اصغر ندیم سید کی کتاب ’پھرتا ہے فلک برسوں‘ کے خاکے
افسانے میں کہانی اور کردار دونوں مصنف کی انگلیاں پکڑ کر چلتے ہیں اور کبھی اسے چلاتے ہیں، کہانی میں کردار کی شخصیت بنانا مصنف کی چند بنیادی ترجیحات میں سے ایک ہوتا ہے جبکہ خاکہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس ایک ہی شخص ہے، جسے کردار بھی بنانا ہے اور کہانی بھی۔
مگر خاکہ کہانی تو نہیں ہوتا۔
خاکہ کہانی نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی ادھوری، ٹوٹی ہوئی، بھولی ہوئی، مٹائی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں۔ جنہیں افسانے یا ناول میں نہیں خاکے میں بسنا ہوتا ہے۔ جب کوئی کہانی لکھنے والا خاکہ لکھتا ہے تو شاید وہ صاحب خاکہ کو بھی ایک کردار سمجھ جاتا ہے، پھر وہ اس کردار کے گرد موجود کہانیاں تلاش کرنے میں جت جاتا ہے۔ کچھ قصے اور واقعات نکالتا ہے، کچھ انہونی وارداتیں ہوتی ہیں اور کچھ شخصیت کی پرتیں۔
اس بات کا احساس مجھے اصغر ندیم سید کے خاکے پڑھتے ہوئے ہوا۔ جن میں خاکے کا بنیادی ڈھانچہ واقعات کے روپ میں کئی کہانیوں کو جوڑ کر ایک شخص کو ایک کردار بنا دیتا ہے۔ زندگی سے بڑا ایک کردار۔
ان کے خاکوں کی نئی کتاب میں پندرہ خاکے ہیں جو نابغہ روزگار شخصیات کی کہانیاں ہیں، ان خاکوں میں کئی حسین واقعات ہیں تو کئی تلخ یادیں۔ کیونکہ اب ان ہستیوں میں سے بہت سے ہمارے ساتھ نہیں تو کہیں کہیں ان کا مجموعی تاثر رفتگان کی یاد جیسا محسوس ہونے لگتا ہے، مگر جس بات نے مجھے ایک خوف میں مبتلا کیا وہ یہ تھی کہ یہ خاکے اصغر صاحب کی خود نوشت کے پندرہ ابواب لگتے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنی زندگی کی کہانی کو رقم کرنے کا سوچا ہے تو یقیناً ان خاکوں کو لکھتے ہوئے انہیں کئی بار اس بات کا احساس ہوا ہو گا۔ مگر یہ ان کا بڑا پن ہے کہ ان حسین و تلخ یادوں کو انہوں نے اپنی کہانی کی بجائے اپنے دوستوں سے منسوب کرنا مناسب جانا۔
کتاب کا پہلا خاکہ نیاز احمد کا ہے۔ اس خاکے کے واقعات کا دورانیہ تین چار عشروں پر پھیلا ہے۔ اصغر صاحب نے کہیں نہیں بتایا کہ نیاز صاحب کا حلیہ کیسا تھا بلکہ اس خاکے میں انہوں نے اپنے اور نیاز صاحب کے تعلق کو بنیاد بنا کر ان کی شخصیت کی کئی پرتیں کھولی ہیں۔ یہ اس کتاب کا واحد خاکہ ہے جس میں مصنف کی آواز میں واضح احترام اور نیاز احمد کے لئے نیاز مندی محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف نیاز صاحب کی فرد شناسی کے کئی احوال ہیں جو ان کی کئی طرح کے ادبیوں سے رویہ کی صورت میں واضح کیے گئے ہیں تو دوسری طرف یہ خاکہ ایک سیلف میڈ کا درباری آدمی کی داستان حیات محسوس ہوتا ہے۔
زاہد ڈار کا خاکہ ایک شخص نہیں ایک شہر کی معدوم ہوتی تہذیب کا نوحہ ہے۔ یہ لاہور شہر کی ادبی دنیا کاوہ کردار ہے جو کسی پر پوری طرح نہیں کھل پایا اور اس خاکہ کا اختتام اسی راز کے ساتھ ہوا ہے۔ اس بدلتے شہر اور اس کی نئی ترجیحات کو بھلا زاہد ڈار کے علاوہ کس نے اتنی باریکی سے محسوس کیا ہو گا۔ جس شہر سے نہ نکلنے کی خاطر اس نے کئی فوائد کو خیر باد کہا۔ خاکہ ڈار صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو دیکھا تا ہے مگر کچھ واقعات کو لکھتے لکھتے محسوس ہوتا ہے اصغر صاحب کے قلم نے زاہد ڈار کی محبت میں رک جانا مناسب جانا۔
احمد فراز کا خاکہ ایک محبت نامہ ہے۔ اصغر صاحب نے ان کے ساتھ سالوں پر محیط تعلق کی پوٹلی سے کئی واقعات اور ان کے ساتھ کیے مختلف ملکوں کے سفر کی رودادوں سے ان کی شخصیت کو سامنے لانے کی کوشش کی۔ دوسری طرف احمد فراز کی مختلف لوگوں کے ساتھ رویہ کی صورت ان کی ترجیحات اور ان کی شاعری اور صرف شاعری سے محبت کا واضح ثبوت دیا۔ اس خاکہ میں احمد فراز ایک شخص اور احمد فراز ایک شاعر الگ الگ نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ خاکہ اس کتاب کا اس طور منفرد خاکہ ہے کہ اس میں اصغر صاحب نے شخصیت کے ساتھ صاحب خاکہ کے فن پر بھی تبصرہ کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اس انتظار میں تھے کہ میں کب فراز کا خاکہ لکھوں اور لوگوں کو یہ احساس دلاؤں کہ تم لوگوں نے سمجھا نہیں فراز کس قدر بڑا آدمی تھا۔ جس کی شخصیت، نظریات، آدرش اس کے اپنے بنائے ہوئے تھے اور وہ اس کی شخصیت، شاعری اور تعلقات تینوں سے برابر ظاہر تھے۔
عبداللہ حسین کا خاکہ اس کتاب کا اداس خاکہ ہے۔ جسے پڑھتے ہوئے عبداللہ حسین کو جاننے والے کسی بھی شخص کی آنکھیں بھیگ جائیں گی۔ اتنے پیچیدہ آدمی کا خاکہ لکھنا آسان نہیں، اصغر صاحب نے کئی واقعات اور کئی حالات میں عبداللہ حسین کے رویے سے ان کی شخصیت کی پیچیدگیوں کو بیان کیا ہے۔ مگر کئی جگہوں پر اس پیراڈوکس کو انٹی دکھانے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ان سے دور کھڑے ان کی قربت کا احساس بیان کر رہے ہیں۔ عبداللہ حسین کی سختی اور اکھڑ پن میں ایک محبت کرنے والا شخص واضح نظر آ جاتا ہے۔ اپنی کرافٹ کے اعتبار سے یہ سب سے مضبوط خاکے کے طور پر نظر آتا ہے جس میں ایک شخص اپنی شخصیت نہیں ایک احساس سے پہچانا جا رہا ہے۔
یہی صورت حال منیر نیازی کے خاکے میں ہے۔ جو صاحب خاکہ کی شخصیت کے پھیلاؤ اور وسعت کو پوری طرح سامنے لے آتا ہے۔ خاکے میں بھی منیر نیازی جملہ مارنے سے باز نہیں آتے، کئی واقعات میں اصغر صاحب نے جگہ جگہ ان کے جملے پنجابی اور اردو میں درج کیے ہیں، جو درحقیقت نیازی صاحب کی شخصیت کو ہی ریفر کر رہے ہیں۔ یہاں جملوں کے ساتھ ساتھ منیر نیازی کو سمجھانے کے لئے انہیں کے کئی اشعار ہیں جو خاکے کے ساتھ ساتھ چلتے جاتے ہیں۔ عبداللہ حسین کے خاکے کی طرح اس خاکے کا اختتام بھی قاری کو اداس کر دیتا ہے
اے حمید کے متعلق شاید بہت سے لوگوں کو وہ باتیں معلوم نہ ہوں گی جو ان کے خاکے میں ہیں، یہ خاکہ اس طرح سے ایک حوالہ بن جائے گا۔ اس خاکے میں اصغر صاحب نے اپنی ڈرامہ اور ٹی وی کی دنیا کے کچھ واقعات کا ذکر کیا ہے وگرنہ باقی خاکوں میں شعوری طور پر ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ریڈیو سے بہت سارے لکھنے والوں کی وابستگی اور وہاں سے پی ٹی وی تک کا سفر ہو یا حمید صاحب کے ساتھ باہر کے ممالک کا سفر، ان واقعات کے سہارے اے حمید کی شرارتیں، ان کی شخصیت کا کئی جہتوں میں پھیلاؤ بتانا مقصود تھا۔ بہت واضح طور پر ان خاکوں سے ہمارے سرکاری و نجی اداروں کا فن کاروں کے ساتھ رویہ اصغر صاحب نے نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ اس پر طنز بھی کیا ہے۔
فرخ درانی کا خاکہ ایک یاداشت ہے جو شاید مصنف کے لا شعور میں کہیں دبی بیٹھی تھی اور فرخ درانی کا نام آتے ہی زندہ ہوتی چلی گئی۔ اس خاکے میں کئی خاکے ہیں اور مجھے یہ یوں بھی بھایا کہ یہ میرے ملتان کی ایک پرانی قسط کے طور پر میرے سامنے چلتا چلا گیا۔
ان خاکوں میں ایک مختلف خاکہ ناصر علی سید کا ہے۔ ایک بھائی جو اب نہ رہا ہو، اس کا خاکہ لکھنا کتنا مشکل ہے یہ میں جانتا ہوں کیونکہ میں چاہ کر بھی اپنے بھائی کا خاکہ نہیں لکھ پایا تھا۔ یہ اصغر صاحب کی بچپن کی یادداشتوں، خاندان کے احوال اور ان کے بھائی کی موسیقی سے عشق کی داستان ہے۔
نیر مسعود خود اپنی کہانیوں اور خاکوں سے دو مختلف طرح سے اپنے قاری کے سامنے آتے ہیں۔ لکھنو کی تہذیب میں گندھا ہوا ایک نستعلیق آدمی جس کی پوری شخصیت نفاست کے گرد گھومتی ہو، اس کے بارے میں چند سطور سے آگے لکھنا مشکل کام ہے، ایک چھچھورے دوست کا خاکہ لکھنے میں جو سہولت ہوتی ہے وہ ایک سیدھے سیدھے آدمی کے معاملے میں اتنی ہی مشکل میں بدل جاتی ہے۔ شاید اسی لئے یہ اس کتاب کا سب سے مختصر خاکہ ہے۔
آخری خاکہ مسعود اشعر کا خاکہ ہے جو خاکہ نہیں ایک ہم دم دیرینہ کا احوال حیات ہے۔ کئی جگہوں پر یہ تحریر جذباتی ہو جاتی ہے۔ ملتان میں دونوں دوستوں کے قیام کے ایام سے لاہور میں مسعود صاحب کے آخری ایام تک ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس خاکے کو ادوار میں بانٹ کر لکھا گیا ہو۔
ایسی نابغہ روزگار ہستیوں کے بارے میں اتنے بے لاگ انداز میں لکھنا اور کئی نہ لکھے جا سکنے والے قصوں کو رقم کر دینا ان کے گزر جانے کے بعد بھی آسان کام نہیں کہ ایسے لوگ کہا مرتے ہیں۔ مگر ان خاکوں میں یہ سب موجود ہے۔ ان کا بنیادی ڈھانچہ واقعات کی مدد سے ان اشخاص کی شخصیت کو سامنے لانا ہے اسی لئے ان کے بارے میں مصنف کا تبصرہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ ان واقعات اور قصوں سے عیاں ہیں۔
ان پندرہ خاکوں میں کئی اور لوگوں کا ذکر کئی دفعہ آیا تو درحقیقت یہ گزرے زمانے کا قصے ہیں، تاریخ ہے، مگر باقی لوگوں کا یوں ادھور1 ذکر پڑھ کر میرا دل للچایا کہ یہ پندرہ لوگ کم ہیں، مجھے فیض، جعفر خان خاکوانی، جاوید اختر، عطا الحق قاسمی، عبدالرشید، صلاح الدین حیدر، خالد سعید اور مہدی حسن کے بھی خاکے پڑھنے تھے۔


