گلابی جوتے


شوکیس پر لگے مختلف جوتوں کو بے دلی سے دیکھتے ہوئے اس نے سیلزمین کو اپنی طرف بلایا۔
”کوئی ایسے جاگرز دکھائیں جو پارک میں واک کے لیے ہوں۔“

سیلزمین نے ایک ناقدانہ نظر اس کے پیروں میں موجود جوتوں پر ڈال کر سائز کا اندازہ کرنا چاہا۔ اس کی جذبات سے عاری آنکھوں نے سیلزمین کی نظروں کے تعاقب میں اپنے تیز گلابی رنگ کے جوتوں کو دیکھا اور ایک بھیگی سے مسکراہٹ اس کے لبوں پر رینگ گئی۔

”اتنی جلدی جا رہی ہو؟“ اسد نے نمرہ کو جانے کے لیے پر تولتے دیکھ کر بے چینی سے کہا۔

”بھئی بہت دیر ہو گئی ہے۔ تمہارا بس چلے تو مجھے ہر وقت یہیں بٹھائے رکھو۔“ نمرہ اپنے شولڈر بیگ میں موبائل اور ائر فونز کی موجودگی کنفرم کرتے ہوئے شوخی سے ہنسی۔

”ہاں تو کچھ ہی دنوں کے لیے آتی ہو اور اس میں بھی بس بھاگنے کی پڑی ہوتی ہے۔ میرا کچھ خیال ہے؟“ اسد نے مصنوعی خفگی سے کہا۔

نمرہ اس کی باتوں پر ہنستی ہوئی کمرے سے باہر نکل آئی۔ فرداً فرداً سارے گھر والوں سے ملتی ہوئی نمرہ داخلی دروازے کے بائیں جانب پڑے شو ریک میں اپنے گہرے نیلے رنگ کے کینوس کی غیر موجودگی پر حیران ہوئی جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے رکھ کر گئی۔

”کیا ڈھونڈ رہی ہو؟“ اسد اس کے عقب سے پکارا تھا۔
”میرے شوز کہاں گئے!“ نمرہ شو اسٹینڈ کے آس پاس بکھرے چپلوں میں نظر دوڑانے لگی۔
”یہ تو رہے۔“ اسد نے شو اسٹینڈ کے قریب پڑے تیز گلابی رنگ کے جاگرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

”یہ؟ یہ میرے شوز نہیں ہیں۔ میں نیوی بلیو کلر کے پہن کر آئی تھی۔“ نمرہ کی آنکھیں اپنے جوتوں کی تلاش میں ہنوز بھٹک رہی تھیں۔

”مان لو۔ یہ تمہارے ہی ہیں۔“ اسد کی شرارتی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ نمرہ نے ایک نظر ان تیز آتشی گلابی جاگرز کو دیکھا اور ایک نظر اسد کو ۔

”پہن کر تو دکھاؤ سائز ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔“ اسد نے ہاتھ بڑھا کر ان گلابی جوتوں کو اٹھا لیا اور ٹھیک اس کے پیروں کے سامنے رکھ دیے۔

”اسد! میرے جوتے کہاں ہیں؟ مذاق مت کرو یار مجھے دیر ہو رہی ہے۔“ نمرہ نے جھنجھلا کر کہا۔
”آج سے یہی تمہارے جوتے ہیں۔ وہ بزرگوں والے جوتے میں نے پھینک دیے ہیں۔“ اسد نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
”ہیں! اب میں یہ اتنے تیز رنگ کے جوتے پہنوں گی؟ میرا ٹیسٹ نہیں ہے یہ“ نمرہ کو تو چکر ہی آ گیا۔

”یہ جو خودساختہ بڑھاپا تم نے خود پر طاری کیا ہوا ہے اسے میں جلد اتروا دوں گا۔ فی الحال یہ جوتے پہن کر واپس جانا ہو تو ٹھیک ہے ورنہ پھر دوبارہ کمرے میں چلو مووی پوری کرتے ہیں۔“ اسد نے اس کی حالت سے لطف انداز ہوئے کہا۔

مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق نمرہ نے وہیں پڑے کا ؤچ پر بیٹھ کر جوتے پہنے۔ سائز بالکل ٹھیک تھا۔ اتنا پرفیکٹ سائز کیسے پتہ چلا اسے؟ نمرہ نے دل ہی دل میں سوچا جبکہ اسد اس کے پیروں میں سجے جوتے دیکھ کر خوشی سے جھوم رہا تھا۔

”یس! کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔ اب واک پر بھی یہی پہننا اور تمہیں پتہ ہے میں نے کتنی چھان بین کر کے یہ آرٹیکل پسند کیا ہے۔ اب لگ رہی ہو نا میری دوست۔“

نمرہ نے گھوم پھر دیکھا۔ جوتے واقعی بہت آرام دہ تھے لیکن کلر! لوگ کیا کہیں گے؟ اتنے شوخ رنگ کے جوتے؟ میں پینتیس سال کی ہوں کوئی پندرہ کی تو نہیں۔

اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ اسد کو اور ہنسا گئے۔ ”یار کوئی کچھ نہیں کہتا۔ بس یہ سوچنا کہ میں نے بہت مشکل سے پسند کیے ہیں تمہارے لیے۔ اب یہی پہننے ہیں ورنہ میرا دل ٹوٹ جائے گا۔“ اسد نے آخری جملہ کہہ کر مصنوعی اداسی طاری کرلی۔ نمرہ نے ایک نظر اسد کو دیکھا۔ نظریں ملیں اور دونوں اپنی ہنسی نہ روک پائے۔

نمرہ پینتیس سالہ طلاق یافتہ عورت تھی۔ کم عمری میں ہی اس کی شادی ایک نشئی سے کروا دی گئی تھی۔ حالات کا علم ہوتے ہی نمرہ کے والدین نے فوراً ہی طلاق دلوا دی لیکن نمرہ کے دل میں شادی کو لے کر جو خوف بیٹھا وہ دور نہ ہوسکا۔ اس نے اپنی باقی زندگی اکیلے ہی گزارنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ پھر ایک فیس بک گروپ میں اس کی دوستی اسد سے ہو گئی۔

اسد کینسر جیسی بیماری سے لڑ رہا تھا۔ ڈاکٹرز کو پورا یقین تھا کہ وہ بچ جائے گا اور اسد بھی دلجمعی سے اپنا علاج کروا رہا تھا۔ نمرہ اسلام آباد کی رہائشی تھی اور اسد لاہور کا ۔ نمرہ جس اسکول میں پڑھاتی تھی وہاں اکثر ٹیچرز کو ورکشاپ اٹینڈ کرنے کے لیے لاہور جانا پڑتا تھا۔ نمرہ جب بھی لاہور جاتی اسد خوشی سے کھل اٹھتا تھا۔ اسد کی پوری فیملی بھی ان دونوں کی دوستی سے خوش تھی کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی مورل سپورٹ تھے۔

نمرہ نے وہ گلابی جوتے پہننے شروع کر دیے تھے۔ کچھ لوگوں نے تعریف کی تو کئیوں نے مذاق بھی اڑایا۔ لیکن نمرہ وہی جوتے روز پہنتی اور ان کی تصویر کھینچ کر اسد کو بھی بھیجا کرتی۔ اسد خوشی سے پھولے نہ سماتا اور ہر بار پہلے سے زیادہ توصیفی کلمات ادا کرتا۔

دن اسی طرح گزر رہے تھے کہ کورونا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سب اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ نمرہ لاہور جانا بہت مس کرتی کہ اب کب اسد سے ملاقات ہوگی جبکہ اسد کا نمرہ سے بھی برا حال تھا۔ اس کی طبعیت ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی جا رہی تھی۔ اور پھر وہ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لاکھ احتیاط کے باوجود بھی اسد کو کورونا ہو گیا اور۔ کینسر کے ساتھ کورونا نے اسد کو اس دنیا سے جانے پر مجبور کر دیا۔

نمرہ کو جب پتہ چلا تو وہ بہت روئی۔ روتی رہی یہاں تک کہ اس کے آنسو خشک ہو گئے۔ اس کے لب مسکرانا بھول گئے تھے۔ اس کا دوست اس دنیا سے چلا گیا تھا اور اس کے پاس اس کی یاد میں وہ تیز گلابی رنگ کے جاگرز ہی رہ گئے تھے۔ جنہیں وہ صبح اسکول جانے سے پہلے پارک میں واک کرتے ہوئے استعمال کرتی پھر انہی جوتوں کے ساتھ اسکول بھی جاتی۔ یہ جوتے جیسے اس کی پہچان بن گئے تھے۔ کتنی ہی ٹیچرز نے فقرے کسے۔ کتنی ہی ہنسی اڑاتیں کہ اب تو ان جوتوں کا پیچھا چھوڑ دو لیکن نمرہ سپاٹ آنکھوں سے انہیں تکے جاتی۔

”آؤچ!“ روزمرہ کی طرح اس دن بھی نمرہ نماز کے بعد واک کے لیے پارک آئی ہوئی تھی۔ دوران واک اسے پیروں میں بہت تیز چبھن کا احساس ہوا۔ نمرہ درد سے دوہری ہو گئی۔ اس نے قریبی بینچ پر بیٹھ کر اپنا جوتا اتارا تو پتہ چلا کہ جوتے کا سول پھٹ چکا تھا اور ایک نوکیلا پتھر سول سے گزرتا ہوا اس کے پیر کو زخمی کر گیا تھا۔

نمرہ بمشکل گھر واپس آئی۔ اس نے حسرت سے ان جوتوں کو دیکھا جو اب استعمال کے قابل نہیں رہے تھے۔ نمرہ نے برستی آنکھوں سے ماہ و سال کا حساب لگایا۔ پانچ سال ہوچکے تھے۔ ان پانچ سالوں میں۔ ایک دن بھی ایسا نہیں تھا جب نمرہ نے اسد کو یاد نہ کیا ہو۔ ان جوتوں کو ہمہ وقت استعمال کرنا اسے تقویت دیتا تھا۔ لیکن جوتے اب بوسیدہ ہو گئے تھے اور وقت آ گیا تھا کہ انہیں بدلا جائے۔ وہ بہت بھاری دل کے ساتھ دکان پر نئے جاگرز لینے آئی تھی۔

”میم یہ ٹرائے کریں“ سیلزمین کی آواز پر نمرہ جانے کتنے سالوں کا سفر کرتی ہوئی واپس آئی تھی۔ سیلز میں نے ہلکے گرے رنگ کے جاگرز اس کی طرف بڑھائے۔

نمرہ نے لرزتے ہاتھوں سے گلابی جوتوں کو اتارا اور گرے جوتے پہنے۔ دو قدم چل کر اسے سائز کی درستگی کا احساس ہو گیا۔

”اسے پیک کر دیں“ نمرہ نے میکانکی انداز میں کہا۔
سیلزمین غور سے پھٹے ہوئے گلابی جوتوں کو دیکھ رہا تھا۔
”میم انہیں پھینک دوں؟ آپ یہی پہن جائیں۔“ سیلزمین سے مشورہ دیے بنا رہا نہیں گیا۔

نمرہ نے سلگتی نظروں سے سیلزمین کو دیکھا اور دہکتے ہوئے لہجے میں کہا۔ نئے جوتے میں نے پہن لیے ہیں۔ آپ ان جوتوں کو نئے جوتوں کے ڈبے میں ڈال کر مجھے دے دیں اور رسید بنا دیں۔

سیلزمین بالکل سیدھا ہو گیا اور ویسا ہی کیا جیسا نمرہ نے کہا تھا۔

گھر واپس آ کر نمرہ نے داخلی دروازے میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے اتارے۔ اور ساتھ ہی ڈبے سے پرانے گلابی جوتے بھی نکال کر اس کے برابر میں رکھ دیے۔ کافی دیر تک وہ دونوں جوتوں کو دیکھتی رہی۔ دل بہت اداس ہو رہا تھا جیسے آج پھر اسد کا انتقال ہو گیا ہو۔ وہ حسرت سے ان گلابی جوتوں کو دیکھتی رہی۔ جانے کب رخسار پر ایک آنسو آ کر ٹھہر سا گیا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments