چلتے گڈے سے کھینچے گئے گنؔے چوسنے کا مزا

کسی دوست کی فیس بک پہ لگائی تصویر توجہ کھینچ چکی تھی۔ سکول کا بستہ کمر پر لٹکائے، کندھے پر ایک بہت لمبا سا، جڑ اور پتوں سمیت گنا اٹھائے، چھوٹا سا بچہ، سڑک کنارے بنے ٹیوب ویل کے سامنے سے گزرتے اپنے گھر کو جا رہا ہے۔ اس کے چہرے کی خوشی اور آنکھوں کی چمک دیدنی ہے کہ وہ مال غنیمت لئے جا رہا ہے۔ اب پتہ نہیں وہ ہمارے بچپن میں کیے کارنامے دہراتا، کسی گنے کے کھیت سے اکھاڑ لایا ہے، کسی آہستہ ہوتے گنے سے لدے ٹرالر سے کھینچ لایا ہے، یا اس سے سڑک پر گرا اٹھا لایا ہے۔ میں تصور میں اسے گھٹنے پہ رکھ پیچھے کر گنا توڑتے، دانتوں سے پکڑ چھیلتا اور دانتوں سے ہی چھوٹی گنڈیری بناتے چوستے دیکھ رہا تھا اور گنے سے جڑی یادیں ابھرنا شروع ہو چکی تھیں۔
یہ قیام پاکستان سے قبل کا زمانہ ہے مسجد دارالفضل کے سامنے نظر آتے گھر کے بڑے کمرے میں پانچ چھ چارپائیوں پہ بستر لگے ہیں۔ کونے پہ اونچی جگہ رکھے لالٹین کی روشنی گھر میں لکڑی جلا خود بنائے کوئلے ماں کے اپنے ہاتھوں کی بنائی مٹی کی انگیٹھی میں دہک رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گھٹنوں پہ رکھے آدھے آدھے توڑے گنے فرش پر پڑے ہیں۔ باہر شدید سردی ہے اور ہم رضائیوں میں لپٹے پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں۔ سب بہن بھائی گپیں مارتے ایک دوسرے کو چھیڑتے سکول کی باتیں کرتے دانتوں سے چھیل کر گنے چوس رہے ہیں اور ماں چھیل کے چھوٹی گنڈیریاں بنا مجھے دے رہی ہے کہ گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔
تقسیم ہند کے بعد مہاجر بن پھر آبائی شہر چنیوٹ کے محلہ گڑھا میں آ بسے ہیں۔ سبزی منڈی نزدیک ہی ہے۔ سردیوں بڑے بھائی ہر چند روز بعد منڈی سے ایک ( شاید پچیس تیس ہوتے ہوں ) گنے کی ”بھری“ یعنی گٹھا اسی بچے کی طرح کاندھے پہ اٹھائے لاتے ہیں اور سرد راتوں کی رضائی کی بکؔل مارے پاؤں لٹکائے گنے چوسنے کی محفل جمتی ہے اور ساتھ ہی مونگ پھلی، ریوڑی، چلغوزوں کے کرچ کرچ توڑے جانے کی آواز ابھرتی رہتی ہے۔ اب میں بھی گنا خود چھیل کے کھا سکتا ہوں۔ اب پونا گنا بھی کبھی کبھار منڈی میں آ جاتا ہے۔ جو نرم اور چھیلنے کھانے میں آسان ہے۔ بس دیسی گنے کی بھری ڈیڑھ دو روپے کی ہوتی ہے تو پونا گنا ڈھائی تین روپے خرچواتا ہے۔
مجھ سے بڑے بھائی وقت سے پہلے سکول کو نکل جاتے ہیں۔ سکول کے سامنے کھیتوں سے مولیاں گاجریں توڑ نمک مرچ لگا کھانے کے ساتھ گنے کے کھیت کے اندر گھس گنے توڑ وہیں چوس چاس منہ صاف کرتے سکول میں آنا ان کے دوستوں کے گروپ کا مشغلہ ہے۔
تعلیم الاسلام سکول ربوہ منتقل ہوجاتا ہے۔ اور ہم بھی وہاں اپنے گھر منتقل ہو جاتے ہیں۔ بھائی کا مشغلہ سکول کے بعد دریائے چناب میں کشتی رانی کے علاوہ کبھی اپنے دوستوں کے کے ساتھ غلیلیں پکڑے چاقو نمک مرچ ساتھ لئے پہاڑی درے سے گزر پچھلی طرف کوٹ امیر شاہ کی طرف جا غلیل سے پرندوں کا شکار کرنا اور وہیں ذبح کر ہضم کرنا ہوتا۔ (چاقو کا یہ شوق یوں قائم رہا کہ شکاگو کے معروف سرجن بن کے ان کی ایک کار کی نمبر پلیٹ ”نائف“ یعنی چاقو اور دوسرے کی ”کولی“ ، سرجری کا ایک نشتر، ہے ) سردیوں کی شام گنے کے کھیت کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
کھیت کا مالک جو لڑکوں کی شرارتوں سے تنگ تھا، قریب آیا اور حلیمی سے تجویز پیش کی کہ میں اس کھیت میں ایک ایک مرلہ کی حد بندی کر دیتا ہوں۔ آپ لوگ معمولی قیمت دے ایک ایک مرلہ کی فصل خرید لو۔ شرارت میں چوری کے احساس سے بچو گے اور میری، نگرانی سے جان چھوٹے گی۔ شاید ایک مرلہ میں اگے گنے کا نو روپے میں سودا ہوا اور اب تیسرے چوتھے سائیکل کے کیریئر پر بندھی گنے کی بھری آنے لگی اور وہی محفل ہوتی اور ہم۔
اچھے موسم میں، چھٹی کے روز ”اپنے کھیت“ میں پکنک کا پروگرام بنا۔ تانگہ بھر پورا خاندان کھانے پینے کا سامان لئے وہاں پہنچ گیا۔ اور درخت کے نیچے کھانا کھانے اور ڈرائی فروٹ اور گنے کے مزے لئے جا رہے تھے۔ کہ دور سے گہری کالی گھٹا اٹھتے نظر آئی۔ اور ابھی سامان سمیٹا بھی نہ تھے کہ سخت ٹھنڈی ہوا کے ساتھ یک دم چھما چھم بارش شروع تھی۔ تانگہ چھوڑ کے جا چکا تھا اور مغرب سے کچھ پہلے ہمیں لینے آنا تھا۔ اب ہم دوڑتے کچھ فاصلے پہ موجود کنویں کے گھنے درخت کی طرف بھاگے۔
اور بھیگتے کانپ رہے تھے۔ ارد گرد دو تین ہی کچے مکان تھے۔ زمیندار دوڑتا آیا اور ہمیں ساتھ لے گیا اور بارش رکنے اور تانگہ آنے تک جس محبت اور چاہت سے اس گھر والوں نے ہماری خدمت کی، آگ کی تپش اور رضائیوں کی گرمی مہیا کی، اس کی چاشنی اور اس کھیت کے گنے کی مٹھاس کی یاد اس گھرانے کے شفقت بھرے چہروں کے ساتھ بھولی تو کبھی نہیں مگر گنا اٹھائے چلتے بچے کے پیچھے ٹیوب ویل اور درخت دیکھ سب پھر سامنے آ گئی۔
زمانہ بدلتے آزمائش آتے دیر نہیں لگتی۔ انیس سو پچپن میں لائل پور، جھال خانوانہ پل کے بالکل قریب سمندری روڈ شروع ہوتے ہی، کہ اب وہ جگہ سڑکوں پلوں نے سنبھال لی ہے۔ انتہائی مختصر سرمائے سے کاروبار شروع ہے۔ دسویں کا طالب علم ہوتے بھی میں سکول کے بعد دکان پہ آ جاتا ہوں۔ ساتھ ہی ایک دکان میں محصول چونگی دفتر ہے۔ کریسنٹ شوگر ملز چالو ہو چکی اور وہاں گنا سپلائی کرنے کے لئے جاتے گڈے، بیل گاڑی، راہداری لینے رکتی ہیں اور پیچھے محلے کے بچے لڑکے گنے کھینچنے پہنچ جاتے ہیں۔
گڈے کے اوپر چوکس بیٹھا بندہ ایک طرف کے لڑکوں کو روکتا ہے تو دوسری طرف سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ سارے رستے آبادیوں میں شوگر مل تک پہنچتے اس کے ساتھ یہی کچھ ہونا ہے۔ سائیکل چلاتے لوگ بھی گنا کھینچ چھیلتے چوستے بلکہ ”چوپتے“ نظر آتے ہیں۔ دکاندار بن چکے اب ہمارا من للچاتا تو ہے مگر ہمت نہیں پڑتی۔ ایک ادھیڑ عمر شخص آتا ہے اور چلتے گڈے سے گنا کھینچ دوڑ لگاتے میرے سامنے سے گزرتا ہے اور مجھے حیرت سے دیکھ، رک کے کہتا ہے، ”باؤ جی۔ گاؤں میں میری اپنی زمینوں پہ کماد کی فصل ہے، مگر قسمے، جو مزا اس طرح گڈے سے کھینچا گنا چوسنے میں آتا ہے نا، وہ بس اور ہی ہے۔“ اس بچے کو دیکھ وہ بات سچ ہی لگی۔
کالج کا زمانہ شروع ہے۔ گہری دوستی دو زمیندار گھرانوں کے لڑکوں سے بنتی ہے۔ چھٹی والے دن میں اور میرا ہم عمر بھانجا نہر کنارے سائیکل چلاتے کوئی دس میل دور منشی والا، اکرم ( بعد میں ڈائرکٹر فنانس ریڈیو پاکستان ) کے گاؤں پہنچ جاتے ہیں۔ امرود کے باغ سے تازہ امرود اور بیل سے چلنے والے بیلنے کی لمبی لکڑی پہ ٹانگیں لٹکائے بیٹھے سامنے گنے کے ڈھیر سے اکرم کے چن چن کے دیے گنے چوسنے کا فوٹو اب بھی اس دن کی یاد دلاتا ہے۔ اور کہیں آئی پیڈ پہ محفوظ کیا نظر آ جاتا ہے۔
گڑ میرا پسندیدہ کھاجا اور سویٹ ڈش آج تک ہے۔ کبھی اکرم اور کبھی اوجلہ چک 192 مرید والا سے سلیم اختر ( بعد میں سیاست کا کھلاڑی ) ، جب گنڈیال پڑتا تو مونگ پھلی بادام میوے گری ڈال کر خصوصی میرے لئے بنوائے گڑ کئی برس بھیجتے رہے۔
گڈے ٹریکٹر ٹرالی میں بدل گئے اور پوری سڑک کی چوڑائی تک پھیل گئے اور شوگر ملیں ایک دو بیس تیس ہو گئیں تو سڑک کے موڑ یا کسی اور جگہ آہستہ ہونے پر ہی لڑکے بچے پیچھے بھاگتے اور کنڈکٹر اوپر بیٹھا لمبے گنے پکڑے انہیں مارتا ہٹاتا نظر آتا مگر اب موٹر سائیکل سوار پاس سے گزرتے ہاتھ مارتے گنا کھینچتے، جیسے آج کل چلتی بائیک سے پرس چھینتے ہیں۔
کار پر لاہور جاتے دیکھا نظارہ بھی کیا تھا۔ آگے گنے کی ٹرالی جا رہی تھی۔ بس کراس کرتے آہستہ ہو گئی اور بس کنڈکٹر پچھلے دروازے کے پائیدان پہ کھڑا ٹرالی سے گنے کھینچ اندر پھینکتا جاتا۔
سرگودھا جاتے چنیوٹ دریائے چناب کے پل پر بعض اوقات ٹریفک کئی گھنٹے جام رہتی۔ وجہ وہی گنے سے لدی ٹریکٹر ٹرالے تھے۔ اور باقی مجبوراً رکی ٹریفک کی موج اور ٹرالی والے کی شامت رہتی۔ سرگودھا جاتے ایک مرتبہ بچوں کو یہی داستانیں سناتے بہت دھیمی رفتار سے چلتے گنے کی ٹرالی کے ساتھ کار چلاتے جا رہے تھے تو دونوں بڑی بیٹیوں نے فرمائش کی کہ ہم نے بھی گنے کھینچنے ہیں۔ ٹرالی کے اوپر بیٹھے کنڈکٹر کو متوجہ کر کے اس سے اجازت طلب کی بچیاں خود گنے کھینچنے چاہتی ہیں۔ تو وہ کہنے لگا کہ بہت سخت باندھے ہیں نکلیں گے نہیں ان سے۔ پھر اوپر سے چن چن کے اچھے چند گنے کھڑکی سے پکڑا دیے۔
سرکلر روڈ پہ کاروبار شروع کیا تو ریل بازار کے قیصری دروازہ کے قریب گلی کے موڑ پر گرمیوں میں برف بیچنے والے دو بھائی سردیوں میں گنڈیریاں بیچتے اور دکان بند کرتے میرا معمول روزانہ گنڈیریاں ان سے لے جانے کا ہوتا۔ میرے جاتے وہ خصوصی، گنے کے نچلے حصے کی گنڈیریاں کاٹ مجھے دیتے۔ پندرہ برس پہلے آخری مرتبہ فیصل آباد گیا تو ویسی ہی گنڈیریاں دوبارہ کھانے کا شوق پورا ہوا۔ کینیڈا آ آباد ہوئے تو یہ عیاشی خواب ہوئی۔
مگر پھر ائر پورٹ روڈ برامپٹن کے اتوار بازار میں گنے کا رس بیچتی ریڑھیاں نظر آئیں اور اب شاید کافی دکانیں پان جوس کی کھل چکیں جن میں سے کوئی کوئی گنے کا رس بھی تازہ نکال بیچتا ہے۔ گنا بھی دو تین فٹ کے ٹکرے چینی سٹور پہ کبھی آتے ہیں مگر ایک تو ویسے سوکھ چکے ہوتے ہیں دوسرے اب چھیلنے کاٹنے والے دانت کہاں سے لائیں۔ البتہ ہمارے انڈین پنجاب کے سکھ بھائیوں کے گروسری سٹورز سے ڈرائی فروٹ ملا، مصالحہ والا دوسری کئی قسموں کا گڑ اور گڑ کی ریوڑیان، پنؔے، مرونڈے کی اتنی ورائٹی مل جاتی ہے جو انتہائی بچپن میں اپنے ننھیال جاتے پنڈی بھٹیاں کی منڈی میں نظر آتی تھی۔
سامنے وہی بچہ فوٹو میں گنا کندھے پہ ٹکائے بستہ پشت پہ لٹکائے اس گنے کے لذت کا تصور کیے خوشی بھری مسکراہٹ اور چمکتی آنکھیں لئے کھڑا ہے اور میرے کانوں میں پینسٹھ برس قبل سنا فقرہ گونج رہا ہے ”باؤ جی، گاؤں میں میری اپنی زمینوں پہ کماد لگا ہے مگر جو مزا گڈے سے کھینچ گنا چوسنے میں ہے۔“
تب مجھے ریلوے روڈ کے چارٹرڈ بنک کے سامنے گرجا کے دروازے پر پر کھڑے گنے کے رس والا ریڑھی بان یاد آتا ہے جو گنے کا تازہ رس نکال برف ڈال اوپر لیموں نچوڑ مجھے ایک آنہ میں دیا کرتا تھا۔ وہ ایک آنہ جو گھنٹہ گھر کے پاکستان ماڈل ہائی سکول سے ستیانہ روڈ ریکس سنیما کے نزدیک گھر تک آنے کے لئے میرے پاس تانگے کے کرایہ کے لئے ہوتا اور سردیوں میں بجائے تانگہ کے کوئی تین میل کا یہ سفر پیدل کرتا کہ گنے کے تازہ برف پڑے لیموں کے قطروں کے رس کے گلاس کا مزا لے سکوں۔
اب پتہ نہیں اس ایک آنے کے رس کے گلاس میں زیادہ مزا تھا، یا اس ادھیڑ عمر بندے کے گاؤں میں اپنے گنے کے کھیتوں کے مالک ہوتے گڈے سے چھینے گئے گنا چوسنے میں۔ یا ٹیوب ویل کے قریب سے پشت پر بستہ لٹکائے لمبا سا گنا اٹھائے آتے بچے کے چہرے ہونٹوں پہ چھائی خوشی اور آنکھوں کی چمک میں۔


