا ہمراہی بھی اسی مزاج کا ہو، نہ ہو تو اس میں ڈھل جائے، یہ خو شاید اسے پہاڑوں کے قرب نے عطا کی ہے۔

اس کی ہر ہر بات سے محبت کا رس ٹپکتا نظر آتا ہے، یوں لگتا ہے کہ ایک پیر جہاندیدہ اپنی آنے والی نسلوں کو زندگی گزارنے کا سنہرا اسلوب عطا کر رہا ہے۔ ملکوں ملکوں پھر کر رنگ ونور اور روشنیوں کے سیلاب میں نہانے والا رسول اپنے وطن کی محبت میں رطب اللسان ہے۔ وہ پیرس، لندن، ٹوکیو اور کلکتہ کی تعریف ایک دو جملوں میں مکمل کر دیتا ہے مگر اپنے داغستان کی پگڈنڈیوں، چوراہوں، چشموں، ٹیلوں حتیٰ کہ برف، بارش اور مٹی کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتا۔

رسول زندگی کو زندہ دلی کے ساتھ گزارنے کی تلقین کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ زندگی جو تمہیں سکھاتی ہے اسے جی جان سے سیکھو اور پھر اس کو دوسروں کو سکھاؤ، زندگی کے آخری لمحے تک تم کچھ سیکھ رہے ہو یا سکھا رہے ہو۔

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ان گنت بار مجھے یوں لگا کہ رسول نے یہ بات تو میرے ہی لیے لکھی ہے، صرف میرے لیے۔ اور کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ رسول اپنی جہاندیدہ آنکھوں سے گھورتے ہوئے مجھ سے یہ کہہ رہا ہے ”جیسے اس کتاب کو پڑھنے کا حق تھا تم نے ویسے اسے پڑھا ہی نہیں۔“

Facebook Comments HS