”خوشبو“ کے حصار میں
میں دس گیارہ سال کی تھی جب میرا ”خوشبو“ سے پہلی مرتبہ تعارف ہوا۔ میری ایک کزن تھی اس کے پاس ایک پاکٹ سائز کتاب تھی جس میں پروین شاکر کا تعارف، منتخب کلام، انٹرویوز اور اس کی وفات کے بعد مختلف ادبی شخصیات کی آراء اور تعزیتی اشعار درج تھے۔ میں نے وہ کتاب کئی بار اپنی کزن کے ہاتھ میں دیکھی تھی اور یونہی جس طرح بچے شوق شوق میں پوچھتے ہیں، میں نے بھی اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا؛ یہ ”خوشبو“ ہے۔ میرے پاس اس وقت خوشبو کا صرف ایک تصور تھا اور وہ پھولوں اور سینٹ والا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ خوشبو الفاظ اور افکار میں بھی ہو سکتی ہے۔
میں نے اسے پڑھنا چاہا تو طفل مکتب ہونے کے ناتے خیال کی گیرائی اور گہرائی کو سمجھنا تو کیا سب کچھ سر سے دس بارہ میٹر کی بلندی سے گزر گیا۔ ناچار اسے رکھ چھوڑا۔ کچھ سال اور بیتے، میں ہائی سکول تک آ گئی تو ایک دن وہی ”خوشبو“ پھر میرے ہاتھ لگی۔ اب کی بار اسے پڑھا تو مفہوم کچھ واضح ہونے کی وجہ سے پڑھنے میں لطف آیا۔ لیکن یہ ”خوشبو“ مکمل نہیں تھی۔
مکمل ”خوشبو“ میں نے پہلی بار دسمبر 2016 میں پڑھی تھی۔ اسی بے رحم دسمبر میں جس نے ”خوشبو“ کی سفیر کو ہم سے چھین لیا تھا۔ سوچ کی نیم پختگی کا دوش تھا یا پھر میرے معیارات ہی درست نہیں تھے کہ کئی نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا میری پیشانی شکن آلود ہوئی ہے۔ لیکن خوبی دیکھیے کہ میرا خوشبو سے تعلق نہیں ٹوٹا۔ ڈیڑھ دو برس مزید گزرے اور ”خوشبو“ پھر سے میرے ہاتھ میں تھی۔ اس مرتبہ لفظ و معنی کے رشتوں کی بہت سی رموز کھل کر سامنے آئیں۔ میں نے ”خوشبو“ کی نزاکت اور حساسیت کو اور شدت سے محسوس کیا۔
اور ابھی آج کل میں کچھ دنوں کے لیے فارغ تھی۔ کچھ پڑھنے کا جی چاہا۔ لیکن نثر نہیں۔ شاعری میں پھر سوال اٹھا کہ کسے پڑھا جائے؟ فیض، ندیم، فراز، ناصر، ساحر، ساغر۔ نگاہ انتخاب ان سب کو چھچھالتی ہوئی پروین شاکر پر آن ٹھہری۔ خوشبو کا یہی تو کمال ہے، کوئی زنجیر نہیں ڈالتی اور اسیر کر لیتی ہے۔
میں نے تنقید کا لینز لگائے بنا خوشبو کو پڑھنا شروع کیا اور مجھ پر منکشف ہوا کہ تعصب کس طرح فطرت سے قرب اور وارفتگی کے اظہار کو ”بے نظریاتی“ اور سوچ کے ”خام پن“ کا نام دیتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے جن لوگوں نے پروین کی شاعری میں صبا کی سرگوشیاں، کلیوں کا چٹکنا، موسم گل کی پذیرائی کے نغمے، ساون کی بوندوں کا رقص سنا، انہوں نے اس کے پس منظر میں بھیڑیوں کے غراہٹ نہیں سنی۔ ان کو پروین کا چنبیلی پر جھکنا دکھائی دیا مگر اسی چنبیلی کے عقب میں اس کی گھات میں لگے ناگ کے پھن نظر نہ آئے۔ اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نقاد کتنا بہرہ اور کتنا کم نظر ہے۔ مگر نقادوں کا کیا ہے، انہوں نے تو کیٹس پر بھی ”فرار“ ( escapism ) کی تہمت لگائی۔
”خوشبو“ اور اس کے علاوہ بھی پروین کا جتنا بھی کلام ہے اس میں صنعتی و فنی خوبیوں اور خامیوں سے ہٹ کر دیکھیں تو جو چیز سب سے نمایاں ہے وہ ”سچائی“ ہے۔ مثلاً اگر محبت کی بات ہو تو پروین نے روحانی اور زماں و مکاں سے ماورائی محبت کا پرچار نہیں کیا۔ اس نے محبوب کا وصال مانگا اور جسم و جاں کے سب تقاضوں کے ساتھ مانگا۔ اس نے جھوٹ یا پرہیزگاری کی ملمع سازی نہیں کی۔ یہیں اس کی ذات کا پندار بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔ وصل کی تمنا ضرور تھی مگر اس نے کہیں بھی مناجات کو منت میں تبدیل نہیں کیا۔ اس نے اپنے غرور اور اعتماد کو شکستہ نہیں ہونے دیا۔
لوگ کہتے ہیں ”خوشبو“ میں کوئی تحریک، فلسفہ یا نظریہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی ”ازم“ نہیں ہے۔ ایسا کہنے والوں سے پوچھنا بنتا ہے کہ محبت سے بڑا نظریہ اور انسان دوستی سے بہتر فلسفہ کون سا ہے؟ یا پھر بڑا شاعر ہونے کے لیے سر پر کسی مکتبہ فکر کا عمامہ یا گلے میں کسی متنازعہ موضوع کی مالا ہونا ضروری ہے؟
اگر ”خوشبو“ کسی بھی طرح کے ”ازم“ سے مبرا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ پھر خوشبو ہے کیا؟ ”خوشبو“ سادگی اور معصومیت، جذبات کی جنوں خیزی، محبت کے اولین دنوں کی سرشاری اور خواہشوں کی تتلیوں اور خوابوں کے جگنوؤں کے پیچھے لپکنے کا سفر ہے۔ وہ سفر جو فطرت اور زندگی سے محبت کے جذبے سے شروع ہوا اور ”ہونے“ کے دکھ میں ڈھل گیا۔
”خوشبو“ میں محض ایک نوخیز لڑکی کا چنچل پن، خوشبو کا تعاقب، ہوا کی شرارتیں، حنا کی لالی، گلوں کی شگفتگی، باد و باراں کی اسیری، رومان، شبنم کی چمک، تاروں کی مسکراہٹ ہی نہیں اس میں بے ردائی و بے اماں ہونے کا دکھ، تنہا راتوں کا کرب، تہذیب کی بیڑیوں کی کھڑک، محبت کی نارسائی کی اذیت، ان چاہے اسفار کی گرد اور تھکن، ان چاہے رشتوں کی ہمراہی کا عذاب، ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں، ہوا کی زد میں آئے امید کے چراغوں کی پھڑپھڑاہٹ، اشکوں کی نمی، پرانی رفاقتوں کی راکھ۔ سبھی ہے۔
اس نے اظہار پر جبر اور قدغن کی شکایت کی، اپنی محرومیوں کا تذکرہ کیا اور لغت نویسوں نے اسے ”فیمن ازم“ کہا۔ فیمن ازم میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ پروین کا فیمن ازم ”اڈاپٹڈ“ یا اوڑھا ہوا نہیں ہے۔ وہ آپ بیتی ہے۔ پروین کا فیمن ازم اس کی ہم عصروں کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کے فیمن ازم سے بہت مختلف ہے۔
”خوشبو“ کو پڑھتے ہوئے جس المیے نے پوری قوت سے اپنا ہونا جتایا وہ پہچان اور شناخت کا المیہ تھا۔ پہچان اور شناخت وہ حق جو ایک عورت کو کسی پدرسری نظام معاشرت میں آسانی سے نہیں ملتا۔ آخر وہ کون سا دباؤ تھا کہ اس نے خوشبو کی دو سو چھبیس غزلیں اور نظمیں لکھ ڈالیں مگر ایک بار بھی اپنے نام کے ساتھ اپنے خیال آشکار نہیں کیے۔ کوئی وجہ تو ہوگی۔ میں نہیں مانتی کہ یہ اس کا انتخاب تھا۔ یہ یقیناً اس کی خاندانی، معاشرتی یا مذہبی مجبوری تھی کہ وہ اپنے فن میں اپنا نام تک لکھنے سے قاصر تھی۔
( کتاب کو اپنے اصل نام سے شائع کروانا ایک اور امر ہے، اس مرحلے تک آتے آتے انسان جرات کے کئی زینے طے کر لیتا ہے، مگر اپنے اولین کلام میں اپنے تخلص کے استعمال سے یکسر احتراز قابل غور ہے )
”خوشبو“ میں زبان و بیان، استعاروں، اشاروں، علامتوں، تشبیہات، تلمیحات، محاورات اور دیومالاؤں کا پورا ادراک شامل ہے۔ آپ خوبصورت زبان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ادائیگی میں ہلکے معنی میں گراں اور شدت میں سنگین۔ ”خوشبو“ میں ایسے بے شمار اشعار اور مصرعے موجود ہیں۔
میں جنریشن زی سے ہوں، میرے کلام کا مرکز ”خوشبو“ کے تھیمز سے کافی مختلف ہے۔ خوشبو کی اشاعت ( 1976 ) اور آج کے اس ریویو میں تقریباً نصف صدی کا عرصہ حائل ہے۔ میں ذاتی طور پر ان سارے مضامین جو خوشبو میں باندھے گئے ہیں سے کوئی خاص رغبت نہیں رکھتی۔ مگر اس کے باوجود خوشبو مجھے اپنی طرف کھینچتی رہی ہے۔ اس کا حصار میرے اطراف سے کبھی نہیں ٹوٹا۔ ایک سچی بات، بھلے آپ اس کے پرچارک ہوں، بھلے نا ہوں اپنے اندر ایک دلکشی ضرور رکھتی ہے۔ اس سے لگاؤ ہو جاتا ہے۔ خوشبو پڑھنے کے بعد آپ لگاؤ کی ایک ڈور اپنے اور خوشبو کے درمیان بندھے ہوئے لازماً محسوس کریں گے۔
آپ کبھی بھی اردو شاعری کی تاریخ سے پروین شاکر کو منہا نہیں کر سکتے۔
( بعض اوقات مجھے یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر خوشبو آج کل میں لکھی جاتی تو اس کا عنوان کیا ہوتا؟ شاید ”سموگ“ ہوتا۔
پروین نے 65 اور 71 کی جنگیں ضرور دیکھی ہیں مگر اس کا واسطہ بم حملوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے پسماندگان سے نہیں ہوا ہو گا۔ نہ اس نے بوری بند لاشیں دیکھیں، نہ تیزاب سے جھلسے چہرے دیکھے، نہ انیس سال کے ان جوانوں کی پھندوں سے لٹکی لاشیں دیکھیں جن کے چہروں پر خوش حالی کی سرخی تھی۔
مجھے بڑا رشک آتا ہے جس طرح خوش آہنگ طائروں کی منقار، برسات کی پھوار، سمن و گلاب کی مہکار نے اسے اردگرد کو فراموش کر دینے پر مجبور کر دیا۔ ایک ہم ایسے ہیں کہ سہرا لکھنے بیٹھیں تو نوحہ لکھ کر اٹھتے ہیں )
